یادوں کے جھروکوں سے

ہنوزاک پرتو نقش خیال یار باقی ہے 
دلافسردہ گویاحجرہ ہےیوسف کےزنداںکا
نہ ا آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو 
لیادانتوںمیںجوتنکاہواریشہ نیستاںکا
دکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانےنے
مرا ہر داغ دل ا ک تخم ہے سروچراغاں کا 
غالبؔ
میں اب اپنے آپ کو دیکھتے دیکھتے تھک چکا ہوں۔ نہ آئینہ بدلنے کی ہمت ہے اور نہ چہرہ چھپانے کا حوصلہ ہے۔ یادوں کی یلغار ہے جو کسی تند وتیز طوفان کی طرح مجھے کبھی ادھر اور کبھی ادھر دھکیل رہی ہے ، بس ایک طرف اللہ کے فضل کا کنارہ ہے جو لڑھکنے سے بچاتا ہے اور دوسری طرف اُمید کا کنارہ ہے جو سنبھالتا ہے۔
ذہن کے دھندلکے جیسے گھنے بادلوں کے پہاڑ ہیں جن سے ایسے چہرے اُبھرتے اور پھر ان میں ہی ڈوبتے رہتے ہیں جن سے زندگی کی کچھ صبحیں یا شامیں گزاری ہیں یا جن سے زمانے کی گردش میں دیر تک ساتھ رہا ہے۔ اب تو ہم 'ہم سے ہی بچھڑ گئے ہیں تو اپنا یہ چہرہ بھی کئی صورتوں میں اُبھرتا رہتا ہے، کبھی اپنا لگتا ہے، کبھی اپنا جیسا لگتا ہے اور کبھی اپنا لگتا ہی نہیں۔غور کریں تو لگتا ہے کہ اس دنیا کے رشتے ناطے برف کے گالوں کی طرح ہیں، آتے ہیں، پگھلتے ہیں اور بچھڑ جاتے ہیں۔
کبھی انسان ایک موضوع پر بات کرتا ہے مگر پھر باتوں باتوں میں دوسرا موضوع چھڑ جاتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہمارے کئی رشتہ دار رحلت فرماگئے۔ ان میں میرے ماموں صورہ کے غلام قادر بزاز بھی شامل ہیں۔ وہ کچھ ہی دن پہلے انتقال کرگئے۔ ان کی موت سے مجھے بہت صدمہ پہنچا کیونکہ وہ بھی چلے جس کے ساتھ میں کئی دہائیاں چلا ہوں۔ ایک ایک کرکے سب جدا ہورہے ہیں، اب یہ دنیا لطف کی چیز نہیں رہی۔ انسان کیا ہے؟ کچھ بھی تو نہیں۔ بس یادوں کو ٹھوس شکل دی جائے اور پھر اس شکل میں روح ڈال دی جائے، وہی ایک زندگی بن جاتی ہے۔ انہی یادوں سے جڑی زندگیاں جب بچھڑنے لگتی ہیں تو انسان کے اپنے جینے کی نیا بھی آنسو کے سیلاب میں ڈھولنے لگتی ہے۔ اس ماموں کے ساتھ میں نے جوانی کا طویل وقت گزارا تھا، اس کی جدائی نے مجھے اتنا رُلادیا کہ میں بہت مدت کے بعد جی بھر کر رویا۔ اپنے عزیز اقربا ایک ایک کرکے سب دار فانی سے کوچ کررہے ہیں اور میرے دل پر تیز اور گہری خراشیں لگ رہی ہیں۔ میری زندگی بھی اب کاغذ کی ناؤ بن گئی ہے جو ہوا کے ہلکے جھونکوں سے بھی ڈگمگانے لگ جاتی ہے۔ پتہ نہیں کب موت کا تیز ریلا آئے اور کاغذ کی یہ ناؤ بھی نظروں سے اوجھل ہوجائے!اللہ تبارک و تعالی میری والدہ کو صحت و سلامتی عطا کرے، کبھی جب فرصت کے لمحات لاشعور میں اُترنے پر آمادہ کرتے ہیں تو یادوں کے ذخائر کو کھوجنا شروع کرتا ہوں ، چنانچہ کچھ تلخ ذائقے میں کچھ ٹھنڈی آہوں کے ساتھ چرخے کی وہ تصویر بھی ذہن کے دھندلکوں سے اُبھر آتی ہے جس پر میری والدہ جوانی کے ایام میں پشمینہ کاتا کرتی تھیں اور ساتھ ساتھ میں  یہ کشمیری گیت بھی گنگنایا کرتی جاتی تھیں   ؎
میانہ  متیو   گژھن  چھ   تتوے
مو      لاگم     نیندری      ہتوے
یلہ      ییم       تورکھ     نادس
کیاہ   جواب  ونہ   تس  پیادس
کینہ نہ جواب تورہ کس وعدس
مو     لاگم      نیندری      ہتوے
یلہ  والنم  پچہ   پیٹھ   سرانس
آب    چھاونم      تانس    تانس
چھوت    کپرا      ولنم    پانس
مو    لاگم      نیندری      ہتوے
یلہ     ننم        تورچہ      ڈولے
ادہ      نسہ     کستور       بولے
اندہ   مزار    مور   میون  ڈولے
مو    لاگم      نیندری      ہتوے
یلہ    تراونم      قبرے       اندر
پیٹھہ   تراونم   خاک کیٔ    انبر
تتہ   ووتھنم  تلہ رے   تہ   بنبر
مو    لاگم     نیندری       ہتوے
یلہ      ینم       زہ         موکلے
اکھ شاندہ تہ بیاکھ  کھورہ تلے
تم   وچھت   شین    زن     گلے
مو     لاگم     نیندری     ہتوے
مجھے معلوم نہیں کہ یہ کس کشمیری شاعر کا کلام ہے، تاہم میں نے بھی اس کلام ِ جان فزا کا مفہوماتی اردو ترجمہ کر نے کی ادنیٰ سی کوشش کی ہے حالانکہ میں مانتا ہوں کہ درحقیقت کسی تخلیق کا ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ ہو ہی نہیں ہوسکتا ۔ ملاحظہ ہو ترجمہـ:
جاگ جا اے میرے نفس!
کب تک تو غفلت کی نیند میں پڑا رہے گا!
اے پگلے نفس، کیا تجھے خیال نہیں کہ تجھے جانا کہاں ہے؟
جب موت کا پیام بر بلانے آئے گا تو میں اسے کیسے روک سکتی ہوں؟
آج تک کس سے اس کو روکنے کا جواب بن پڑا ہے؟
 جاگ جا اے میرے نفس!
کب تک تو غفلت کی نیند میں پڑا رہے گا!
اے دیوانے نفس! کیا تجھے خیال نہیں کہ تجھے جانا کہاں ہے؟
جب مجھے تختے پر غسل کے لئے لے جایا جائے گا
میرے ہر عضو پہ پانی بہایا جائے گا
پھر مجھے ایک بے رنگ کپڑے میں لپیٹا جائے گا
 جاگ جا اے میرے نفس!
کب تک تو غفلت کی نیند میں پڑا رہے گا!
ارے پگلے نفس، کیا تجھے خیال نہیں کہ تجھے جانا کہاں ہے؟
پھر وہ ڈولی (تابوت) آئے گی اور اسی میں ڈال کر مجھے مزار تک لے جایا جائے گا۔ پھر تم دیکھو گے کہ یہ زبان جو ہر وقت بولتی اور بڑبڑاتی رہتی ہے، ایسے گنگ ہوچکی ہوگی جیسے کبھی بولی ہی نہ تھی۔ اس کے بعد قبرستان کے کسے کنارے مجھے دفن کیا جائے گا۔
 جاگ جا اے میرے نفس!
کب تک تو غفلت کی نیند میں پڑا رہے گا!
اے دیوانے، کیا تجھے خیال نہیں کہ تجھے جانا کہاں ہے؟
جب مجھے لحد میں اُتارا جائے گا تو منوں مٹی اوپر ڈال دی جائے گی، اور پھر یہ بدن جس پر مجھے ناز تھا، کیڑے مکوڑوں کی خوراک ہوگی۔
 جاگ جا اے میرے نفس!
کب تک تو غفلت کی نیند میں پڑا رہے گا!
ارے پگلے! کیا تجھے خیال نہیں کہ تجھے جانا کہاں ہے؟
پھر نکیر منکر نام کے دو فرشتے آئیں گے۔ 
ایک میرے سرہانے اور دوسرا پیروں کی طرف سے کھڑا ہوگا۔
 ان کو دیکھ کر گھبراہٹ میں میری یہ حالت ہوگی جیسے برف کی دھوپ میں ہوتی ہے۔
 جاگ جا اے میرے نفس! 
کب تک تو غفلت کی نیند میں پڑا رہے گا!
ارے دیوانے! کیا تجھے خیال نہیں کہ تجھے جانا کہاں ہے؟
۔۔۔۔
کشمیر میں کتنے انقلابات آئے ؟ جبرواستبداد کی کتنی دردناک کہانیوں کا جنم ہوا؟ کشمیری کتنے و حشت ناک مظالم کا شکار ہوئے ؟ وقت کی کتنی چیرہ دستیوں نے یہاں کس قدر انسانیت کا حلیہ بگاڑ دیا؟ کتنی ہی اشتعال انگیزیاں ہوئیں اور کیسے کیسے لوگوں کے جذبات کو کچلا گیا؟ مگر اس سب کے باوجود شہر خاص سری نگر کے حول ائیریا میں جڈی بل کے متصل ایک کشمیری پنڈت کے نام پر جو محلہ قائم ہے، وہ آج بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے اور راشن ٹکٹوں اور دوسرے دستاویزات پر لکھا جاتا ہے۔ اس نام کو بدلانے کے لئے مسلمانوں نے نہ کبھی کوئی ایجی ٹیشن چلائی اور نہ ہی کبھی اس نام کو بدلنے کا خیال بھی کسی کے ذہن میں آیا۔ صدیاں گزرگئیں وہ محلہ آج بھی شری بھٹ محلہ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہی اس محلے کی شناخت رہنے دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بڈشاہ کے والد سلطان سکندر کے دور میں بھی کچھ کشمیری پنڈت یہاں سے ترک ِمکانی کر گئے تھے مگر کچھ نے اپنا وطن نہیں چھوڑا تھا جن میں شری بھٹ نامی پنڈت وید بھی تھا۔ اس کی رسائی بادشاہ تک تھی اور اس نے بڈشاہ کے ہاتھ پر نکل آئے پھوڑے کا کامیاب علاج کیا تھا۔
 کہتے ہیںکشمیری پنڈتوں کا عام مزاج آرام طلبی کا ہے۔ یہ معمولی تکلیف اور پریشانی سے بھی گھبراجاتے ہیں۔ مشقت کا مادہ ان میں بہت کم ہے۔ اسی لئے جب سلطان سکندر کے وزیر اعظم( سہہ بھٹ) نے اسلام قبول کیا، وہ پختہ مسلمان بنا، تو اس کے خلاف کچھ کشمیری پنڈتوں کو یہ شکایت رہی کہ یہ ہم پر سختیاں کررہا ہے۔ اس وجہ سے پنڈتوں کی بڑی تعداد ترک وطن کر کے کشمیر سے باہر دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ ایک خاصی تعداد نے مائیگرنٹ ہونے کے بجائے کشمیر میں ہی رہنے کو ترجیح دی ،ان میں شری بھٹ بھی شامل تھا۔ ایسی ہی کہانی 1990ء میں بھی ہوئی۔ گو کہ یہ بات تعجب خیز ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی ہے کہ اس بار سختیاں مسلمانوں پر ہورہی تھیں، مارے مسلمان جارہے تھے اور مکانات ان کے نذر آتش کئے جارہے تھے مگر حیرت یہ کہ کشمیر سے فرار لیا کشمیری پنڈتوں نے ۔بہرحال اُمید یہی ہے کہ پنڈت بھائی ایک دن ضرور بخوشی اپنا وطن واپس آئیں گے۔پنڈتوں کا مجھ پر بہت حق ہے کیونکہ نہ صرف میرے دوستوں میں زیادہ تعداد پنڈتوں کی تھی بلکہ میرے اساتذہ میں بھی زیادہ تعداد پنڈتوں ہی کی تھی۔آیندہ بھی جب کبھی موقع ملے گا تو اس حوالےسےاپنی یادوں تک قارئین کو بھی رسائی دینے کی کوشش کرتا رہوں گا۔ یہاں بتاتا چلوں کہ میں سائینس کا سٹوڈنٹ رہا ہوں۔ میں نے اردو ایک سبجیکٹ کی حیثیت میں نہیں پڑھا ہے۔ اردو کے کچھ ناول پڑھے باور کچھ اردو کے جرائد سے دلچسپی تھی ،جس سے اردو زبان میں لکھنے کی استعداد نصیب ہوئی، تاہم تلفظ کی جہاں تک بات ہے اردو اور انگریزی دور کی رہی، کشمیری میں بھی ڈھنگ کا نہیں ہے۔ خیروقت کی مجبوریوں اور بے حد مصروفیات نے انسان کو ایک دوسرے سے بہت دور کردیا ہے، اس لئے اپنی کہانی کا سلسلہ جاری کرنے کے پیچھے یہی مدعا ومنشا ہے اور اُمید بھی کہ میرے دوست اس کو پڑھ کر شاید میری صحبت کا لطف لیں گے اور جن دیگر دوستوں کا اس میں ذکر آئے گا ،اُن کی قربت کا بھی احساس ہوگا اور جہاں بزرگوں کی بات آئے گی وہاں قلبی بشاشت اور آسودگی بھی حاصل ہوگی۔
 سچ کہا ہے کسی نےبات سے بات نکلتی ہے اور پھر یوں ہی دراز ہو جاتی ہے۔انگریز شاعر تھامس مورےؔ نے جب 1817 میں کشمیر پر’’لالہ رُخ‘‘ کے عنوان سے اپنی طویل نظم لکھی تو پورا یورپ جھومنے لگا اور اس کتاب کی ایک لاکھ کاپیاں ہاتھوں ہاتھ بِک گئیں۔ یہاں کے پھسلتے جھرنوں میں قدرت کے نغمے ہیں، دہکتے پھولوں میں حُسن یوسفؑ کی مہک ہے،پرُ کشش مناظر میں ید بیضا کا اثر ہے، میٹھے پانی میں دَمِ عیسیٰؑ کی تاثیر ہے، پہاڑیوں کی بلندیوں میں عرفان کا درس ہے، درختوں کے تھرکتے پتوں میں ممتا کی ٹھنڈک ہے، مخمور فضا میں محبت کی مستی ہے، رسیلے پھلوں میں حوروں کے بوسے ہیں، پرندوں کی بولیوں میں زندگی کی بشارتیں ہیں، غرض قطرے قطرے اور ذرے ذرے میں خدائے واحد کی نشانیاں اور تجلیات پنہاں ہیں اور معرفت کے دفاتر مخفی ہیں۔ یہ خطۂ زمین ایسا ہے کہ جو یہاں آتا ہے تو پھراُس کا لوٹنے کو جی نہیں چاہتااور لوٹ بھی گیا تو پھر یادیں نہیں چھوڑتیں۔ گویا بقول احمد فراز   ؎
…………………………
(بقیہ منگل کے شارے میں ملاحظہ فرمائیں)