یاسین ملک گرفتار،سرینگر ،سوپور اور شوپیان میں جھڑپیں

 سرینگر// پائین شہر کے نوہٹہ علاقے میں نماز جمعہ کے بعد سنگبازی اور ٹیر گیس شلنگ و پیلٹ فائرینگ سے ایک نوجوان شدید زخمی ہوا،جبکہ سوپور میں مسلسل ہڑتال کے بیچ احتجاجی مظاہرے اور پتھراﺅ کے واقعات پیش آئے۔ شوپیاں میں سنگبازی کے دوران فوج نے ہوا میں گولیاں چلائی جبکہ ترال میں ہڑتال رہیں۔ادھر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو آبی گزر دفتر سے ساتھی سمیت حراست میں لیا گیا اور میرواعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند رکھا گیا،جبکہ سید علی گیلانی مسلسل رہائشی طور نظر بند ہیں۔شہر خاص کے حساس علاقوں میں ممکنہ احتجاجی مطاہروں کے پیش نظر اجافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،تاہم نماز جمعہ کے بعد نوہٹہ علاقے میں اس وقت افراتفری اور بھگدڑ کا ماحول پیدا ہوا،جب نوجوانوں نے جلوس برآمد کرنے کی کوشش کی۔عینی شاہدین کے مطابق جامع مسجد سرینگر کے احاطے میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نموردار ہوئی ،جس دوران انہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے نوہٹہ مین چوک کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ۔نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعدپولیس وفورسز نےاحتجاجیوں کا راستہ روکا اور اُنہیں جا مع مسجد احاطے تک ہی محدود رکھا ۔اس دوران نوجوان مشتعل ہو ئے اور انہوں نے پولیس وفورسز اہلکاروں پر شدید پتھراﺅ کرنا شروع کردیا ،جسکے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ پولیس وفورسز نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کےلئے ٹیر گیس شلنگ کی ۔طرفین کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپوں کا سلسلہ نوہٹہ ،گوجوارہ اور دیگر علاقوں تک پھیل گیا ،جس دوران شدید پتھراﺅ کے دوران فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے دوبارہ ٹیر گیس شلنگ کی ساتھ ہی مرچی گیس اور پیلٹ فائر کے کئی راﺅنڈ بھی چلائے ۔عینی شاہدین کے مطابق پتھراﺅ کے نتیجے میں پولیس نے جوابی کارروائی کی،جس کے دوران 17نوجوان مدثر احمد ساکنہ زونی مر صورہ زخمی ہوا ،جسے تشویشناک حالت میں صدر اسپتال سری نگر منتقل کیا گیا ۔ سوپور میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے۔نامہ نگار غلام محمد کے مطابق جامع مسجد سوپور میں نما زِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد نوجوانوں کی ایک خاصی تعداد نمودار ہوئی ،جنہوں نے احتجاج کرتے ہوئے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔احتجاجی مظاہرین نے آزادی حامی مارچ نکالنے کی کوشش کی ،جس پولیس وفورسز نے مشترکہ طور پر ناکام بنادیا ۔ جونہی احتجاجی مظاہرین نے مین بازار سوپور کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی،جس دوران پولیس وفورسز نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کےلئے ٹیر گیس شلنگ کی جسکے ساتھ ہی یہاں شدید نوعیت کی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا ،جو وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔اس دوران سوپور کے کچھ علاقوں میں جنگجو کمانڈر عبدالقیوم نجار کی ہلاکت کے خلاف جمعہ کو مسلسل تیسرے دن بھی ہڑتال کی گئی۔ ممکاک بٹہ پورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جمعہ کو مسلسل تیسرے دن بھی غیر اعلانیہ ہڑتال کی گئی جس کے دوران ان علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج جزوی طور پر متاثر رہا۔ اس دوران جنوبی قصبہ شوپیان میں اُس وقت افراتفری پھیل گئی جب کورٹ کمپلیکس کے نزدیک بعد نمازجمعہ مشتعل نوجوانوں نے فورسز گاڑی پر پتھراﺅ کیا۔نامہ نگار شوکت ڈار کے مطابق جنوبی قصبہ شوپیان میں کورٹ روڑکے نزدیک کچھ نوجوانوں نے یہاں سے گزرنی والی فوجی گاڑیوں پرمعمولی پتھربازی کی ،جس پرفوجی اہلکارآپے سے باہرہوئے ،اورانہوں نے ہوامیں گولیوں کے کئی راﺅنڈفائرکئے۔عینی شاہدین کے مطابق اسکے بعدفوجی اہلکارگاڑیوں سے نیچے اُترگئے اورانہوں نے کورٹ روڑاوراولڈبس اڈہ شوپیان کے نزدیک سڑک کنارے بیٹھنے والے چھاپڑی فروشوں کے سامان کوتہس نہس کرنے کے ساتھ ساتھ کئی چھاپڑی فروشوں اورراہگیروں کی مارپیٹ کردی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ معمولی سنگباری پرفوجی اہلکارکے شدیدردعمل کے باعث پورے قصبہ شوپیان میں سخت خوف وہراس کی لہردوڑگئی جبکہ افراتفری کے عالم میں دکانداراپنی دُکانات کواورچھاپڑی فروش اپنے سامان کووہیں چھوڑکرمحفوط جگہوں کی جانب بھاگ گئے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ فوجی اہلکارایک نوجوان کومارپیٹ کے بعداپنے ساتھ لے گئے ۔ادھر ترال مےں گرنےڈ دھماکہ مےں جا بحق ہو ئے نوجوان کی ہلاکت کے خلاف ہڑتا ل تھی۔لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو زونل آرگنائزر بشیر احمد کشمیری کے ہمراہ گرفتار کیا گیا ۔فرنٹ ترجمان کے مطابق پولیس کی بھاری جمعیت نے لبریشن فرنٹ کے دفتر واقع آبی گزر کا محاصرہ کیا اور ملک یاسین کے علاوہ بشیر کشمیری کو گرفتار کرکے لے گئے۔ دونوں کو4روزہ عدالتی ریمانڈ پر سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمرفاروق کوجمعرات سے ہی خانہ نظربندرکھاگیا،جبکہ سید علی گیلانی بھی اپنی حید پورہ رہائش گاہ پر مسلسل نظر بند رہیں۔