یمن میں باغیوں کا قبضہ، حکومت کا سخت ایکشن لینے پر غور

صنعا// یمن میں آئینی حکومت کی کابینہ نے جلد از جلد ممکنہ وقت میں ملک کی تمام اراضی کو ملیشیا کے قبضے سے آزاد کرانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایکشن لینے پر غور کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق عدن میں منعقد ایک اہم اجلاس میں  الزام عائد کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی بین الاقوامی حمایت کے حامل سیاسی حل کی جانب ہر اقدام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ کے نئے محاذ کھول لیتی ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کابینہ کے مطابق یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایرانی نظام کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بننے کے بعد ملیشیا کا فیصلہ اب اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہا۔ یمنی حکومت نے باور کرایا کہ ملیشیا کی جانب سے کامیابیوں کے کھوکھلے دعوؤں کا مقصد اپنے پیروکاروں کو یہ اشارہ دینا ہے کہ وہ اب بھی زمینی طور پر پیش قدمی کی قدرت رکھتی ہے، جب کہ باغیوں کے پیروکاروں کو یہ یقین ہو چلا ہے کہ اب حتمی طور پر باغیوں کا اختتام قریب آ چکا ہے۔ یمنی کابینہ کے مطابق منصوبہ بندی کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب دنیا اور عالمی برادری کی جانب سے یمن اور اس کی آئینی قیادت کو حاصل سپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ یمن خطے میں علاقائی اور عالمی مفادات کے حوالے سے کس حد تک جیو پولیٹیکل، اقتصادی اور اسٹریٹجک سیکورٹی اہمیت رکھتا ہے۔ کابینہ نے سیاسی، انسانی، امدادی، اقتصادی اور باغیوں کے خلاف عسکری نوعیت کی ان تمام کوششوں کو گراں قدر قرار دیا جو یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کی جانب سے سعودی عرب کے زیر قیادت سامنے آ رہی ہیں۔