یاتری ہوں یا سیاح، ہمارے مہمان

سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کشمیری عوام کی مذہبی رواداری ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مہمان نوازی کی عظیم روایات کو پوری دنیا کیلئے ایک مثال قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امرناتھ کیلئے آنے والے یاتری ہمارے مہمان ہیں اور ان کی مہما ن نوازی ان ہی شاندار روایات کے مطابق کی جائیگی۔قائدین نے کہا کہ چاہے سیاح ہوں یا یاتری کشمیری عوام نے ہمیشہ اور مشکل اور بدترین حالات میں بھی اپنی اسلامی  قدروںاور مہمان نوازی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ان لوگوںکا نہ صرف خیر مقدم کیا ہے بلکہ ان کو تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ قائدین نے بھارت کے سرکاری میڈیا کی جانب سے اس ضمن میں کئے جارہے پروپیگنڈے کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یاتریوں کے تحفظ کے حوالے سے جو غلط تاثر دیا جارہا ہے وہ حقیقت سے کوسوں دور اور محض پروپیگنڈا ہے جو میڈیا کے اس حصے کا ہمیشہ وطیرہ رہا ہے اور جس کے تحت وہ کشمیر کے حالات کی صحیح عکاسی کرنے کے بجائے یہاں کے حالات کو توڑ مروڑ کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔قائدین نے کہا کہ ہم ان یاتریوں اور سیاحوں کو اپنی اور کشمیری عوام کی جانب سے یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام کی جانب سے ان کو کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور وہ کشمیری عوام اور یہاں کے حالات کے حوالے سے کئے جارہے منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے بے خوف ہوکر اپنی مذہبی فریضہ کو انجام دیں۔