یادوں کے جھروکے سے

یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں 
جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے 
قتیل ؔشفائی
معروف ادیب امین کاملؔ صاحب وادی کے سرکردہ شاعر رفیق رازؔ صاحب کی بڑی قدر کرتے تھے۔ ایک دفعہ شام کے وقت ایس پی کالج میں مشاعرہ تھا۔ جب کاملؔ صاحب نے اپنا کلام پڑھا تو اُن کی غزل کے آخری شعر میں رفیق رازؔ صاحب کا ذکرتھا۔ نوجوانی میں ہی رازؔ صاحب کی شاعری کو شہرت دینے میں کاملؔ صاحب کا بھی ہاتھ رہا ہے۔ کاملؔ صاحب میں اگر چہ میں نے وہ استعداد نہ پائی کہ نوجوان ادیبوں سے گھل مل سکتے مگر جب انہوں نے رازؔ صاحب میں صلاحیت دیکھی تو انہیں آگے بڑھانے میں اپنا رول نبھایا۔ اخترؔ محی الدین صاحب اگر چہ نوجوانوں سے جلد ہی گھل مل جاتے تھے اور انہیں نہایت مفید مشورے بھی دیتے تھے تاہم انہیں آگے بڑھانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے تھے۔ رازؔ صاحب کا ذکر چل ہی نکلا تو یہ بات بھی بتاتا چلوں کو رازؔ صاحب نے نوجوانی میں ہی اپنے کمالات دکھانا شروع کردئے تھے اور وادی کے سرکردہ اور قدآور ادیبوں کو اپنا مداح بنایا لیا تھا ،جن میں راہیؔ صاحب کے علاوہ کاملؔ صاحب، علی محمد لون اور اخترؔ صاحب بھی شامل تھے۔ رازؔ صاحب کے ساتھ میری ملاقات سال بھر میں صرف دو عیدوں پر ہوتی ہے اوراب آپس میں کچھ تحفظات بھی پیدا ہوئے ہیں، حالانکہ نوجوانی کے ایام ہم نے ایک ساتھ گزارے ہیں مگر مدتیں ہوئیں ہم بہت کم ملے ۔ اب مزاج بدل گئے ہیں، ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اور عمر نے یہ احساس بھی دلادیا ہے کہ اب سٹھیانا ٹھیک نہیں اور موت کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب آدھمکے اور اللہ کے حضور کھڑا بھی ہونا ہے!
جب جوانی تھی تو میں دفتر سے سیدھا کافی ہاوس چلاجاتا تھا۔میں کافی کا شوقین تھا اور’ ’مسالہ دھوسا‘‘ سے بھی رغبت تھی۔ دونوں چیزیں کافی ہاوس سے ملتی تھیں۔ وہاں شور وغل بہت ہوتا تھا۔ تقریباً ہر ٹیبل پر کوئی نہ کوئی بحث چل رہی ہوتی تھی۔ صحافی لوگ ایک مخصوص جگہ کا احاطہ کرلیتے اور کسی نہ کسی بحث میں مشغول رہتے تھے۔ معروف صحافی پی این جلالی، ظفر معراج ، انڈین ایکسپریس کے نمائندے کول صاحب اور دیگر کئی صحافیوں کا کافی ہاوس میں آنا معمول ہی بنا تھا۔ رائٹروں کی بھی کچھ مخصوص جگہیں تھیں جہاں پر وہ بیٹھا کرتے تھے۔ باہر سے بھی جو کوئی آرٹسٹ آتا تھا تو کافی ہاؤس کا دورہ ضرور کرتا تھا۔ ایک دن میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ پتلون قمیض پہنے ہوئے کافی ہاوس میں ایک ٹیبل پر خاموش بیٹھا ہے اور کافی کی چسکیاں لے رہا ہے۔ یہ شخص ننگے پاؤں تھا۔ مجھے یہ چہرہ جانا پہچانا لگا۔ پھر جو نزدیک گیا تو مشہور آرٹسٹ ایف ایم حسین تھا۔ میں نے اُس جیسا سادہ انسان آج تک نہیں دیکھا۔ پھر ایک دن انہیں ننگے پاؤں اکیلے ریذیڈنسی روڈ پر چلتے دیکھا۔ بہر کیف معمول یہ تھا کہ رفیق راز ؔبھی تقریباً ساڑھے پانچ بجے کافی ہاؤس آجاتے تھے۔ کچھ دیر میرے ساتھ وہاں پر بیٹھ جاتے تھے اور اگر مجھ سے کچھ پہلے آتے تو وہاں اور قلم کاروں کے ساتھ کوئی مباحثہ شروع ہوتا۔ ہردے کول بھارتی، ہری کرشن کول، منیب الرحمن، فاروق آفاق، تیج کشن بھان، (ریٹائرمنٹ کے بعد) اختر محی الدین، علی محمد لون، م ح ظفر، اقبال فہیم اور معروف آرٹسٹ غلام رسول سنتوش اور دوسرے قلم کاروں کا کافی ہاؤس میں اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ اخترؔ محی الدین صاحب جب آتے تھے تو گیارہ بجے کے بعد آتے اور دوبجے سے پہلے پہلے چلے جاتے تھے۔ میں نے انہیں کبھی کافی ہاؤس میں دو بجے کے بعد نہیں دیکھا۔ سگریٹ پینے والوں سے انہیں بہت چِڑ تھی ،حالانکہ خود کہتے تھے کہ اس نشے کو ترک کرنے سے پہلے میں بہت سگریٹ پیا کرتا تھا۔ لون صاحب دیر تک بیٹھا کرتے تھے اور پھر وہاں سے جانے کے بعد کسی اور جگہ جاکر بیٹھنے کا معمول تھا۔ لون صاحب کو غصہ بہت جلد آتا تھا۔ غالباً ۲۱ ؍دسمبر کو چل بسے۔ میں تیج کشن بھان کے ساتھ ان کے گھر تعزیت کرنے گیا تھا۔ لون صاحب کی وفات پر مجھے ایک شخص نے بتایا (جس کا اب مجھے نام بھی یاد نہیں) کہ لون صاحب کی وفات سے صرف چار دن قبل صادق میموریل کمیٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام محمد صادق کے صاحبزادے رفیق صادق صاحب کافی ہاؤس میں لون صاحب سے ملے تھے۔ لون صاحب بھی صادق میموریل کمیٹی کے ممبر تھے۔ اُس وقت لون صاحب کافی ہاؤس میں کوئلے کے سٹو (بوکھاری) کے نزیک بیٹھے تھے اور کافی پی رہے تھے۔ جہاں لون صاحب بیٹھے تھے وہ کافی ہاؤس میں اُن کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ تھی۔ باتوں باتوں کے دوران رفیق صادق صاحب نے کمیٹی کی میٹنگ کے حوالے سے بات کی تھی اور اس کے انعقاد کے لئے لون صاحب سے درخواست کی تھی۔ لون صاحب نے  میٹنگ کے لئے کچھ مہینوں کے بعد کی تاریخ دی تھی، جس پر رفیق صادق نے کہا تھا: ’’لون صاحب !زندگی کا کیا بھروسہ؟ یہ تاریخ تو بہت دور ہے۔‘‘ لون صاحب نے جواب دیا تھا: ’’میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگلے سال آج ہی کے دن، اسی وقت اور اسی جگہ میں آپ کو یہاں بیٹھا ملوں گا‘‘ مگر اُس کے صرف چار دن بعد وہ چل بسے اور حیرت یہ کہ اُن کی لاش گھر سے صرف دس گز کے فاصلے پر ایک درخت کی آڑ میں پڑی تھی اور گھر والے انہیں دوسری جگہوں پر تلاش کررہے تھے۔ واضح رہے لون صاحب کی موت ایک حادثے میں واقع ہوئی تھی۔ رات کو دیر گئے وہ ایک آٹو رکشا میں گھر جارہے تھے کہ آٹو کو اُن کے گھر کے قریب ہی حادثہ پیش آیا تھا۔ ریڈیو ڈرامہ لکھنے میں انہیں کمال حاصل تھا اوراُن کے ’’سویہ‘ ‘ڈرامے اور ’’ویتھ روزِ پکان‘‘ کی ایک قسط نے تہلکہ مچادیا تھا۔ انہوں نے جتنے بھی ریڈیو ڈرامے لکھے اُن میں بیشتر بہت مقبول ہوئے۔ مجھے نہیں لگتا کہ کشمیر نے ان کے پایہ کا ریڈیو ڈرامے لکھنے والا آج تک پیدا کیا ہے۔ بڑے باغیرت تھے۔ ظاہری طور لگتا تھا کہ مغرور ہیں مگر اندر سے نیک تھے اور کبر کا شائبہ بھی نہ تھا۔ کافی ہاؤس کے بند ہونے سے یہاں کے ادب کو بہت دھکا لگا۔ یہ رائٹروں کی مضبوط ’’تھکہ پنڈ‘‘ تھی جس سے اب یہ طبقہ محروم ہے۔
ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے  ہیں
دلوں  کو  درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں 
بات ہورہی تھی رازؔ صاحب کی اور میری۔ ہم دونوں کچھ دیر کافی ہاؤس میں بیٹھ کے وہاں سے چلے جاتے، اِھر اُدھر لال چوک اور ریذیڈنسی روڈ کے ارد گھومتے اور پھر کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھ کے مختلف موضوعات پر ہماری بحث چلتی اور ہم کسی نہ کسی بات سے مذاق کا پہلو نکال لیتے اور بہت ہنستے رہتے تھے۔ اُن دنوں دیکھا ہے کہ رازؔ صاحب میں مذاق کی حِس بہت تیز تھی مگر آج دیکھتا ہوں وہ بات نہیں ہے۔ جلالی طبیعت تھی مگر اب نرم ہوگئے ہیں۔ وقت بہرحال اپنا اثر چھوڑتا ہے اور تبدیلیاں ضرور لاتا ہے۔ کچھ خراب سے بہتر بن جاتے ہیں، کچھ بہتر سے خراب ہوجاتے ہیں، کچھ بہتر سے زیادہ بہتر بنتے ہیں اور کچھ خراب سے خراب تر ہوجاتے ہیں، پہلے کے ہنس مکھ روہانسے سے لگتے ہیں اور کچھ روہانسوں میں شگفتگی بھی آتی ہے۔ ہر چیز اور کیفیت ضرور تبدیل ہوتی ہے، کچھ تبدیلیاں محسوس ہوتی ہیں اور کچھ کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ بہرحال یہ صرف تبدیلی ہے جس کو دوام ہے باقی کسی چیز کو دوام نہیں! ان ایام میں بعض اوقات ہم دس بجے رات تک بھی کسی ریسٹورنٹ میں ہی بیٹھ جاتے تھے اور گفتگو میں محو رہتے تھے مگر عام معمول یہ تھا کہ ہم دونوں لال چوک سے شہر خاص میں واقع گھر پیدل جاتے تھے۔ بہوری کدل پہنچ کر رازؔ صاحب اپنے گھر واقع دلال محلہ جانے کے لئے بائیں جانب مڑتے تھے اور میں اپنے گھر حول کی طرف روانہ ہونے کے لئے سیدھا چلا جاتا تھا۔ اس وقت ہر طرف سناٹا چھایا ہوتا تھا۔ گوجوارہ سے آگے بعض جگہوں پر مجھے کبھی کبھی کسی کسی گیدڑ کی آواز بھی سنائی دیتی تھی۔ یہ واقعات بیسویں صدی کی نویں دہائی کے پہلے کے ہیں   ؎
زندہ رہیں تو کیا  ہے جو مرجائیں  ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے 
اک خواب  ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے  لئے  وہاں
شام آگئی ہے  لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
جب پہلی بار مجھے اسلامیہ ہائی سکول، راجویری کدل شہر خاص سرینگر میںداخلہ دلایا گیا تو میرے دادا میرے ساتھ تھے۔ چونکہ میں قرآن پاک کا کچھ حصہ گھر میں ہی پڑھ چکا تھا ،اس لئے مجھے ترقی دے کر اول کے بجائے بڑے اول میں داخلہ ملا۔ دادا مرحوم نے جب میرا نام لکھوایا تو اس میں اپنی خاندا نی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے میرے نام کے ساتھ اپنا پورا نسب بھی لکھوایا چنانچہ میرا نام اس طرح لکھا گیا۔۔۔۔۔۔۔’’پیرزادہ نذیر احمد قریشی شاہ‘‘
جب میں دوسری جماعت میں چڑھا تو میرے فارم ماسٹر نے کہا کہ تمہارا اتنا بڑا نام ہماری رجسٹر میں نہیں آرہا ہے ،چنانچہ پیر زادہ کا لفظ کاٹ کر اسے ’’نذیر احمد قریشی شاہ‘‘ تک مختصر کردیا گیا۔ پھر یہ تیسری جماعت میں چڑھنے کے بعد کی بات ہے کہ اس کلاس کے فارم ماسٹر نے میرے نام سے ’’شاہ‘‘ کا لفظ کاٹ کر صرف ’’نذیر احمد قریشی‘‘ تک رہنے دیا۔ وجہ یہی بتائی کہ رجسٹر کا کالم چھوٹا ہے اور میرے پورا نام اس میں سمو نہیں پارہا ہے۔ آج مجھے لگ رہا ہے کہ اس دنیا کی رجسٹر کے کالم بھی اتنے چھوٹے ہیں جس میں میری زندگی سما نہیں پارہی ہے۔زیادہ وقت نہیں گزرا جب ہمارے یہاں کشمیر میں یہ روایت تھی کہ شادی کے ابتدائی سات دنوں کے دوران دلہن سے مولوی صاحب قرآن پاک کی قرأت کا امتحان لیتا تھا اور دلہن سے قرآن مجید کی کچھ آیات تلاوت کرواتا تھا۔ بعد میں سسرال والے دلہن کو تحفے میں ایک اشرفی (سونے کا پونڈ) دیتے تھے۔ غالباً اب ایسی روایت نہیں ہے۔ وقت کی تبدیلی نے بے شک کچھ بہت اچھی تبدیلیاں لائی ضرور ہیں مگر کچھ اچھی روایات کو بھی بھلو ادیا ہے۔ 
آگے بڑھتے ہیں۔ جب میری عمر  انیس بیس سال کی رہی ہوگی، میں نے کئی کشمیری غزلیں لکھیں۔ یہ بات پہلے بھی کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ حالانکہ مجھے شاعری کے قواعد اور اصولوں سے کچھ خاص واقفیت نہیں بلکہ جب بھی کوئی شعر لکھا تو محض لَے اور آواز پر لکھا۔ ایک دو غزلیں ذیل میں پیش کررہا ہوں   ؎
مے ڈیشم ژہ سآتین خبر کم ووپر از
غم بار  سآتین  پٹھیم ما جگر از
ژلان اوش چھ نیرتھ مے پانیے اچھو کنی
پننی غم وچتھ پانسئی گو اثر از
مہ کر ناز یوتاہ حسن آسنس پیٹھ
مزارس تہ کن کر نا اکھ نظر  از
بو  دیوانہ  برونٹھئی کروس چآنی عشقن
پننی  زلفہ  چھکرتھ  مہ  ان  بییہ  مژر  از
یعنی: اے میرے محبوب، آج میں نے تمہارے ساتھ کچھ اجنبیوں کو دیکھا۔
لگتا ہے ایسا دیکھنا میرے جگر کو ریزہ ریزہ نہ کردے
میری آنکھوں سے بے قابو ہوکر آنسو گر رہے ہیں
بس آج اپنے ہی غموں نے متاثر کردیا
اے نازوادا کے پیکر! اپنے حسن پہ اتنا نازاں نہ ہو
آخر ہر چیز فنا ہونے والی ہے
میں تو پہلے ہی تمہارے عشق میں سودائی ہوں
اب اپنے زلفیں بکھیر کر میرے جنون کو اور جوش نہ دلا
ایک اور غزل دھوبن کی نذر کی تھی   ؎
گاشہ ژھاین چانہ حسنچ آڈرن  
آبہ گراین منز  تلت اکھ انقلاب
چآنی تن دودہ ہر گلابچ ژھایے ہیتھ
سورمہ زن میانین  اچھین  بییہ اضطراب
ہیرہ پاوین پیٹھ چھلن چھکہ ون یہ چون
زون  زنہ  گہلس کران لتہ مونڈ جناب
آبہ لہرن  پیٹھ  فرینجک زال ہیو
درہہ دیکس پیٹھ وآنکی  زلفن  ہیند حجاب
میانہ خونکی قطرہ ہیے آسیی مفت
مآنزہ سآتین کیازہ  کری تھک گلی خراب
زون تے سری یک گروہن گو بے اثر
یلہ اوستھ پھولہ رآوی تھک روشن گولاب
یعنی: روشنی میں تمہارے حسن کے جلووں کی تاثیر ہے
پانی کی لہروں میں انقلاب پیدا کرنے والی نازنین
تمہارا جسم دودھ میں نہایا ہوا گلاب جیسا ہے
یہ میری آنکھوں کا سرمہ بھی بن جاتا ہے اور اضطراب کا باعث بھی
یہ دریا کے کنارے سیڑھیوں پر تمہارا کپڑوں کا دھونا
جیسے چاند کا اجالا اندھیرے کو مٹا رہا ہے
یہ تمارے ماتھے پہ کچھ شکن، اور گھنگریالے زلفوں کا تمہارے چہرے پر حجاب
لگتا ہے پانی کے لہروں پہ حلقے بنے ہیں
میرے خون کے قطرے تو تمہارے لئے مفت دستیاب تھے
پھر یہ ہاتھوں پر مہندی کی کیا ضرورت پڑی؟
سورج اور چاند کا گرہن بھی بے اثر رہا
تماری ہنسی سے گلاب بھی کھل اٹھے
میں یہ بات بارہا دہرا چکا ہوں کہ میری نوجوانی میں جو میرا شاعری کا شغل رہا ،وہ محض میرا بچپنا تھا۔ اس کو کبھی میرے ادبی کاموں میں شمار نہ کیا جائے۔ یہ اس عمر کے تقاضوں کا ایک وقتی جوش تھا جس کو دوام حاصل نہیں ہوتا۔ یا میری نادانی تھی جس کو میں اس وقت سمجھ نہ سکا۔ چونکہ مضامین کا میرا یہ سلسلہ میری یادوں کے حوالے سے ہے ،اسی لئے یہاں اپنی پرانی کچھ غزلیں یاد آئیں اور ان کا درج بالا سطور میں ذکر کیا۔ اپنی پرانی یادیں بیان کرنے سے میرا مدعا لوگوں کو اپنا ہسٹری جغرافیہ بتانا نہیں ہے بلکہ اپنی زندگی کے کچھ واقعات اور واردات ِ قلبی سنانے سے میری غرض یہ ہے کہ جو وقت گزرتا ہے وہ پھر کبھی لوٹ کے نہیں آتا۔ اُمید ہے میری ان یادوں سے قاری اچھا ہی سبق تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔ خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنا وقت علم نافع پر خرچ کرتے ہیں اور خدا کو پانے میں زندگی کا سرمایہ لگاتے ہیں۔ میرے تجربوں کا یہ بھی نچوڑ ہے کہ انسان کو تو خدا کی تلاش ہی مقصود ہونی چاہئے مگر مروجہ تعلیم سے بھی اسے قطعی طور غافل نہیں رہنا چاہئے ورنہ اس تعلیم سے ناواقفیت اس کے لئے زندگی بڑی دشوار بنادیتی ہے اور خدا کو پانے میں بھی اس کے لئے مشکلات پیدا کردیتی ہیں۔ دنیوی تعلیم سے بے بہرہ کسی مولوی صاحب کو جب اپنی بیوی یا بچہ کسی علاج کے لئے ہسپتال لے جانا پڑتا ہے یا پاسپورٹ کے لئے فارم بھرنا پڑتا ہے تو یہ ضرورت اسے دوسرے آدمی کا محتاج بنادیتی ہے، یا کوئی ڈاکٹر علاج کے دوران کوئی میڈیکل اصطلاح کا استعمال کرتا ہے تو مروجہ تعلیم سے بے خبر مولوی صاحب پریشان ہوجاتا ہے، اسی طرح جہاز میں سفر کے دوران یا دوسری جگہوں پر انگریزی زبان سے ناواقفیت بھی لوگوں کو سخت پریشانیوں میں ڈال دیتی ہے۔ دنیوی تعلیم کو ایک بڑی ضرورت کی حیثیت دے کر حاصل کرنا چاہئے جب کہ دینی تعلیم، اخلاق پر محنت اور خدا کو پانے کی مسلسل اور دائمی کوشش اصل مقصود ہونا چاہئے۔ دنیا بہرحال میرے لئے ایک دا رالسفرہے،اس لئے یہ مسکن ابدی نہیں، اس سفر کے آخر پر گھر ہی جانا ہوتا ہے۔یہاں اس کالم کی وساطت سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میں برسوں سے ائمہ حضرات سے درخواست کرتا رہا ہوں کہ جمعہ کی نماز کا خطبہ ٹھیک اُسی وقت پڑھا کریں جو آپ مسجدوں میں چارٹ پر ظاہر کرتے ہیں۔ کیا یہ بات نہایت نامناسب نہیں کہ آپ مسجد کے چارٹ میں جمعہ کے خطبہ کا ٹائم ڈیڑھ بجے ظاہر کریں اور پھر اس پر عمل نہ کریں؟ مگر کون مانتا ہے؟ یہ سب کرنے اور ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ حالانکہ جواب ہمارے پاس موجود ہے! گزشتہ دنوں مجھے ایک دوست نے بتایا کہ میرے گردے میں پتھری ہے جس کے سبب پانی بہت پینا پڑتا ہے اور دوسری طرف پروسٹریٹ کی تکلیف بھی ہے جس کے باعث پیشاب کی حاجت جلد ہی پڑتی ہے۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ مسجد میں جو بورڈ لٹکا ہوا ہے اُس میں جمعہ کا خطبہ سوا ایک بجے دکھایا گیا ہے اور میں اسی وقت پہ اعتبار کرکے ایک بج کر دس منٹ پر مسجد پہنچ جاتا ہوں کہ نماز خطبہ کے بعد ایک بج کر بیس منٹ پر ہوگی، مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ امام صاحب وقت کا کوئی خیال نہیں رکھتا اور تبلیغ میں ہی بہت وقت لگاتا ہے اور مقررہ وقت پر نماز نہیں پڑھتا، اس دوران مجھے پیشاب کی حاجت پڑتی ہے اور جتنا وقت مجھے فراغت اور وضو میں لگتا ہے اُس وقت میں امام صاحب نے جمعہ کی نماز پڑھی ہوتی ہے چنانچہ میں اکثر جمعہ کی نماز نہیں پڑھ پاتا۔ نہ جانے کتنے اور لوگ ایسے ہوں گے جو مختلف بیماریوں کا شکار ہوں اور ائمہ صاحبان کے نماز جمعہ مقررہ وقت پر نہ پڑھنے سے وہ نماز جمعہ نہ پڑھ سکتے ہوں۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے کمر میں درد رہتا ہے۔ چونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہر ایک کے لئے کرسی کا انتظام رکھا جائے، ا ب جب کہ امام صاحب جمعہ کے روز وقت پر نماز نہ پڑھے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے بیماروں کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی اور جب وہ نماز جمعہ پڑھتے ہوں گے تو خشوع حضوع کہاں رہتا ہوگا؟
کچھ دن پہلے ہمارے ایک رشتہ دار کا انتقال ہوگیا۔ جب میں نماز جنازہ کی صف میں شامل ہوا تو اسی وقت امام صاحب نے تبلیغ بھی شروع کردی۔ میری پشت میں تکلیف تھی۔ لوگ صفوں میں کھڑے ہیں اور امام صاحب تبلیغ کررہے ہیں۔ تبلیغ نے طوالت کھینچ لی یہاں تک کہ میری کمر میں بہت درد ہونے لگا۔ پتہ نہیں ایسے نازک مواقع کو تبلیغ کے لئے استعمال کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اور کیا ائمہ صاحبان یہ نہیں جانتے کہ جنازے میں بوڑھے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں اور اس موقع پر انہیں تبلیغ کے لئے کھڑا رکھنا کیا اسلامی تصورِعدل کے منافی نہیں؟وما علینا الالبلاغ۔