یادش بخیر

چاکسو(خورد) دراصل ایک قدیم گاؤں تھاجوچاکسوکلاں سےچھوٹاتھا۔ یہاںلوگ اب تک ہوائی جہازکوچیل گاڑی کےنام سےیادکرتےتھی لیکن آغا اپنے لعابِ دہن سےاس کےگرداگردیادوں کاریشمی جالابُنتےرہے، یہاں تک کہ اُس نےایک تہ دار کوئےکی شکل اختیارکرلی جسےچیرکر(آغاکاتوکیاذکر)جمیع باشندگانِ چاکسوباہرنہیں نکل سکتےتھے۔ ادھرچنددنوں سےوہ ان تنگ وتاریک گلیوں کو یاد کرکے زاروقطار رورہےتھے، جہاں بقول ان کےجوانی کھوئی تھی۔ حالانکہ ہم سب کو ان کی سوانح عمری میں سوانح کم، اورعمرزیادہ نظرآتی تھی لیکن جب اُن کےیادش بخیریانےشدت اختیارکی تودوستوں میں یہ صلاح ٹھہری کہ ان کودوتین مہینےکےلیےاسی گاؤں میں بھیج دیاجائےجس کی زمین ان کوحافظےکی خرابی کےسبب چہارم آسمان دکھائی دیتی ہے۔
چنانچہ گزشتہ مارچ میں آغاایک مدّت مدید(تیس سال) کےبعداپنےگاؤں گئے لیکن وہاں سےلوٹےتوکافی آزردہ تھے۔ انھیں اس بات سےرنج پہنچاکہ جہاں پہلےایک جوہڑتھاجس میں دن بھربھینسیں اوران کےمالکوں کےبچےپڑےرہتےتھے، وہاں پراب ایک پرائمری اسکول کھڑاتھا۔ اس میں انھیں صریحاً چاکسُو کلاں والوں کی شرارت معلوم ہوتی تھی ۔ جُوں توُں ایک دن وہاں گزارااورپہلی ٹرین سےاپنی پُرانی یونیورسٹی پہنچے مگروہاں سےبھی شاموں شام واپس آئے، بےحدمغموم وگرفتہ دل ۔ انھیں یہ دیکھ کربڑی مایوسی ہوئی کہ یونیورسٹی اب تک چل رہی ہے! ان جیسےحسّاس آدمی کےلیےبڑےدُکھ اوراچنبھےکی بات تھی کہ وہاں مارچ میں اب پھول کھلتےہیں اورگلاب سُرخ اورسبزہ ہراہوتا ہے۔ دراصل ایک مثالی ’’اولڈبوائے‘‘ کی طرح وہ اس وقت تک اس صحت مند غلط فہمی میں مبتلاتھےکہ ساری چونچالی اورتمام خوش دلی اورخوش باشی ان کی نسل پرختم ہوگئی۔
آغاکی عمرکابھیدنہیں کھلالیکن جن دِنوں میراتعارف ہوا،وہ عمرکی اس کٹھن گھاٹی سےگزررہےتھےجب جوان اُن کوبوڑھاجان کرکتراتےاوربوڑھےکل کالونڈاسمجھ کرمنہ نہیں لگاتےتھے۔ جن حضرات کوآغااپناہم عمربتاتےرہے، ان میں سےاکثراُن کومنہ درمنہ چچاکہتےتھے۔خیر،ان کی عمرکچھ بھی ہو، مگرمیرا خیال ہےکہ وہ اُن لوگوں میں سےتھےجوکبھی جوان نہیں ہوتے۔ جب کبھی وہ اپنی جوانی کےقصّےسنانےبیٹھتےتونوجوان ان کویکسرفرضی سمجھتے۔ وہ غلطی پرتھے کیونکہ قصّےہی نہیں، ان کی ساری جوانی قطعی فرضی تھی۔ ویسےیہ کوئی انہونی بات نہیں، اس لیےکہ بعض اشخاص عمرکی کسی نہ کسی منزل کوپھلانگ جاتےہیں۔ مثال کےطورپرشیخ سعدیؔ کےمتعلق یہ باورکرنےکوجی نہیں چاہتاکہ وہ کبھی بچہ رہےہوں گے۔ حالیؔ جوان ہونے سے پیش تربڑھاگئے۔مہدی الافادی ؔجذباتی اعتبارسےادھیڑ پیدا ہوئے اور ادھیڑ مرے۔ شبلیؔ نےعمر طبیعی کےخلاف جہاد کرکےثابت کردیاکہ عشق عطیہ قدرت ہے،پیروجواں کی قیدنہیں۔   ع
مومن ہےتوبےتیغ بھی لڑتاہےسپاہی
اوراخترشیرانی جب تک جئےدائمی نوجوانی میں مبتلارہےاور آخراسی میں انتقال کیا۔ اس سےاخترشیرانی کی تنقیض یا آغاکی مذمت مقصودنہیں کہ میرےکانوں میں آج بھی آغاکےوہ الفاظ گونج رہےہیں جوانھوں نےٹیگورپرنکتہ چینی کرتےہوئےکہےتھی:’’برامانویابھلا لیکن جوان مولوی اور بوڑھے شاعر پر اپنا دل تونہیں ٹھکتا،کیاسمجھے؟‘‘
اُن کی شادی کےمتعلق اتنی ہی روایتیں تھیں جتنےان کےدوست !بعضوں کاکہناتھاکہ بی ۔اےکےنتیجےسےاس قدربددل ہوئےکہ خودکشی کی ٹھان لی۔ بوڑھےوالدین نےسمجھایاکہ بیٹاخودکشی نہ کرو، شادی کرلو۔ چنانچہ شادی ہوگئی مگرابھی سہرےکےپھول بھی پوری طرح نہ مرجھائےہوں گےکہ یہ فکر لاحق ہوگئی کہ بچپن انھیں اسیر پنجہ عہدٔشباب کرکےکہاں چلاگیااوروہ اپنی آزادی کےایام کوبےطرح یاد کرنے لگے،حتیٰ کہ اُس نیک بخت کوبھی رحم آگیااوروہ ہمیشہ کےلیےاپنےمیکےچلی گئی۔
اس سےمہربخشوانےکےٹھیک پندرہ سال بعدایک خاتون کومحض اس بناپرحبالۂ نکاح میں لائےکہ پنتیس سال اورتین شوہرقبل موصوفہ نےچاکسومیں اُن کےساتھ اماوس کی رات میں آنکھ مچولی کھیلتےوقت چٹکی لی تھی۔جس کا نیل ان کےحافظےمیں جُوں کا تُوں محفوظ تھا لیکن آغااپنی عادت سے مجبور تھے۔ اس کےسامنےاپنی پہلی بیوی کی اٹھتےبیٹھتےاس قدرتعریف کی کہ اس نےبہت جلد طلاق لےلی۔ اتنی جلدکہ ایک دن انگلیوں پرحساب لگایا تو بچاری کی ازواجی زندگی، عدت کی میعادسےبھی مختصرنکلی! آغاہرسال نہایت پابندی اوردھوم دھام سےدونوں طلاقوں کی سالگرہ منایاکرتےتھے۔ پہلی طلاق کی سلورجوبلی راقم الحروف کوبھی شرکت کااتفاق ہوا۔دوسری خانہ بربادی کےبعدشادی نہیں، اگرچہ نظرمیں آخری دم تک سہرےکےپھول کِھلتے اور مہکتے رہے۔یوں ترنگ میں ہوں توانھیں ہرعاقل وبالغ خاتون میں اپنی اہلیہ بننےکی صلاحیت نظرآتی تھی۔ ایسےنازک ونایاب لمحات میں وہ کتابوں کی الماری سے بیئر پینےکاایک گلاس نکالتےجوایک یادگارنمائش سےدودھ پینےکےلیےخریداتھا۔ اب اس میں سکنجبین بھرکےجُرعہ جُرعہ حلق میں انڈیلتےرہتےاورماضی کےنشہ سےسرشارہوکرخوب بہکتے۔ اپنےآپ پرسنگین تہمتیں لگاتےاورعورت ذات کونقصان پہنچانےکےضمن میں ٥٥ ؍سالہ منصوبوں کااعلان کرتےجاتے۔ پھرجیسےجیسےعمراورناتجربہ کاری بڑھتی گئی وہ ہرخاموش خاتون کونیم رضامندسمجھنےلگے۔ نہ جانےکیوں اورکیسےانھیں یہ اندیشہ ہوچلاتھاکہ حوّاکی ساری نسل انہی کی گھات میں بیٹھی ہے مگرکسی اللہ کی بندی کی ہمّت نہیں پڑتی کہ اُن کی پُرغرورگردن میں گھنٹی باندھ دے، لیکن سوائے آغا کے سب جانتے تھےکہ وہ صنفِ نازک کےحضورہمیشہ سرتاپا! بن کرگئےجب کہ انھیں مجسّم ؟ ہوناچاہیےتھا۔ایک دن چگی ڈاڑھی والےدرویش نےدبی زبان سےکہاکہ آغاتم دہلیز ہی چومتے رہ گئے۔دستک دینےکی ہمت تمھیں کبھی نہیں ہوئی۔ ہنسے، کہنےلگے، میاں! ہم تودرویش ہیں۔ اک گھونٹ لیا، دل شادکیا، خوش ہوئےاورچل نِکلے۔ ملنگ کےدل میں سبیل پرقبضہ کرنےکی خواہش نہیں ہوتی۔
سینمادیکھنےکےشائق تھے۔ اگرچہ اس کےمواقع بہت کم ملتےتھے۔ صرف وہ تصویریں چاؤ سےدیکھتےجِن میں اُن کےزمانے کی محبوب ایکٹرسیں ہیروئن کارول اداکررہی ہوں مگردِقت یہ تھی کہ ان کےچہرےیاتواب اسکرین پرنظرہی نہیں آتےتھے، یاپھرضرورت سےزیادہ نظرآجاتےتھے۔ اُن میں سےجوحیات تھیںاورچلنےپھرنےکےقابل، وہ اب ہیروئن کی نانی اورساس کارول نہایت خوش اسلوبی سےاداکررہی تھیں، جس سےظاہر ہے کہ آغاکوکیادلچسپی ہوسکتی ہے۔ البتہ چھٹےچھماہے’’پکار‘‘ یا’’ماتاہری‘‘قسم کی فلم آجاتی توآغاکےدل کاکنول کِھل جاتا۔چگی ڈاڑھی والےدرویش کابیان ہےکہ آغا گریٹا گاربو پر محض اس لیےفریفتہ تھےکہ وہ انہی کی عمرکی تھی۔ ہرچند اس قبیل کی فلمیں دیکھ کرہرتندرست آدمی کواپنی سماعت اوربصارت پر شبہ ہونے لگتا لیکن آغا کو ان کےمناظراورمکالمےاَزبرہوچکےتھےاوروہ اس معاملےمیں،ہماری آپ کی طرح، اپنےحواس خمسہ کےچنداں محتاج نہ تھے۔ یہ باسی فلمیں دیکھتےوقت انھیں ایک باڑھ پر آئے ہوئے بدن کی جانی پہچانی تیزوترش مہک آتی جواپنےہی وجودکےکسی گوشےسےپھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔باسی پھول میں جیسےخوش بوپھول پہننےوالےکی ان کےمٹتے ہوئےنقوش میں اور ان مقامات پرجہاں پچیس سال پہلےدل بُری طرح دھڑکاتھا،انھیں ایک بچھڑےہوئےہمزادکاعکس دکھائی دیتاجووقت کےاُس پارانھیں بلارہاتھا۔ 
سب جانتےتھےکہ آغاکی زندگی بہت جلدایک خاص نقطےپرپہنچ کرساکن ہوگئی، جیسےگراموفون کی سوئی کسی میٹھےبول پراٹک جائے لیکن کم احباب کوعلم ہوگاکہ آغا اپنے ذہنی ہکلے پن سےبےخبرنہ تھے۔ اکثرکہاکرتےکہ جس وقت میرےہم سن کبڈی میں وقت ضائع کرتےہوتے، تومیں اکیلاجوہڑکےکنارےبیٹھااپنی یادداشت سےریت اورگارےکالال قلعہ بناتاجسےمیں نےپہلی باراُس زمانےمیں دیکھاتھاجب حلوہ سوہن کھاتےہوئےپہلادودھ کادانت ٹوٹاتھا۔ بڑےہوکرآغانےشاہ جہانی شغل(ہمارااشارہ حلواسوہن سےدانت اکھاڑنےکی طرف نہیں، تعمیر قلعہ جات کی طرف ہی) ترک نہیں کیا۔بس ذراترمیم کرلی، اب بھی وہ یادوں کےقلعےبناتےتھے۔ فرق صرف اتناتھاکہ اب بہتر مسالہ لگاتےاورریت کےبجائےاصلی سنگ مرمروافرمقدارمیں استعمال کرتے بلکہ جہاں صرف سِل کی گنجائش ہوتی، وہاں دولگاتے۔ نیزبُرج اورمینارنقشےکے مطابق بےجوڑہاتھی دانت کےبناتے۔مدّت العمرشیشےکی فصیلوں پراپنی منجنیق نصب کرکےوہ بالشتیوں کی دنیاپرپتھراؤ کرتےرہے۔ ان قلعوں میں غنیم کےداخل ہونےکاکوئی راستہ نہیں تھا بلکہ اپنےنکلنےکابھی کوئی راستہ نہیں رکھاتھا۔
یہ نہیں کہ انھیں اس کااحساس نہ ہو۔ اپناحال ان پربخوبی روشن تھا۔ اس کاعلم مجھےیوں ہواکہ ایک دفعہ باتوں ہی باتوں میں یہ بحث چل نکلی کہ ماضی سےلگاؤ ضعف پیداکرتاہے۔ پہلےدرویش (جن کاروپیہ ان کی جوانی سےپہلےجواب دےگیا)نے تائیدکرتےہوئےفرمایاکہ جتناوقت اورروپیہ بچّوں کو ’’مُسلمانوں کےسائنس پراحسانات ‘‘ رٹانےمیں صرف کیاجاتا ہے، اس کادسواں حصّہ بھی بچوں کوسائنس پڑھانےمیں صرف کیاجائےتومسلمانوں پر بڑا احسان ہوگا۔ غورکیجئےتوامریکہ کی ترقی کاسبب یہی ہےکہ اس کاکوئی ماضی نہیں۔چگی ڈاڑھی والادرویش گویاہوا:قدیم داستانوں میں باربارایسے آسیبی صحراکاذکرآتاہے، جہاں آدمی پیچھےمڑکردیکھ لے تو پتّھر کا ہوجائے۔یہ صحراہمارےاپنےمن کےاندرہے، باہرنہیں!‘‘پہلےدرویش نے بپھر کر دیومالا سے منطقی نتیجہ نکالتےہوئےکہا:اپنےماضی سےشیفتگی رکھنےوالوں کی مثال ایک ایسی مخلوق کی سی ہےجس کی آنکھیں گُدّی کےپیچھےلگی ہوئی ہوں۔ چھان بین کیجئےتوبات بات پریادایّامیکہ اور’’یادش بخیر‘‘کی ہانک لگانےوالےوہی نکلیں گےجن کامستقبل نہیں۔
آغانےیک لخت ماضی کےمرغزاروں سےسرنکال کرفائرکیا،’’یادش بخیر‘‘کی بھی ایک ہی رہی ۔ اپناتوعقیدہ ہےکہ جسےماضی یادنہیں آتااس کی زندگی میں شایدکبھی کچھ ہواہی نہیں لیکن جواپنےماضی کویادہی نہیں کرناچاہتا ہووہ یقیناًلوفررہاہوگاکیاسمجھے؟
مدتیں گزریں، ٹھیک یادنہیں بحث کن دِل آزارمراحل سےگزرتی ،اس تجریدی نکتے پر آپہنچی کہ ماضی ہی اٹل حقیقت ہے۔ اس لئے کہ ایک نہ ایک دن یہ اژدھاحال اورمستقبل دونوں کونگل جائےگا۔ دیکھاجائےتوہرلمحہ اورہرلحظہ ، ہرآن اورہرپل ماضی کی جیت ہورہی ہے۔ آنےوالاکل آج میں اورآج گزرےہوئےکل میں بدل جاتا ہے۔ اس پرپہلےدرویش نےیہ فیصلہ صادرفرمایاکہ ایشا ٔکاحال اس شخض جیساہےجس نے گئےجنم کی تمنّامیں خودکشی کرلی۔
مشرق نےکبھی پل کےرُو پ سرروپ سےپیارکرنانہیں سیکھا۔ جیناہےتوپِھسلتےسرسراتےلمحےکودانتوں سےپکڑو۔ گزرتےلمحےکوبےجھپک چھاتی سےلگاؤ، اس کی نس نس میں ماضی کانیم گرم خُون دوڑ رہا ہے۔ اسی کی جیتی جیتی کوکھ سےمستقبل جنم لےگا اوراپنی چھل بل دکھاکرآخر اسی طرف لوٹےگا۔یہاں چگی ڈاڑھی والےدرویش نےاچانک بریک لگایا:آپ کےننھے منے لمحےکےنجیب الطرفین ہونے میں کیا کلام ہے،لیکن بیتی ہوئی گھڑیوں کی آرزو کرنا ایسا ہی ہےجیسےٹوتھ پیسٹ کوواپس ٹیوب میں گھسانا!لاکھ یہ دنیاظلمت کدہ سہی لیکن کیا اچھاہوکہ ہم ماضی کےدُھندلےخاکوں میں چیختے چنگھاڑتے رنگ بھرنےکی بجائےحال کوروشن کرناسیکھیں۔
آغانےایک بارپھرتُرپ پھینکا:بھئی ہم توباورچی خانےپرسفیدی کرنےکےقائل نہیں!
بات یہ ہےکہ بہت کم لوگ جی داری سےادھیڑپن کامقابلہ کرپاتےہیں ۔ غبی ہوں تواس کےوجودسےہی منحرف ۔۔۔اورذراذہین ہوں توپہلاسفیدبال نظر پڑتےہی اپنی کایاکوماضی کی اندھی سرنگ کےخنک اندھیروں میں ٹھنڈاہونےکےلیےڈال دیتےہیںاوروہاں سےنکلنےکانام نہیں لیتےجب تک کہ وقت ان کےسروں پربرف کےگالےنہ بکھیردی۔ بال سفیدکرنےکےلیےاگرچہ کسی تیاگ اورتپسیاکی ضرورت نہیں، تاہم ایک رچی بسی باوقاسپردگی کےساتھ بوڑھے ہونےکافن اورایک آن کےساتھ پسپاہونےکےپینترےبڑی مشکل سے آتے ہیں اورایک بڑھاپےپرہی موقوف نہیں۔ حُسن اورجوانی سےبہرہ یاب ہونےکاسلیقہ بھی کچھ کچھ اس وقت پیداہوتاہےجب واہ ایک گہری آہ اورآہ ایک لمبی کراہ میں بد ل چکی ہوتی ہے۔
قدرت کےکھیل نرالےہیں۔ جب وہ دانت دیتی ہےتوچنےنہیں ہوتے اورجب چنےدینےپرآتی ہےتودانت ندارد۔ آغاکاالمیہ یہ تھاکہ جب قدرت نےان کو دانت اورچنےدونوں بخشےتو انھوں نےدانتوں کواستعمال نہیں کیا لیکن جب دانت عدم استعمال سےکمزورہوکرایک ایک کرکےگرگئےتوانھیں پہلی دفعہ چنوں کےسوندھےوجودکااحساس ہوا۔پہلےتوبہت سٹپٹائے، پھردانتوں کو یاد کرکےخود روتےاوردنیا کو رُلاتے رہے۔عبارت آرائی برطرف، امرواقع یہ ہےکہ آغانےبچپن اورجوانی میں بجزشطرنج کےکوئی کھیل نہیں کھیلا۔ حدیہ کہ جوتےکےتسمےبھی کھڑےکھڑےاپنےنوکروں سے بندھوائے مگر جونہی پچپن کےپیٹےمیں آئے، اس بات سےبڑےرنجیدہ رہنےلگےکہ اب ہم تین قِسطوں میں بھی ایک بیٹھک نہیں لگاسکتے۔ اس میں وہ قدرےغلوسےکام لیتے تھے۔ کیونکہ ہم نےبچشمِ خوددیکھاکہ نہ صرف ایک ہی ہلّےمیں اُڑاُڑاکےبیٹھ جاتے، بلکہ اکثروبیشتربیٹھےہی رہ جاتے۔ اس لحاظ سے چگی ڈاڑھی والےدرویش بھی کچھ کم نہ تھے۔ زندگی بھرکیرم کھیلااورجاسوسی ناول پڑھے۔ اب ان حالوں کو پہنچ گئےتھےکہ اپنی سال گرہ کےکیک کی موم بتیاں تک پھونک مارکرنہیں بجھاسکتےتھے۔ لہٰذاان کےنواسےکوپنکھاجھل کربجھاناپڑتی تھیں۔ اس کےعلاوہ نظراتنی موٹی ہوگئی تھی کہ عورتوں نےان سےپردہ کرنا چھوڑ دیا۔عمرکااندازہ بس اس سےکرلیجئےکہ تین مصنوعی دانت تک ٹوٹ چکےتھے۔بایں سامانِ عاقبت،شکلاجی اورآغاکےسامنےاکثر رباعی کےپردےمیں اپنی ایک آرزوکابرملااظہارکرتےجسےکم وبیش سےاپناخون جگر پلا پلا کرپال رہےتھے۔خلاصہ اس دائمی حسرت کایہ تھاکہ ننانوےسال کی عمرپائیں اورمرنےسےپہلےایک ۔۔ بس ایک بار۔۔مجرمانہ دست درازی میں ماخوذہوں۔ ایک دفعہ زکام میںمبتلا تھے، مجھ سےفرمائش کی :میاں!میری رباعی ترنّم سےپڑھ کرسناؤ۔میں نےتامل کیا،فرمایا:پڑھوبھی۔ شرع اورشاعری میں کاہےکی شرم!
گو آغاتمام عمررہین ستم ہائےروزگاررہےلیکن چاکسوکی یاد سےایک لحظہ غافل نہیں رہے۔ چنانچہ ان کی میّت آخری وصیت کےمطابق سات سومیل دور چاکسو خورد لےجائی گئی۔ اورچاکسوکلاں کی جانب پاؤں کرکےاسےقبرمیں اُتاراگیا۔
لاریب وہ جنتی تھے کیونکہ وہ کسی بُرےمیں نہیں تھے۔ انھوں نےاپنی ذات کےعلاوہ کبھی کسی کوگزندنہیں پہنچایا۔ ان کےجنتّی ہونےمیں یوں بھی شبہ نہیں کہ جنت واحدایسی جگہ ہےجس کاحال اورمستقبل اس کےماضی سےبہتر نہیں ہوسکتا!لیکن نہ جانےکیوں میرادل گواہی دیتاہےکہ وہ جنّت میں بھی خوش نہیں ہوں گےاوریادش بخیرکہہ کرجنتیوں کواسی جہان گذراں کی داستان پاستاں سنا سناکر للچاتے ہوں گےجِسےجیتےجی دوزخ سمجھتے رہے ۔
(ختم شد)