یتیم ویسیر اسلام کے لاڈلے

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، اس میں معاشرے کے ہر فرد کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔ اللہ پاک نے کسی کو بے یار ومددگار نہیں چھوڑا۔ہر ایک کے لیے ایسے اسباب و ذرائع مہیا کردیے ہیں کہ وہ آسانی کے ساتھ اللہ کی زمین پر رہ کر اپنی زندگی کے دن گزار سکے۔ یتیم ونادار اور لاوارث بچوں کے بھی معاشرتی حقوق ہیں۔ ان کی مکمل کفالت ان کے حقوق کی پاس داری ہے اور اس سے منہ موڑلینا ان کے حقوق کی پامالی ہے۔ یتیم کے حقوق پر اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں تیئس مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، اُن کے اموال کی حفاظت اور اُن کی نگہداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اور اُن پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے وعیدبیان کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔ (سورۃ الدھر)۔ افسوس کہ لوگ اس کی بھی پروا نہیں کرتے۔ ارشاد ربانی ہے:جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میںداخل کیے جائیں گےاور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔( سورۃ النساء )اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے : اوریہ آپ سے یتیموں کےبارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیے کہ ان کی خیرخواہی کرنا بہتر ہے اوراگرتم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تووہ تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ بدنیت اورنیک نیت ہر ایک کو خوب جانتا ہے ، اوراگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیںمشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ غالب اورحکمت والا ہے ۔(سورۃالبقرہ 220 )جس کے زیر سایہ کوئی یتیم ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس یتیم کی اچھی پرورش کرے ، اَحادیث میں یتیم کی پرورش اوراس سے حسن سلوک کے بے شمارفضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے چند درجِ ذیل ہیں۔رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے، پھراپنی شہادت والی اور در میان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور انہیں کشادہ کیا۔(صحیح بخاری)حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے، امامُ الانبیاءﷺنے ارشاد فرمایا: ’’جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کے کھانے پینے کی ذمے داری لی، اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔(جامع ترمذی)رسول اکرم ﷺنے تو یتیم کی کفالت کرنے کو جنت میں اپنے ساتھ ہونے کی بشارت سے نوازا ہے کہ وہ جنت میں آپﷺ کے ساتھ ہو گا ۔حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا : میں اوریتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوںگے اور آپﷺ نے اپنی انگشت شہادت اوردرمیانی انگلی کے درمیان تھوڑا سافاصلہ کرکے اشارہ کیا۔( صحیح بخاری )حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتے دار ہو یا غیر، جنت میں اس طرح ہوں گے، جیسے یہ دو انگلیاں۔(صحیح مسلم) امام مالکؒ نے اس حوالے سے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔
بچہ اپنی ہر ضرورت کے لیے ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر وہ ماں باپ کے سہارے سے محروم ہو جائے تو پھر اس سے زیادہ بے بس و بے کس شاید ہی اور کوئی ہو۔چناںچہ آپﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی یتیم کی ذمے داری اٹھاتا اور اُس کی کفالت کرتا ہے، وہ اللہ کی نظر میں اتنا پسندیدہ عمل کرتا ہے کہ اسے جنت میں میراساتھ اس طرح میسر ہو گا جیسے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔
یتیم ہونا انسان کا نقص نہیں ،بلکہ منشائے خداوندی ہے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اُس نے اپنے محبوب ترین بندے سید المرسلین ﷺ کو حالتِ یتیمی میں پیدا فرمایا کہ آپ ﷺ کے والد ماجد آپﷺ کی ولادت با سعادت سے بھی پہلے وصال فرما چکے تھے۔ پھر چھ سال کی عمر میں ہی آپ ﷺکی والدہ ماجدہ بھی انتقال فرما گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی اس کیفیت کا ذکر قرآن حکیم میں یوں کیا ہے : ’’(اے حبیبﷺ!) کیا اُس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر اُس نے (آپ کو معزز و مکرم) ٹھکانہ دیا‘‘پھر اس دُرِّ یتیمﷺ نے یتامیٰ کی محبت، ان کے ساتھ شفقت و حسنِ سلوک اور اِحسان برتنے کی نہایت اعلی مثالیں قائم کیں۔آپﷺ نے یتیموں کی کفالت کرنے والے کو جنت کی خوش خبری دی اور اُن کے حقوق پامال کرنے والے کو درد ناک عذاب کی وعید سنائی۔ قرآن حکیم کہتا ہے :’’سو آپ بھی کسی یتیم پر سختی نہ فرمائیں‘‘۔ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور بری چیز کو عمدہ چیز سے نہ بدلاکرو اور نہ ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر کھایا کرو، یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے‘‘۔(سورۃالنساء)اسی طرح دیگر مقامات پر فرمایا : ’’اوریہ آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیں :اُن (کے معاملات) کا سنوارنا بہتر ہے، اور اگر اُنہیں (نفقہ و کاروبار میں) اپنے ساتھ ملا لو تو وہ بھی تمہارے بھائی ہیں، اور اﷲ خرابی کرنے والے کو بھلائی کرنے والے سے جدا پہچانتا ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ)مزید فرمایا گیا’’اور (یتیموں سے معاملہ کرنے والے) لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں بچے چھوڑ جاتے تو (مرتے وقت) ان بچوں کے حال پر (کتنے) خوف زدہ (اور فکرمند) ہوتے، سو انہیں (یتیموں کے بارے میں) اﷲ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور (ان سے) سیدھی بات کہنی چاہئے۔ بے شک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں نری آگ بھرتے ہیں، اور وہ جلد ہی دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے‘‘۔(سورۃ النساء)
سورۃ الانعام میں فرمایا گیا’’اور یتیم کے مال کے قریب مت جانا مگر ایسے طریق سے جو بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘سورۃ الماعون میں فرمایا گیا:کیا آپ نے اُس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے تو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (یعنی یتیموں کی حاجت اور ضرورت کو پورا نہیں کرتا اور اُنہیں حق سے محروم رکھتا ہے)اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا (یعنی معاشرے سے غریبوں اور محتاجوں کے معاشی اِستحصال کے خاتمے کی کوشش نہیں کرتا)‘‘حضرت ابو ہریرہؓروایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا :’’مسلمانوں میں سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ نیک سلوک ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک ہو۔‘‘(سنن ابن ماجہ)حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا :’’قسم ہے اُس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اُس شخص کو عذاب نہیں دے گا جس نے یتیم پر شفقت کی،اس سے نرمی سے گفتگو کی،اور معاشرے کے محتاجوں و کمزوروں پر رحم کیا، اور جس نے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والی عطا کی وجہ سے اپنے پڑوسی پر ظلم نہ کیا۔ پھر فرمایا : اے اُمتِ محمدی! قسم ہے اُس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اُس شخص کی طرف سے صدقہ قبول نہیں کرے گا جس نے غیروں پر صدقہ کیا، حالانکہ اُس کے اپنے رشتے دار اُس صدقہ کے محتاج تھے۔ قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اﷲ تبارک و تعالیٰ روزِ قیامت اُس شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔‘‘(طبرانی)حضرت عمرو بن شعیبؓ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں :’’جسے کسی یتیم کے مال کا ولی بنایا گیا تو اُسے چاہیے کہ وہ اُس مال سے تجارت کرے اور اُسے یوںہی پڑا نہ رہنے دے، مبادا زکوٰۃ ادا کرتے کرتے وہ مال ختم ہوجائے۔‘‘(بیہقی،سنن الکبریٰ)یہ تمام آیات واحادیث گرچہ یتیم کی کفالت کے سلسلے میں ترغیب و فضائل کی ہیں، تاہم ان سے یہ بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ اس طرح کے نادار، لاوارث اور یتیم بچوں کی کفالت مسلمانو ں کے ذمے ہے۔حسب سہولت علاقے اور محلے کے افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی۔ ان بچوں کو یوں ہی ضائع ہونے نہیں دیا جائے گا۔ اگر کچھ لوگ اس ذمہ داری کو بہ طور کفایہ نبھا لیتے ہیں، تو سب بری الذمہ ہوجائیں گے ،ورنہ سب کے سب گناہ گار ہوں گے۔
رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’مسلمانوں کا بہترین گھر وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، جس کے ساتھ اچّھا سلوک کیا جاتا ہو، اور مسلمانوں کا بدترین گھرانہ وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، مگر اُس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ)
