ہے اُردو زباں کی یہ تہذیب پیاری یوم عالمی اردو

علی شاہد دلکش

ہماری اردو زبان برصغیر خصوصاً ہند و پاک میں بولی جانے والی اہم ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ اپنی مٹھاس کے سبب بر صغیر کے علاوہ بھی دیگر ممالک کے چند خطوں میں اس کی اپنی آن بان اور شان ہے۔ 9 نومبر کے دن کو عالمی یوم اردو منانے کا مقصد اردو زبان کی مقبولیت کو اجاگر کرنا اور اس کی اہمیت کو سراہنا ہے تاکہ پیاری اردو ایک عالمی عوامی زبان بن سکے۔واضح ہوکہ برسوں سے اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور یونائیٹیڈ مسلم انڈیا، ان دونوں غیر سرکاری خانگی انجمنوں کے اشتراک سے بھی قابل ذکر عالمی یوم اردو کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔ یہ پروگرامز ہر 9 نومبر کو منعقد ہوتا آرہا ہے جو شاعر مشرق علامہ اقبال کا بھی یوم پیدائش ہے۔ اس ویژن اور مشن کے روح رواں ڈاکٹر سید احمد خان اور ان کے بعد نامور صحافی محفوظ الرحمٰن زندگی بھر اس مشن کی تکمیل میں ہمہ تن مصروف رہے تاکہ اردو ایک عوامی زبان بن سکے۔ اردو ڈے کے موقعے پر حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبال کی یومِ پیدائش کی مناسبت سے ملک و بیرون ملک میں جن مختلف اداروں کے ذریعے ’’یوم اردو تقریبات‘‘ کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔ ان میں اہم نام غالب اکیڈمی۔دہلی اور انجمن ترقی اردو ہند بھی ہیں۔ ’قومی آواز‘ اور ڈاکٹر سید احمد خان کے مطابق غالباً گزشتہ 22 برسوں سے عالمی یوم اردو تقریبات کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ اس موقعے پر اردو زبان و ادب کی نمایاں خدمات کے لیے مختلف خادمانِ اردو کو ایوارڈز بھی نوازے جاتے ہیں تاکہ اردو کی خدمات میں قابل ِ قدر اضافہ ہوتا رہے۔ آج نئی نسل کو گاہے گاہے صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ اورو دیگر دانشورانِ قوم و ملت کے ذریعہ یہ سننے کو مل ہی جاتا ہے کہ اردو ہماری مشترکہ ثقافت کے نام ہے اور جمہوری زبان بھی۔ لہٰذا معروف شاعر عطا عابدی نے کہا:؎
آج بھی پریمؔ کے اور کرشنؔ کے افسانے ہیں
آج بھی وقت کی جمہوری زباں ہے اردو
اردو زبان سے متعلقہ سیاق و سباق کا ہونا، ماضی میں اردو کی شیریں لطافت کا جادو سر چڑھ کر بولنا اور ہماری پیاری اردو کو مشترکہ زبان ہونے کا شرف حاصل ہونا طشت از بام رہا ہے۔ اردو زبان کی کشش و خوشبو اور متذکرہ جادو کے مدنظر معروف شاعر جاوید صبا نے کیا خوب کہا:؎
ایک ہی پھول سے سب پھولوں کی خوشبو آئے
اور یہ جادو اسے آئے، جسے اردو آئے
ہمارے اسلاف اور بزرگوں جن زبان دانی کا ہم دم بھرتے۔ ان ہی اہل زبان کے توسط اردو کا حسین سفر رواں ہے۔ ان کے لہجے ایسے عطردان سے تھے کہ ان لہجوں کئی زبانوں کے گلدان سی خوشبو بھی رچ بس کر محب اردو کے علاوہ معدودے غیر کو بھی معطر کر دیتی تھیں۔ بقول معروف شاعر بشیر بدر ؔ ؎
وہ عطردان سا لہجہ میرے بزرگوں کا
رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو
چونکہ اردو محض ایک بھاشا نہیں ہے بلکہ گنگا جمنی تہذیب ہے۔ یہ ہندوستان کی ثقافتی میراث بھی ہے۔ اہل ہند کے مطابق اردو زبان ہمارے بھارت کی ماتر بھاشا ’ہندی‘ کی سگی بہن بھی تصور کی جاتی ہے۔ بقول منور رانا: ؎
لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے
میں اردو میں غزل کہتا ہوں، ہندی مسکراتی ہے
منظر اور پس منظر دونوں ہی اعتبار سے اردو کی لطافت اور مٹھاس کے قائل سبھی زبان والے نظر آتے ہیں۔ اس کا اعتراف و اظہار عام زندگانی میں گفتگو، تقریر، لیکچرز اور انٹرویوز کے حوالے سے ہوتا رہتا ہے۔ آج بھی پورے ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کے گوشوں میں یہ شیریں زبان ‘اردو اپنی شیریں موجودگی کا احساس یوں دلا رہی ہے جیسا کہ الطاف حسین حالیؔ نے اپنے شعر میں یوں کہا تھا:؎
شہد و شکر سے میٹھی اردو زباں ہماری
ہوتی ہے جس کے بولے میٹھی زباں ہماری
حالانکہ اردو کی تاریخ محض چند سو سالہ پرانی ہے تاہم اپنی مٹھاس، نزاکت اور خوبصورت لب و لہجے کی وجہ سے ہماری زبان اردو پوری دنیا میں خوب پہچانی جاتی ہے۔ اس کا دَم بھرنے والوں کی تعداد بے شمار ہے۔دلیل کے طور پر ریختہ کا ادبی پلیٹ فارم کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ریختہ ڈاٹ کام کے ویب سائٹ وغیرہ بھی اس کی دھوم کے شواھد ہیں۔ بقول مرزا داغ ؔدہلوی ؎
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم، اردو زباں کی ہے
اس زبان نے دنیا کو اعلیٰ درجے کے دانشور، ادیب اور شاعر دیے ہیں۔ ان میں میر تقی میر، مرزا غالب، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری، ڈاکٹر محمد علامہ اقبال، پنڈت برج نارائن چکبست اور فیض احمد فیض و دیگر خاص طور سے پہچانے جاتے ہیں۔ غالباً اسی لیے اختر شاہجہانپوری نے زیر نظر شعر کہا تھا:؎
ابھی تہذیب کا نوحہ نہ لکھنا
ابھی کچھ لوگ اردو بولتے ہیں
اردو کی ہمہ گیری، زبان کی شائستگی اور خوشبوئے شیریں سر چڑھ کر ہی نہیں بولتی ہلکہ ہم سایہ، ہم وطنوں اور غیروں کو بھی اپنا بھی بنا لیتی ہے۔معروف شاعر اشوک ساحل(مرحوم) نے اس ضمن میں پیش نظر شعر کہہ ڈالا:؎
اردو کے چند لفظ ہیں جب سے زبان پر
تہذیب مہرباں ہے مرے خاندان پر
اردو کو یوں ہی ایک تیزیب اور ثقافت نہیں کہا جاتا بلکہ اردو زبان کی عملی تشبیہات باور کراتے ہیں کہ اردو کو عملی زندگیوں میں اپنانے سے تہذیب و سبھیّتا کا سراپا مظاہرہ و مشاہدہ معلوم ہوتا ہے۔ گفتگو میں حسن سلیقہ کا ضامن بھی اسی اردو کو موسوم کیا جاتا ہے۔ برادرا ن وطن میں سے جب کوئی زبان و ادب سچا عاشق اردو کی سحرکاری کے حصار میں آجاتا ہے اور اس کے عشق سے سرشار ہوتا ہے۔ تو معروف شاعر منیش شکلا کی طرح شاعری کے پیرہن میں یوں کہہ اٹھتا ہے۔؎
بات کرنے کا حسین طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا
اردو کا استعمال لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وزرائے اعظم اور اراکین پارلیمنٹ(جن میں تارا کشوری سنہا سے لے کر من موہن سنگھ ہی نہیں بلکہ سشما سوراج تک ہیں) نے اردو کے اشعار کے ذریعہ اپنے خیالات کو پیش کرنے کی کامیاب کوششیں کیں۔ اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ ماضی میں قانونی طور پر اردو کو کل ہند سطح پر جب سرکاری زبان بنانے کا موقع آیا تو یہ تعصب کی بھینٹ چڑھ گئی! چونکہ یہ زبان آزادی سے پہلے ایک مشترکہ قدروں والی زبان بن گئی تھی پھر بھی ٹیکنیکل بنیادوں پر اس کو سرکاری منظوری نہ مل سکی! تاہم یہ متذکرہ زبان کی اہمیت و افادیت ہی تھی کہ انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج میں اردو کی تعلیم دینے کا سلسلہ رائج کیا تھا۔ الغرض یہ واحد زبان ہے جس نے مختلف فرقوں میں رابطہ کی زبان کا کردار ادا کیا نیز اس کے ارتقاء کے بارے میں دیکھا جائے تو اسے اولیاء کی زبان بھی کہا جاسکتا ہے۔ اولیا ء کرام نے اردو کو ذرائع ابلاغ بنا کر ہندوستان میں اپنے خیالات و افکار کے ذریعہ یہاں کے عوام کو متوجہ ہی نہیں کیا بلکہ وحدت کی بنیاد پر انھیں متحد بھی رکھا۔ طویل عرصے تک زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا اظہار اور ذرائع ابلاغ کے لیے اردو ہی کا چلن رہا۔ مگر افسوس کہ تعصبانہ طور پر اردو کو ایک مخصوص مذہب اور فرقے سے جوڑ کر اسے روزی روٹی سے الگ کر دیا گیا تاکہ یہ زبان دم توڑ دے! جبکہ یہ ہندوستان ہی میں پیدا ہوئی۔ یہیں پلی، بڑھی اور پروان چڑھ کر سب کو اپنا گرویدہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ عالمی یوم اردو منانے والی (اوپر بیان کیے گیے) ان تمام تنظیموں کو ہم سلام کرتے ہیں جن کی وجہ سے آج یہ دن منایا جارہا ہے۔ اس سے نئی نسل کو اردو کی تاریخ اور مستقبل میں اس کی اشاعت و فروغ کے بارے میں عزم کرنے کے مواقع ملیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اردو سے سچا محبت کرنے والے بنیں۔دوسرے لفظوں میں گفتار و تقریر کے نہیں بلکہ کردار کے غازی بنیں۔ مثلاً ہم جس شعبہ ئ حیات و جات سے تعلق رکھتے ہیں خواہ انتظامیہ، عدلیہ، تعلیم، صحافت، تجارت ہو؛ غرض جو جہاں ہے وہ اپنی مادری زبان اردو کو اپنی زندگی میں شامل کرے تاکہ آنے والی نسل بھی اس امانت کی پاسداری کرسکے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو ہمیں جاننا چاہیے کہ کسی قوم کو اگر ختم کرنا ہو تو اسکی زبان کو ختم کرنے والے اصول کی وجہ سے کہیں اپنی شناخت اور یکائی والی حیثیت بھی ختم نہ ہوجائے! کیوں کہ آج کل اس قسم کا ماحول بنایا جارہا ہے کہ۔۔۔ بس!!! اس بات کا خیال رہے کہ ہم غیر محسوس طریقہ سے اس کا شکار نہ ہوجائیں۔ آج کا زعفران ماحول ان مقاصد کے لیے تمام حربے کا استعمال ہی نہیں کر رہا ہے بلکہ اس ضمن میں شدت پسندی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ قابل تشویشناک ہے کہ اس منہ زوری پر نہ تو قانونی کاروائی ہے اور نہ ہی سماج کی پابندی! ایسے پراگندہ ماحول میں ہم اردو والے اپنی تہذیب و شناخت کو جمہوری طریقے سے ہی محفوظ کرسکتے ہیں بشرطیکہ ہم مرکزی قانونِ حق تعلیم کی تکمیل و تعمیل کے لیے آگے آئیں۔ اس لیے کہ مرکزی یا ریاستی حکومت ہی نہیں حکومت ِ مقامی کو لازم ہے کہ وہ چھ سے چودہ سال والے بچوں کے لیے مدارس کا آغاز کریں۔ آج اگر دفتر شاہی اور حکو مت کے بیروکریٹس اس سے غفلت و کوتاہی برت رہے ہیں۔ تو امحض اس لیے کہ ہم خود غفلت و عدمِ معلامات کا شکار ہیں۔ لہٰذا بقول شاعر(نامعلوم)؎
اگر تم چاہتے ہو اردو بچانا
میاں اپنے بچوں کو اردو پڑھانا
ازل سے ظاہر کہ اردو ذریعہ تعلیم میں مذہبی سرمایا سب سے زیادہ ہے۔ اس لیے اس ذریعہ ہی سے اپنا معاشرہ، ماحول اور اپنی تہذیب از سرِ نو مہذب ہوسکتی ہے اور اب اردو کی شیریں لطافت جو صرف نغموں اور مشاعروں میں سمٹ کر رہ گئی ہے وہ اپنی نئی نسل کی زندگی میں آجائے تو ہماری نئی نسل اس طرح ہوسکتی ہے۔ بقلم معروف شاعر احمد وصی ؎
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے، جسے اردو آئے
اردو کے تحفظ اور بقا ہی نہیں بلکہ ترویج و اشاعت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو صرف اسی بات سے مطمئن نہ ہونا چاہیے کہ آج بھی موجودہ تنگ نظر و متعصبانہ ماحول میں ہندی، تیلگو اور مراٹھی زبان والے اردو کو فیشن سمجھ کر استعمال کرتے ہیں لیکن جب تک اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کے حصول تعلیم نہ ہوگا اس وقت تک اردو والے اپنی زبان سے بے بہرہ ہی رہیں گے۔ اس کے علاوہ دیگر زبانوں سے تعلیم پانے والے نو نہالوں کے لیے مہارت حاصل کرنا دشوار ہی نہیں بلکہ غالباً ناممکن بھی ہے۔ فکر کا تقاضا ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے ماہرین تعلیم کا مسلمہ و متفقہ فیصلہ ہے کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہی ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس پر عمل کریں اور مقامی و ریاستی حکومت کو اس سلسلے میں مستعد بھی رکھے۔ بقول شاعر(نامعلوم)؎
میری اردو کے تحفظ کے لیے
ہر گلی میں ایک مدرسہ چاہیے
یہاں مدرسہ سے مطلب ہر محلے میں اردو میڈیم اسکول لیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا پہلی فرصت میں بذریعہ اردو میڈیم والی درسگاہوں کو آباد کرنے اور انہیں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ بہرحال اردو ایک عظیم زبان ہے اور یہ اس کا ضمیر و خمیر ہی ہے کہ اس نے غیر معمولی عظمتوں کو جنم دیا ہے اور یہی اس امر کی دلیل ہے کہ اردو صرف زبان یا تہذیب ہی نہیں بلکہ ایک تحریک اور طرزِ حیات کا بھی نام ہے۔ آئیے اس عالمی یومِ اردو کے دن عہد کریں کہ ہم سب اس تہذیب اور ثقافتی ورثہ کی حفاظت کرنے اور فروغ دینے کے عمل کا حصہ بنیں جو ہماری اپنی پہچان ہے، اور جس کی بدولت بھی ہمارا عزیر ملک دنیا میں پہچانا جانا جاتا ہے۔ بقولمعروف شاعر سلیم صدیقی ؎
ایک ایک حرف کی رکھنی ہے آبرو مجھ کو
سوال دِل کا نہیں ہے، میری زبان کا ہے
(رابطہ ۔8820239345)
[email protected]