یتیم ٹرسٹ کے زیر اہتمام یتیم خانہ گلشن اطفال کی عمارت کا سنگ بنیاد

بانہال // بانہال میں گزشتہ تیراں برسوں سے یتیموں اور بے سہارا بیواوں کی کفالت کیلئے کام کرنے والے جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کی طرف سے یتیم خانہ گلشن اطفال کی زینہال، بانہال میں نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس تقریب کے موقعہ پر سرپرست اعلیٰ جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ ظہور احمد ٹاک مہمان خصوصی کے طور تھے جبکہ بانہال، چملواس ، بنکوٹ ، کسکوٹ ، زینہال ، عشر ، لامبر ، نوگام وغیرہ کے درد دل رکھنے والے ذی عزت شہری یتیم خانہ گلشن اطفال کی سنگ بنیاد کی تقریب کے موقع پر موجود تھے۔ اس موقعہ پر برلب کسکوٹ – لامبر رابطہ سڑک پر گلشن اطفال زینہال ، بانہال کے یتیم بچوں کے قیام و طعام کیلئے ایک ہوسٹل ، ریڈنگ روم ، تعلیم گاہ اور دفتر کیلئے ایک دو منزلہ عمارت کی سنگ بنیاد ڈالی گئی۔ اس موقع پر مقررین نے یتیموں کی کفالت اور انکے مستقبل کیلئے سماج کی مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سماج کے یتیموں ، بے سہاروں ، محتاجوں اور ناخیزوں کی انسانیت کی بنیادوں پر مدد کرنا ہم سب کا فرض ہے اور یتیموں اور بیوائوں کی کفالت کیلئے اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے واضح احکامات موجود ہیں۔ اس موقعہ پر جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ ظہور احمد ٹاک نے قرآن و حدیث کی روشنی میں یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد کیلئے احکامات اللہ اور احکام رسول کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے حقوق نماز روزہ زکوٰۃ اور حج کے علاؤہ انسان پر ہمارے معاشرے اور انسانوں کے حقوق کی پاسداری نہایت ہی اہم ہے کیونکہ اللہ رب العالمین بندے اور اللہ کے درمیان معاملات کی کوتاہی کو اپنے فضل و کرم سے اگر چا ہیں تو معاف بھی کر سکتے ہیں لیکن انسانوں یا بندے کے حقوق کی بھر پائی یہاں یا دوسری دنیا میں ادا کرنے ہی ہیں ۔ ظہور احمد ٹاک نے کہا کہ 1976 میں جب ان کے مغفور و مرحوم والد نے جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایا تھا تو اس وقت ڈھونڈ کر یتیموں کی نشاندہی کی جاتی تھی اور پھر انہیں ٹرسٹ کی طرف سے ضروری اخراجات کی مدد کی یقین دہانی کے بعد ہی تعلیم و تربیت کیلئے مائل اور کائل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس ادارے کے قیام کے پندرہ سولہ سال بعد ہی ریاست میں یتیموں اور بیواؤں کی اسقدر تعداد بڑھ جائے گی کہ آج ہر گھر ہر گاؤں اور ہر محلہ سوگوار ہے اور یتیموں اور بیواؤں کی ایک بھاری تعداد ہمارے سماج کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا یتیموں ، بیواؤں اور محتاجوں کی کفالت ہم سب کا دینی اور مشترکہ فریضہ اور ذمہ داری ہے اور اس کیلئے ہم سب کی کوششوں سے ایک یتیم کو بہترین تعلیم و تربیت اور دین و دنیا کی ضروری تعلیم اور بہترین مستقبل سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے – انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کی طرف سے ریاست کے اکناف و اطراف میں 80 یونٹ آپ لوگوں کے تعاون سے چل رہے ہیں اور اب تک بہت سارے یتیم ان اداروں کی مدد سے زندگی کے مختلف شعبوں میں اعلی اور اچھے سرکاری عہدوں پر فائز انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے بانہال کے عوام خصوصاً زنہال اور اس کے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کی یتیموں کے تئیں بیداری اور ہر ممکن تعاون کیلئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سماج کے یتیم اور محتاج کیلئے کی جانے والی ہر کوشش کے اجر کی امید ہم سب کو خالق کائنات سے ہی رکھنی چاہئے اور اس کیلئے تشہیر اور دکھاوا اللہ کو ہرگز پسند نہیں ہے بلکہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال یونٹ کے ناظم اعلی عبدالغفار تانترے کی کاوشوں ، جدو جہد اور انتھک محنت سے گلشن اطفال کی طرف سے خریدی گئی اس زمین پر اب یتیموں کیلئے نیا آشیانہ تعمیر کیا جائے گا اور یہاں قیام کرنے والے مستحق بچوں کو دین و دنیا کی بہتر تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا جائے گا اور کوشش کی جائے کی گئی ہمارے سماج کے ان یتیموں میں چھپی صلاحیتوں اور ہنر کو ابھار کر انہیں پستی ، افلاس اور لاعلمی کے بجائے ایک اچھا اور با علم انسان بنایا جائے تاکہ وہ آنے والے کل زندگی کے مختلف شعبوں میں انسانیت کی خدمت کر سکیں جبکہ مسلمانوں کیلئے اس کی پاسداری کرنا دین کا حصہ  ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اللہ تعالیٰ کے شکر گذار ہیں کہ  2005 میں قائم کیا گیا گلشن اطفال مختلف اتار و چڑھاؤ کے بعد اب ایک بڑے منصوبے پر عمل پیراں ہے اور اس کیلئے ہم سب اللہ کی نصرت و مدد اور عوام کے تعاون کے محتاج ہیں – اس موقعہ پر منعقد تقریب پر ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے گلشن اطفال اور ٹرسٹ کی طرف سے جاری کام پر روشنی ڈالی گئی اور تعاون کیلئے مقامی لوگوں اور ٹرسٹ کے سرپرست ظہور احمد ٹاک کی طرف سے بانہال میں یتیموں کیلئے ہوسٹل اور دیگر سہولیات بہم رکھنے کیلئے کی گئی کوششوں کی سراہنا کی گئی اور ان کی ذاتی دلچسپی کیلئے اس تاریخی اقدام کیلئے ان کا شکریہ ادا کیا گیا ۔اس تقریب پر نظامت کے فرائض نامور شخصیت منشور بانہالی نے انجام دیئے جبکہ ناظم اعلی بانہال یونٹ عبدالغفار تانترے ، حاجی غلام مصطفیٰ، انجینئر مشتاق احمد، اکاؤنٹس افسر محمد بشیر پونچھی ، منشور بانہالی ، عبدالمجید وانی ، حمید اللہ وانی ، محمد یوسف خان ، سیف الدین گیری ، عبدالمجید تانترے ، عبدالغنی لون ، عبدالرشید لوہار ، عبدالرشید خان ، محمد یعقوب خان ،، عبدالوحید نجار، نظیر احمد خان ، مولوی غلام نبی ، کرامت اللہ بیگ، محمد رمضان بہورو ، مقامی رضاکار و جوانان ملت تقریب میں موجود تھے ۔ گلشن اطفال نامی یتیم خانہ کی پہلی عمارت ہالمیدان ڈولیگام علاقہ کے ایک معزز بزرگ کی طرف سے عطیہ کی گئی اراضی کے قطعہ پر تعمیر کی گئی تھی لیکن بعد میں بعض جائز وارثین کے اعتراض کے بعد جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ یونٹ بانہال کو یتیم خانہ کی ایک دو منزلہ عمارت اور ایک مسجد سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا تھا اور تب سے یہ یتیم خانہ گلشن اطفال پہلے زنہال اور اب کسکوٹ کے کرایہ کے کئی کمروں سے چلایا جارہا ہے جہاں اس وقت پندرہ یتیم بچوں کو اہل خیر اور درد دل رکھنے والے مخیر حضرات کی مالی مدد سے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں ہر طرح کی کفالت کرکے دینی و نیاوی تعلیم کے زیور سے منور کیا جا رہا ہے جبکہ ہر ماہ مخیر حضرات کے صدقات ، زکات اور ماہانہ مالی مدد سے جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ بانہال کی طرف سے سماج کے بے آسرا  بیوائوں کی مالی مدد بھی کی جاتی ہے اور ابتک کئی غریب لڑکیوں کی شادی میں جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کی طرف سے براہ راست مالی مدد بھی کی گئی ہے۔