یاتریوں پر حملے کیخلاف وسیع پیمانےپر مذمت جاری

 حملہ غیر انسانی فعل

پہلگام میں تاجروں،ٹیکسی ڈرائیوروں اور لنگر منتظمین کا احتجاجی مظاہرہ

 
ملک عبدالسلام 
 
اننت ناگ //یاتریوںکی حفاظت اور خدمت پر مامور کشمیری تاجروں ٹیکسی ڈرائیوروں گھوڑے والوں اور لنگر والوں نے پہلگام میںا حتجاج کرتے ہوئے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ چند شر پسند عناصر کشمیریوں کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں جس کو کشمیر میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ احتجاجی مظاہرین نے ایک گھنٹے تک ان ہلاکتوں کے خلاف نعرہ بازی بھی کی ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ یاتریوں کی خدمت ہے اور آگے بھی کریں گے ۔ یہ احتجاج ٹکسی ڈرائیور ایسوسی ایشن کے بینر تلے کیا گیا ۔ بدھ کی صبح ہی پہلگام میں تمام کاروباری ادارے بند ہوئے اور انہوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ۔ ٹیکسی ڈرائیور ایسو سی ایشن نے ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے اُٹھاکر بس سٹینڈ کے پاس جمع ہو کر اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اوراس میں ملوث افراد کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور حملے میں لقمہ اجل بن گئے یاتریوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی افراد کی صحت یابی کیلئے دعا کی ۔احتجاج کرتے ہوئے ڈرائیوروں نے کہا کہ یاتری کشمیر اور خاص کر اننت ناگ کے لوگ کی خدمت سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاتری ہمارے مہمان ہیں اور محبت کے ساتھ اُن کی خدمت کرنے کا حق ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا  ۔چیئرمین ٹیکسی ڈرائیور ایسوسی ایشن نذیر احمد شیخ نے کہا کہ حکومت کو مجرموں کی نشاندہی کر کے اس میں ملوث افراد کو سزا دینے کیلئے اقدمات کرنے چاہئیں اور معاملے کی اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکواری ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دوسرے مذہب سے پیار کرنا سکھاتا ہے نہ کہ انہیں نقصان پہنچانا اور ہم یہاں بے گناہوں کی ہلاکتوں پر چپ نہیں رہیں گے ۔پہلگام کے ایک شہری نے ان ہلاکتوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے 1996کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران پہلگام میں سیلاب آیا تھا اور امرناتھ جانے والے علاقوں میں بھاری برف باری ہو رہی تھی جس کے نتیجے میں سینکڑوں یاتری برف میں دب گئے تھے اور تب بھی پہلگام کے لوگ اُن کی مدد کیلئے سامنے آئے جبکہ ریسکو کر کے یاتریوں کی لاشوں کو باہر نکالا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جب کشمیریوں نے یاتریوں کو مشکل میں دیکھ کر اپنے آپ کو مصیبتوں میں ڈال کر انہیں مشکلات سے باہر نکالا ۔ قریب ایک گھنٹے تک احتجاج کرنے کے بعد پہلگام میں دوبارہ معمولات بحال ہوگئے ۔اس دوران یاتریوں نے بھی صبح پہلگام کے نون ونن بیس کیمپ میں احتجاج کیا اور کشمیر کے ساتھ اپنی وابستی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر آنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا ہے ۔یاتریوں نے اس دوران’’ کشمیر بہت دور ہے مگر جانا ضرور ہے‘‘ چاہئے کتنے کٹھن ہوں راستے پر جزبہ ہمارے پاس اور ہے ،کے نعرے بھی بلند کئے ۔  
 
 

 تعزیت اپنی جگہ کشمیریوںکو معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں:انجینئر رشید

سرینگر//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے بٹنگو حملے کی تحقیقات کا مطالبہ دہراتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیاں جلد ہی کسی کو بلی کا بکرہ بناکر اس معاملے کو حل کرنے کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کسی کی بھی موت پر کوئی ذی حس اور پہلو میں دل رکھنے والا شخص خوش نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی قتل و غارتگری کیلئے کوئی جواز ہی پیش کیا جاسکتا ہے تاہم کشمیری عوام کو بہت زیادہ معذرت خواہانہ لہجہ اپنانے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کشمیریوں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی موت کا رقص اس بد نصیب علاقے کیلئے کچھ نیا ہے لہٰذا بحیثیت انسان بُرا محسوس کرنے کے باوجود کشمیریوں کو اس حد تک معذرت خواہانہ لہجہ نہیں اپنانا چاہیئے کہ جیسے وہ سبھی بندوق لیکر یاتریوں کے پیچھے دوڑتے رہے ہوں۔انجینئر رشید نے مزید کہا کہ کشمیریوں کو اپنا سر شرم سے جھکانے کی کوئی وجہ نہیں ہے جیسا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی،عمر عبداللہ اور دیگر کئی لوگ ٹیلی ویژن چینلوں پر آکر کہتے سنے گئے ہیں۔انجینئر رشید نے کہا کہ اس حملے کو لیکر کشمیریوں کو شرم سے سر جھکانے کیلئے کہنے والے اس مظلوم قوم کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچارہے ہیں کیونکہ یہاں سات یا سات سو نہیں بلکہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں اور بد قسمتی سے یہ سلسلہ بلا ناغہ جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ آج سات معصوموں کی نعشیں ملنے پر پورا بھارت درد سے کراہ رہا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیئے لیکن درد میں ڈوبے بھارتیوں کو اس واقعہ سے یہ بھی احساس کرنا چاہیئے کہ روز نعشیں اٹھاتے آرہے کشمیریوں کا حال کیا ہوگا کہ جنکے بے موت مارے جانے پر انہیں ماتم کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آج جب گولی چلنے کے ساتھ ہی وزیر اعظم مودی ٹویٹ کرتے دیکھے گئے تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ انہوں نے کشمیری نوجوانوں کے مارے جانے پر کبھی ٹویٹ کرنے کی کوئی ضرورت محسوس کیوں نہیں کی۔انجینئر رشید نے مزید کہا کہ آج جب کشمیری عوام محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ کو یاتریوں کیلئے سینہ کوبی کرتے دیکھتے ہیں تو انہیں یہ پوچھنے کا حق ہے کہ خود کو کشمیریوں کا غمخوار بتانے والے یہ لوگ کشمیریوں کے مارے جانے پر چُپ کیوں رہتے ہیں اور اس ظلم کا جواز کیوں تلاش کرتے رہتے ہیں۔انجینئر رشید نے سوال کیا کہ آخر یاترا کو سیاست زدہ کرنے کیلئے پہلگام میں یاتریوں کے ذریعے ترنگا لہرانے کے پیچھے اصل مقاصد کیا تھے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی جہاں فخر سے اس بات کی تشہیر کرواتی پھر رہی ہیں کہ انہوں نے یاتریوں پر حملہ ہونے پر زخمیوں کے سرہانے رات آنکھوں میںکاٹی ہے وہاں انہیں یہ بھی بتانا چاہیئے کہ انہوں نے ان تحقیقاتوں کو مکمل کرنے پر کتنا وقت صرف کیا ہے کہ جنکاوہ سرکاری فورسز کے ہاتھوں لکھی جانے والی ظلم کی داستانوں کے بعد اعلان کرتی آرہی ہیں۔ریاستی کابینہ کی تعزیتی میٹنگ اور پھر مہلوک یاتریوں کیلئے فی کس چھ لاکھ روپے کے معاوضے کی منظوری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر چہ کشمیریوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان لوگوں کو معاوضہ دئے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس سوال کا بھی جواب دیا جانا ضروری ہے کہ اس طرح کی ہمدردی 2016کی عوامی تحریک کے دوران مارے گئے قریب ایک سوکشمیریوں کے ساتھ کیوں ظاہر نہیں کی گئی اور انہیں اسی طرز پر کیوں معاوضہ نہیں دیا گیا۔ کشمیریوں کو بے موت مارے جانے کیلئے سکیورٹی فورسز کو لائسنس حاصل ہونے اور انکے جوابدہی کے کسی ڈر سے عاری ہونے کی تازہ مثال کے بطور انہوں نے بیروہ میں ہوئے نام نہاد اینکاونٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پولس نے خود بھی کہا ہے کہ مارے گئے نوجوانوں کی تحویل سے ایک پستول اور ایک ایس ایل آر رائفل بر آمد کی گئی ہے اور انہوں نے فورسز کو کئی نقصان نہیں پہنچایا۔انجینئر رشید نے کہا کہ اگر کشمیریوں کی بھارت کے سامنے کوئی وقعت ہوتی تو پھر ان تینوں نوجوانوں کو تقریباََ نہتا ہونے کے باوجود یوں قتل کرنے میں اتنی جلدی نہیں دکھائی جاتی۔انہوں نے کہا کہ نوہٹہ کے نوجوان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں زبیر ترے اور بشیر لشکری کی ہی طرح پولیس نے انتہائی تنگ کیا ہواتھا اور جنگجو بن جانے کے محض دس دن بعد انہیں مار ڈالنا انتہائی افسوسناک ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ حالیہ حملے کی کسی غیر جانبدارانہ ایجنسی کے ذریعہ معیاد بند تحقیقات کرائی جانی چاہیئے بصورت دیگر یہ بھی ممکن ہے کہ سکیورٹی ایجنسیاں جلد ہی کسی کو بلی کا بکرہ بناکر پیش کرکے اس معاملے کو حل کرنے کا دعویٰ کرینگی اور یہ دوسرا چھٹی سنگھ پورہ ثابت ہوجائے۔
 

 حکومت براہ راست ذمہ دار:نیشنل کانفرنس

سرینگر//وادی کی موجودہ صورتحال کو مخدوش قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت سیاسی، انتظامی اور سیکورٹی سطح پر ناکام ثابت ہوئی ہے اور بٹینگو اننت ناگ میں یاتریوں پر ہوئے حملے کی ذمہ داری بھی براہ راست حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پارٹی کے جنوبی کشمیر زون کا ایک ہنگامہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں زون صدر سکینہ ایتو، ممبرانِ قانون سازیہ الطاف احمد کلو، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، شوکت حسین گنائی ، سینئر لیڈرو سابق ایم ایل سی ڈاکٹر بشیر احمد ویری اور دیگر سرکردہ لیڈران نے شرکت کی۔ اجلاس میں یاتریوں کی ہلاکت کو ایک سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر یت میں ایسے واقعات کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ لیڈران نے کہا کہ اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت اور ملامت کی جائے کم ہے۔ ریاستی حکومت کی غیر سنجیدگی اور نااہلی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ یاتریوں کے حفاظتی اور دیگر انتظامات کیلئے آئے روز میٹنگوں کا انعقاد کیا گیا لیکن یہ میٹنگیں نفی بھر بھی ثابت نہیں ہورہی ہیں، یہ پہلا موقعہ ہے کہ 80فیصد یاتری بنا رجسٹریشن کے درشن کیلئے جارہے ہیں اور حکومت کی طرف سے بنا رجسٹریشن شدہ یاتریوں کو کہیں بھی روکا نہیں جارہاہے۔ اور ایسے اوقات میں یاتریوں کی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی جارہی ہے جواوقات سیکورٹی کے دائرہ میں نہیں آتے ہیں۔ لیڈران نے کہا کہ کشمیری قوم نے اس ہلاکت خیز واقعہ کی من جملہ مذمت کی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ کشمیریوں نے ہمیشہ یاتریوں کی خوش آمد کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ لاکھوں لوگ ہر سال درشن کیلئے آتے ہیں۔ اجلاس میں سابق وزراء پیرزادہ احمد شاہ، ایڈوکیٹ سید عبدالرشید، ضلع صدور ڈاکٹر محمد شفیع، ضلع صدر پلوامہ غلام محی الدین میر، ایڈوکیٹ ریاض احمد خان، ایڈوکیٹ محمد عباس ڈار نے بھی شرکت کی۔
 

حملہ قابل افسوس:عباس وانی

سرینگر//ممبر اسمبلی ٹنگمرگ محمد عباس وانی نے سوموار کی شب اننت ناگ میں یاتریوں پر ہوئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے ۔اپنے ایک پریس بیان میںانہوں نے کہاکہ کشمیر کے لوگ ہمیشہ پیار سے رہتے ہیں ہماری مہمان نوازی ، ہماری ثقافت اور ہماری انسانیت کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے بھی یہ حملہ کیا ہے انہوں نے نہ صرف کشمیریوںکو بدنام کیا ہے بلکہ اس سے کشمیریوں کو بُرا نام دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ جس کشمیر میں یاتریوں کو مہمان بنا کر کھلایا جاتا تھا ،یاتریوں کا خیر مقدم کیا جاتا تھا اور انہیں عزت دی جاتی تھی وہاں پر یہ کام انجام دیا گیا ہے ۔انہوں نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میرا دل اُن لوگوں کیلئے روتا ہے جو اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں ۔انہوں نے اس دوران ہلاک ہوئے یاتریوں کے سوگواران سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی یاتریوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ہے ۔
 
 

حملہ انسانی اقدار کے منافی: مولانا سعید 

’سلیم شیخ کے بارے میں منافقانہ بیان بازی قابل مذمت‘

پونچھ// بیرون ریاستی یاتریوں پر ہوئے جان لیوا حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نائب مہتمم جامعہ ضیاء العلوم پونچھ وصدر تنظیم علماء اہل سنت والجماعت پونچھ مولانا سعید احمدحبیب نے اس افسوس ناک سانحہ کوکھلی دہشت گردی اور بربریت قرار دیا اور کہا کہ ایسی درندگی کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا ۔اپنے خصوصی بیان میں مولانا نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح  پر اپنی مثالی مہمان نوازی اور ملنساری کے لئے جانے جاتے ہیں اس واقعہ نے عالمی سطح پر کشمیری وقار اور باہمی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے ایسے شرپسندوں کو کیفر کردار تک پہنچانا بے حد ضروری ہے یہ حادثہ ہی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے ریاست کے تمام لوگ اس موقعہ پر اپنے مہمان یاتریوں کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں اور متاثرین کے ساتھ گہری ہمدردی اور محبت کا اظہار کرتے ہیں مولانا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعہ اصل مجرمین کی شناخت کرے تاکہ دوبارہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں ۔مولانا نے اس موقعہ پر مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندرسنگھ کے اس بیان کی بھی مذمت کی کہ سلیم شیخ پہلے ہندوستانی ہے پھر مسلمان ہے مولانا نے کہا کہ یہ بحث اپنی جگہ کہ مذہب پہلے ہے یا ملک مگر اس موقعہ پر اس قسم کا بیان سراسر سیاسی نفاق اور بدترین مفادپرستی ہے مولانا نے سوال کیا کہ اگر سلیم شیخ  ہندوستانی ہے تو باقی لوگوں کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا کیا کہنا ہے ۔مولانا نے کہا کہ اس قسم کی سیاسی ذہنیت نے ہمارے سماج کو تقسیم کیا ہے اور گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہنچایا ہے ایسے سانحات پر بھی سیاسی لوگ سیاسی مفادات کے حصول سے نہیں چوکتے جو بے حد افسوس ناک بات ہے مولانا نے سیاستدانوں سے اپیل کی کہ وہ اقتدار میں ہوتے ہوئے اپنی سیاسی بقاء کی کم اور ملک کی سالمیت اور بھائی چارگی کی زیادہ فکر کیا کریں مولانا نے کہا سلیم شیخ نے وہ کیا جو اسکا فرض تھا اس واقعہ کو جس طرح سے پیش کیا جارہا ہے وہ بے حدقابل مذمت ہے ہر مسلمان محب وطن ہے اور اس کو کسی سے سند کی ضرورت نہیںہے اس لئے سیاستدانوں کو چاہئے کہ سیاسی کھیل سے پر ہیز کریں مولانانے مارے جانے والے یاتریوں کے اہل خانہ سے دلی صدمہ کا اظہار کیا اور دعا کی دوبارہ اس قسم کے حادثات نہ رونما ہوں اس موقعہ پر تنظیم کے نائب صدر مولانا فتح محمد مہتمم دارالعلوم محمودیہ مہنڈر اور جنرل سکریٹری مولانا محمدعبد اللہ قاسمی مہتمم جامعہ محمودیہ قاسم العلوم محمودنگر سہڑی خواجہ نے بھی اپنے مشترکہ بیان میں اس دردناک واقعہ پر دکھ اور رنج کا اظہار کیا اور لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
 
 
 

یاتریوں کی ہلاکت ناقابل برداشت:سرتاج شریف

مسئلہ کشمیر کے حل میں ہی امن و امان مضمر

 جموں// فریڈم موومنٹ کے چیرمین محمدشریف سرتاج نے وادی کشمیر میں امرناتھ یاتریوں پر کئے جانے بہیمانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہذب سماج میں اس طرح کے حملوں کا کوئی جواز نہیں ۔انھوں نے اس حملے کی کسی بین الاقوامی ادارے سے تحقیقات کئے جانے کی مانگ دہراتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام نے امرناتھ یاتریوں کی ہمیشہ پذیرائی کی ہے اور وہ اس طرح کے حملوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔یاتری ہمارے مہمان ہیں اور کئی دہائیوں سے وہ ہماری مہمان نوازی کے نہ صرف معترف رہے ہیں بلکہ اس کا عملی مشاہدہ اور مظاہرہ بھی کیا ہے ۔انھوں نے اس حملے میں ہلاک ہوئے یاتریوں کے غم زدہ گھرانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام ان کے دکھ میں ان کے ساتھ شریک ہیں ۔اس موقع پر انھوں نے زخمی ہوئے یاتریوں کی فوری صحت یابی کے لئے بھی دعا کی انھوں نے اس بات کو دہرایا کہ یہ یاتری ہمارے مہمان ہیں اور انہیں زک پہنچانا یا تکلیف دینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں اور نہ ہم ایسا سوچ بھی سکتے ہیں ۔انھوں نے یاتریوں پر حملے کی آڑ میں بھارتی میڈیا کی کذب بیانی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنگ نظر لوگ اس طرح کے واقعات کی آڑ میں جھوٹ پھیلا کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ محمدشر یف سرتاج نے بھارت کے غیورعوام سے صبر و تحمل سے کام لینے اور اسبے رحمانہ اور بہیمانہ قتل کے تحقیقاتی عمل کے لئے تعاون دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وقت خود ثابت کرے گا کہ قاتل کون تھے اور ان کے اصل ارادے کیا تھے ۔انہوں نے مودی سرکار کی کشمیریوں کو حالات سدھارنے کی خاطر اپنی فرقہ پرستانہ سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی اور سمجھنا ہوگا کہ تمام مسائل کا حل قتل وغارت گری کے بجائے کشمیریوں کو رائے شماری دینے میں مضمر ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو جنگ کی صورتحال برقر رہے گی ۔اور یہ جنگ کروڑوں افر اد کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔جس سے کئی نسلیں اور فصلیں تباہ وبرباد ہو جائیں گی۔لہذاہندستانی قیادت کو فرقہ پرستی کا جنون چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کی طرف فوری توجہ دینی چاہے۔۔اور مسئلہ جموںکشمیر ایساحل تلاش کریں جو تمام خطوں کی عوام اورمذاہب کے پیروکاروں کوقابلِ قبول ہو۔ 
 
 

چناوی ماحول کو دیکھتے ہوئے بٹینگو واقعے کی دقیق تحقیقات لازمی:میر

ویری ناگ/عارف بلوچ/ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کہاہے کہ یاترا بس پر ہوئے حملہ کی اعلی سطحی تحقیقات ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی سرکار کے فل پروف سیکورٹی دعویٰ پر سوالیہ نشان لگ چُکا ہے ۔غلام احمد میر نے کہا کہ اس حملہ سے ریاست کے لوگوں کے دل مجروحہوئے ہیں اور سماج کے ہر طبقہ نے اس کی بھر پور مذمت کی ہے ،اُنہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ریاستی و مرکزی سرکار سے مسلسل اس معاملے میں جواب طلب کر ے گی۔اُنہوں نے عسکری تنظیموں کی جانب سے لاتعلقی کے سوال پر بولتے ہوئے کہا کہ اسی لئے کانگریس پارٹی صاف و شفاف جانچ کی مانگ کر تی ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔اُنہوں نے کہا کہ اس معاملے کو باریک بینی سے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سازش کاپتہ چل سکے اور اس واقع سے کس کس کو کیا فائدہ حاصل ہوا کیونکہ ملک میں کئی ریاستوں میں چنائو ہونے والے ہیں اور ملک میں پالسیاں ووٹ بنک کو دیکھ کر بنتی  ہیں۔ لہذا اس سارے معاملے میں شفافیت کی ضرورت ہے ۔اُنہوں نے سرکار کے فل پروف سیکورٹی دعوٰی پر بھی سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ آخر مذکورہ یاترا گاڑی رات کی اندھیرے میں کیوں سفر کررہی تھی اور مختلف جگہوں پر بٹھائے گئے ناکہ اس سے بے خبر کیوں رہے لہذا کوتاہی برتنے والے اہلکاروں کے خلاف ضابطہ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے ۔کشمیری عوام کے رد عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے میر نے کہا کہ کشمیری عوام نے آج ایک بار بھر کشمیریت اورانسانیت کی وہ مثال پیداکی ہے جو شاید ہی کسی اور قوم میں دیکھنے کو مل سکے۔