(یادوں کے جھروکے سے (5

خوابوں کا ضمیر نہیں ہوتا۔ یہ تمام بندشوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ خواب کیا ہوتے ہیں؟ یہ ہمارے ہی خیالات کی صورتیں ہوتی ہیں۔ جب ہمارے تجربات، حادثات اور مشاہدات کے بیج ہمارے ذہن کی زمین میں اُتر جاتے ہیں تو خیالات کی فصل کا روپ دھار کر اُبھر آتے ہیں۔ زمین جتنی زرخیز ہو اور بیج جتنا معیاری ہو، اتنی ہی فصل بھی خوبصورت، رسیلی، میٹھی اور معیاری پیدا ہوتی ہے۔ خارجی حالات موسموں کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا موافق ہونا اور نہ ہونا بھی فصل کی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ پھر عطائے الہٰی کا ہونا بھی بہت ضروری ہے جو دعاؤں سے نصیب ہوتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوں تو فصل شیطانی کیڑوں کے ضرر سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ بہر کیف بالغ ہونے کے بعد میں نے بھی خواب دیکھنا شروع کردئے۔ خوابوں کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ان میں سے کچھ انسان کو رات میں دکھائی دیتے ہیں ،کچھ وہ دن میں بھی  دیکھتا ہے، کچھ سوتے میں آتے ہیں، کچھ جاگنے میں بھی وارد ہوتے ہیں۔ وہم بھی خواب کی ہی ایک قسم ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے ایک عجیب سے وہم نے اپنی گرفت میں لیا، وہ یہ کہ میں سمندروں کا سفیر ہوں تو بھلا مٹی کے گنبد کا اسیر کیوں بنوں؟ چنانچہ میں بھی ادبا کی صف میں شامل ہوا۔ اس داخلے کے ساتھ ہی باقی ادبا کی طرح اپنے لئے کوئی تخلص رکھنے کو لازم جانا۔ تمام ادب اور ادیبوں پر نظر ڈالی تو خیال آیامیں تو کشمیر کا شاہ جہاں ہوں، چنانچہ یہی تخلص اختیار کرنے کو جی چاہا۔ پھر خیال آیا شاہجہاں کو تو تاج محل سے شہرت ملی اور تاج محل کے لئے ایک ممتاز کا ہونا ضروری ہے مگر المیہ یہ رہا کہ میری ممتاز تو کسی بھی قیمت پر مرنے کو تیار نہ تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ تاج کو مارو گولی، تم جہانگیر بن جاؤ اور نورجہاں سے پہلے خود ہی مرکے دکھادو کہ میں نام کا نہیں بلکہ کام کا جہانگیر ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نذیر جہانگیر بنا مگر افسوس یہ کہ میری وہ ممتاز ایک اورنگ زیب کا مقدر بنی اور پھر اللہ اللہ کرکے اللہ کے نصف درجن بندے دنیا میں چھوڑ کراللہ کو پیاری ہوگئی۔ وہ تو مرگئی اور بس ایک بار مرگئی اور قصہ ختم ہوا، مگر میں ہوں کہ مسلسل مررہا ہوں اور ہر لمحہ میرا مزار ہے کیونکہ میں وقت کے ہر لمحے میں مدفون ہوںاور یہ زندگی نہیں جسے میں کاٹ رہا ہوں بلکہ یہ میں ہوں جسے زندگی کاٹ رہی ہے    ؎ 
ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت
دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم
بہرحال، ہم بھی بڑے ہوگئے اور بقول منور رانا کے   ؎
پہلے بھی ہتھیلی چھوٹی تھی اب بھی یہ ہتھیلی چھوٹی ہے
کل  اس سے  شکر گرجاتی تھی اب اس سے دوا گرجاتی ہے
ہم  جیسے فقیروں کی  دنیا، دنیا  سے  الگ ایک دنیا ہے
"ہم جیسے ہی جھکنے لگتے ہیں شانے سے ردا گرجاتی ہے
غالباً یہ۸۰۔ ۱۹۷۹ کا سال تھا جب میں نے ریڈیو کے لئے پہلا کشمیری ڈرامہ ’’واران بونِہ ہیوند حاران کاؤ‘‘ لکھا۔ آج اس ڈرامے کی کوئی کاپی میرے پاس نہیں ہے اور نہ وہ کہانی پوری طرح یاد ہے جس کے گرد یہ ڈرامہ گھومتا تھا۔ یہ مجھ میں ایک بڑی خامی ہے کہ میں جو کچھ لکھتا ہوں اکثر اُس کی کوئی کاپی اپنے پاس نہیں رکھتا ہوں۔ یہ محض میری طبیعت کی سستی ہے۔ میں جو کچھ لکھتا ہوں پھر اس کی اصلاح کے لئے بھی اسے دوبارہ نہیں پڑھتا ، جو ایک بار لکھ لیا وہی میرا حتمی بھی ہوتا ہے۔ اپنے اُس پہلے کشمیری ڈرامے کے حوالے سے اتنا یاد ہے کہ یہ کہانی ایک بس کے گرد گھومتی تھی جس کی ایک سیٹ پر اتفاق سے ایک چور اور ایک سپاہی ساتھ ساتھ بیٹھا ہوتا ہے، جب کہ ایک اور سیٹ پر ایک فوجی اور فلاسفر بیٹھا ہوتا ہے۔اسی طرح ہر سیٹ پر کچھ متضاد طبیعتوں کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں جس میں قدرتی طور ایک ٹکراؤ پیدا ہوجاتاہے۔ اس ڈرامے کی کہانی کے حوالے سے آج بس اتنا ہی یاد ہے۔ یہ ڈرامہ میں نے جناب پران کشور صاحب کو دے دیا۔ اُس وقت میرے ساتھ میرے ایک دوست وجے کمار دَھر صاحب تھے۔ ہم دونوں دفتر میں ایک ساتھ کام کرتے تھے۔ وہ سٹیج سے وابستہ تھے ،اس لئے پران کشور صاحب سے ان کی تھوڑی بہت جان پہچان تھی۔ وجے کمار دَھر صاحب ۱۹۹۰ء میں اپنی فیملی کے ساتھ جموں چلے گئے اور وہیں اپنا مکان بنوالیا اور اب وہیں مقیم ہیں۔ وہ ایک مدت سے دُوردرشن کے لئے فلمیں بناتے ہیں اور اداکاری بھی کرتے ہیں۔ 
بہرحال پران کشور صاحب نے میرا ڈرامہ لیا اور کہا میں اسے پڑھوں گا اور آپ کو اس کے متعلق اطلاع دی جائے گی۔ کچھ وقت کے بعد مجھے معلوم ہوا(یہ یاد نہیں کہ آیا کسی نے کہا یا کہیں پہ پڑھ لیا)کہ جناب سومناتھ سادھو کا ایک ڈرامہ عنقریب ریڈیو سے نشر ہونے والا ہے۔ اُس ڈرامے کی کہانی کا جو خاکہ میرے علم میں آیا وہ مجھے لگا کہ وہ میرے پران کشور صاحب کو دئے گئے ڈرامے ’’وأران بونِہ ہیوند حاران کاؤ‘‘ سے ملتا جلتا ہے۔ پلاٹ کی اس یکسانیت سے میں حیران ہوا اورکچھ پریشان بھی۔میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، حماقت کی یہ انتہا کردی کہ ریڈیو کشمیر کے ڈائریکٹر کو چھٹی لکھ دی کہ سادھوؔ نے میری کہانی چوری کر کے اپنا ڈرامہ لکھا ہے۔ اپنی اُس حماقت کا افسوس مجھے مرتے دم تک رہے گا۔ اب دیکھئے کہ وہ کیسے لوگ تھے اور نوجوانوں اور نئے رائیٹرس کے ساتھ اُن کا کیسا برتاو تھا! کیسے باوقار اور کیسے بردبار تھے وہ لوگ! پران کشور صاحب نے مجھے خط لکھا کہ مجھ سے ملئے۔ اب جو میں نے وہ خط پڑھا تو تذبذب میں پڑگیا۔ ایک طرف خط لکھنے کی شرمندگی اور یہ خوف کہ نہ جانے وہ لوگ مجھ سے کس طرح پیش آئیں گے جس کے سبب میرا دل پران کشور صاحب سے ملنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا تھا مگر دوسری طرف یہ تمنا کہ ذرا دیکھوں کہ میرے ڈرامے کا کیا بنا۔آخر خدا کا نام لے کر چلا ہی گیا۔ وہاں جب پران کشور صاحب سے ملا تو پہلے انہوں نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں نے اپنا نام بتایا تو انہیں یاد آیا اور وہ بڑی خندہ پیشانی سے ملے۔ انہوں نے مجھے یہ نہیں کہا ـ اَبے! تیری کیا اوقات ہے، تیری کیا حیثیت ہے، تم کون سے تیس مار خان بن بیٹھے ہو جوسادھوؔ صاحب جیسے نامور ادیب اور ایک بڑی شخصیت کے خلاف یہ الزام لگا بیٹھے کہ انہوں نے تمہاری کہانی کی چوری کی ہے؟۔۔۔۔ انہوں نے یہ سب نہیں کہا بلکہ نہایت ہی نرم لہجے میں بس اتناکہا کہ آپ کا ڈرامہ ہم نے شیڈول کیا ہے اور وہ اگلے ماہ کی پہلی سوموار کو رات ساڑھے نو بجے نشر ہوگا، دو ایک دن میں اُس کی ریکارڈنگ ہورہی ہے۔ سادھوؔ صاحب کے ڈرامے کی کہانی بالکل مختلف ہے اور وہ آپ کی کہانی سے بالکل نہیں ملتی۔ پھر مسکراتے ہوئے بولے:اور کوئی شکایت تو نہیں ہے؟ میں تو پانی پانی ہوگیا تھا۔ میں نے اُن سے اجازت لی اور پران کشور صاحب کی ہی نہیں پورے ریڈیو کشمیر کی عزت اور محبت دل میں لئے ہوئے وہاں سے چلا آیا۔ 
ہاں کچھ تھوڑے سے بڑے ہوئے تو کشمیری زبان کے تئیں زیادہ پرجوش بنے۔ میں نے کشمیری میں سب سے پہلے اپنی شاعری پر مشتمل دو کتابیں چھاپ دیں۔ آج میں اس کلام کو محض بچپنا سمجھتا ہوں۔ ادبی حلقوں میں میری شناخت ایک افسانہ نگار کی بنی ہے اور اس میں آج تک میرے چار مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ افسانوں کی ابتدا میں نے اُردو زبان سے کی ہے اور میرا پہلا اُردو افسانہ روزنامہ’’ آفتاب‘‘ میں اس وقت چھپا جب میں 16 یا 17 سال کا تھا۔ اس کے بعد میرے اُردو افسانے برابر روزنامہ ’’آفتاب ‘‘ میں شائع ہوتے رہے۔ پھر میں نے کشمیری زبان میں لکھنا شروع کیا اور جیسے کہ زیرقلم سلسلہ وار مضامین کی پہلی قسطوں میں یہ عرض کرچکا ہوں کہ کشمیری میں پہلا افسانہ میں نے 1970ء میں لکھا۔ کشمیری افسانوں کے چار مجموعات کے علاوہ میری دیگر موضوعات پر، جو اردو اور انگریزی میں ہیں، تیراں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے میں نے پچاس کے قریب ڈرامے بھی لکھے ہیںاور گزشتہ چالیس برسوں میں میرے پانچ ہزار سے زیادہ مضامین یہاں کے اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع ہوئے ہوں گے۔ پھر 1990 ء سے ٹیلی ویژن کے لئے ڈرامے لکھنے چھوڑدئے ،اگرچہ کئی دفعہ اس کے لئے بڑی آفرز بھی ملیں مگر میں نے معذوری ظاہر کی۔  1995سے ٹیلی ویژن دیکھنا بھی بند کردیا، میرے پاس کوئی ٹیلی ویژن سیٹ نہیں ہے۔ ریڈیو کے لئے 2006 ء سے ڈرامے لکھنے بند کئے ،اگرچہ وہاں سے بھی کئی بار فرمائشیں آئیں مگر میں نے انکار کیا۔ گلیمر سے نفرت ہوگئی کیونکہ صوفیوں کی صحبت میں زندگی کا لطف ملا۔ دنیا کو فریب پایا اور فریب سے دل لگانا حماقت ہے۔ دل کو دل بنانے کی فکر ہوئی ،چنانچہ اس میں کسی کی نفرت کے لئے جگہ باقی نہیں رہی، جو بھی ہے میرے دل میں اس کے لئے محبت ہے۔ اللہ حق ہے، اسلام حق ہے، اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم حق ہے، جو انہوں نے فرمایا حق ہے، اور جو حق تعالیٰ کے ساتھ جڑگیا وہی باقی رہا اور جو اللہ کے سوا باقی چیزوں سے جڑا، اُسے زوال نے لپیٹ لیا   ؎
من کر صاف  تہ میلی زیرے
نتہ شالہ ٹنگو نیری نہ کینہہ
لل دید
{یعنی دل کو میل یعنی حسد، لالچ، بغض، جاہ طلبی، دنیا پرستی، کبر، شہوت، غصہ، غیبت، بد نظری، عیش پسندی اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک کرو گے تو اسے آسانی سے پاو گے، ورنہ گیڈر کی طرح شور مچانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا}۔
خیر بات ہورہی ہے ہماری کشمیری زبان کے تئیں زیادہ پرجوش بننے کی۔ شیخ محمد عبداللہ صاحب کی حکومت تھی، ہم نے سنا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کشمیر یونیورسٹی سے کشمیری ڈپارٹمنٹ بند کرنے جارہے ہیں۔ اس افواہ پر کشمیری ادبی حلقوں میں تشویش پیدا ہوگئی۔ میری جوانی کا جوش تھا۔ میں نے اپنی دو تصانیف کی کاپیاں مجوزہ فیصلہ کے خلاف احتجاج کے طور 14 جولائی 1981ء کو مائسمہ چوک سرینگر میں نذر آتش کردیں۔ یہاں کے سرکردہ اخباروں کے صفحہ اول پر فوٹو کے ساتھ اگلے دن یہ خبر چھپ گئی۔ حکومت میں ہلچل مچ گئی۔ اس وقت دربار مو کے سلسلے میں سرکاری دفاتر جموں منتقل ہوئے تھے۔ کابینہ کا اجلاس بلایا گیا اور اُس وقت کے وزیر تعلیم جناب محمد شفیع اوڑی صاحب نے ایک پریس کانفرنس میں میرا نام لئے بغیر مجھے زبردست انتباہ کیا۔ تاہم کشمیر یونیورسٹی سے کشمیری ڈپارٹمنٹ بند کرنے کا فیصلہ واپس لیا گیا۔اس احتجاج کے دوسرے روز پولیس مجھے بڑی تگ ودَو کے ساتھ تلاش کرنے لگی۔ میں پولیس کے ہاتھ تو نہ لگا مگر مائسمہ پولیس چوکی کے کچھ سپاہی جن میں ایک مائسمہ کا ہی رہنے والا تھا، میرے چھوٹے بھائی کو دوکان سے اٹھاکر اسی مائسمہ چوک میں لے آئے جہاں میں نے اپنی کتابوں کی کچھ کاپیاں جلادی تھیں، اور وہیں پر اس کا اتنا زدوکوب کیا کہ وہ لہولہان ہوگیا ، حتیٰ کہ اس کے کپڑے بھی پھاڑ دئے۔ اب اس بےچارے کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پولیس میرا زدوکوب کیوں کررہی ہے، وہ سرکاری ملازم تھا اور دفتر سے چھٹی کے بعد مائسمہ میں ایک دوکان پر آکر کھانا کھا رہا تھا۔ وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ میرے بڑے بھائی نے اپنی کچھ کتابیں کل یہاں چوک میں جلادی ہیں۔ روزنامہ’’ آفتاب‘‘ کے ایڈیٹر مرحوم خواجہ ثناءاللہ بٹ صاحب نے جب میرے بھائی کی ناگفتہ بہ حالت دیکھی تھی تو جذباتی ہوگئے تھے اور اگلے روز روزنامہ ’’آفتاب ‘‘ کے صفحہ اول پر یہ خبر سرخی بن کر چھپی تھی:
’’اپنے بھائیوں کے لئے پولیس کا ظالم وجابر ہاتھ
سرینگر؍؍ رپورٹر۔۔زمانے کی انقلاب انگیز تبدیلیوں کے باوجود کشمیر پولیس اپنے مظلوم بھائیوں کو غیر قانونی طور پر مارنے، پیٹنے، ان پر جبروظلم کرنے اور انہیں گالیاں دینے سے ذرا بھر نہیں ہچکچاتی اور اپنی اس روایت کو بڑی پابندی سے نبھا رہی ہے جو 1947ء کے بعد کشمیریوں کی تقدیر بن گئی ہے۔ کل بھی مائسمہ چوکی کے کچھ سپاہیوں نے ایک بے گناہ شہری کو پکڑ کر بلاوجہ مارا پیٹا، اس کے کپڑے اُتارےاور اسے لہولہان کردیا۔ اسے گالیاں بھی دی گئیں۔ ایسا کسی وحشی ملک ہی  میں ہوتا ہے ورنہ ملک کے دوسرے حصوں میں اگر پولیس کسی ملزم کو بھی پکڑتی ہے تو قانونی طور پر پولیس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اسے پکڑتے ہی مارے پیٹے اور گالیاں دےاور اس دور میں کچھ زیادہ ہی ’’گٹہ کار‘‘( اندھیارہ ) ہے جس دور کی حکومت کے سربراہ کشمیریوں پر مغلوں، پٹھانوں اور سکھوں کے جبرواستبداد کی پچھلی نصف صدی سے دہائی دیتے آئے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اسی ریاست میں بانہال پار پولیس والے کا ہاتھ اپنے بھائیوں پر اس طرح نہیں اٹھتا جس طرح یہاں اٹھتا ہے ، بلکہ وہاں پولیس عوام سے ڈرتی ہے اور حکومت کے چھوٹے بڑے اہل کار وہاں کے لوگوں کے شہری حقوق کو مقدس سمجھ کر ان کی پاسداری کرتی ہے۔ شاید اس لئے کہ وہاں انسان رہتے ہیں اور یہاں صرف بھیڑ بکریاں اور مال مویشی۔‘‘
میں اس صورت حال سے بے خبر تھا۔ شام کو جب میں گھر آیا تو دیکھا میرا بھائی زخمی حالت میں بستر پر پڑا ہے اور گھر کا کوئی فرد مجھ سے بات نہیں کررہا ہے۔ پہلے مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اس بے گناہ کو میری وجہ سے مار کھانی پڑی ہے۔
………………..
(بقیہ منگلوار کے شارے میں ملاحطہ فرمائیں)