ہیکل سلیمانی بنانے کا منصوبہ

فلسطین میں زبردستی گھسے اسرائیلوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر سازش کے ذریعے اسرائیلی حکومت بنالی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں توسیع بھی کرتے جارہے ہیں۔اِس کے ساتھ ساتھ اسرائیلیوں کا منصوبہ ہے کہ ’’مسجد اقصیٰ‘‘سے بھی مسلمانوں کو بے دخل کردیا جائے اوراُسے شہید کرکے اُس کی جگہ ’’ہیکل سلیمانی‘‘ بنا دیا جائے۔اِس منصوبے کا انکشاف ایک غیر سرکاری تنظیم کے حوالے سے اسرائیلی اخبار ’’روزنامہ ہارتز‘‘ نے 2009ء میں کیا تھا اور اُسی وقت اِس منصوبہ پر عمل آوری کے لئے ’’یروشلم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سپرد کردیا گیا تھا۔ اِس منصوبے کے اخراجات تب سے لیکر ابھی تک اسرائیل وزیر اعظم اور بیت المقدس (یروشلم) شہر کے میئر کی جانب سے برداشت کئے جارہے ہیں۔ منصوبے کو راز میں رکھا جارہا ہے اور اِس سازش کا تانا بانا ایہود اولمرٹ کے دور میں تیار ہوا تھا۔ 
1967ء کی مشرق وسطیٰ جنگ میں اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس شہر پر قبضہ کرلیا تھااور شہر کو دو حصوں مشرقی اور مغربی بیت المقدس میں تقسیم کردیا تھا۔ اسرائیل نے یہ ظاہر کیا کہ شہر کے ایک حصے کو وہ اپنا دارالحکومت بنانے کا خواہاں ہے لیکن پس پردہ اُس کا ارادہ یہ ہے کہ دھیرے دھیرے پورے بیت المقدس شہر پر مکمل قبضہ کرکے ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کو مسمار کرکے اُس کی جگہ ’’ہیکل سلیمانی‘‘ کی تعمیر کی جائے۔ جبکہ مسلمان چاہتے ہیں کہ ’’مشرقی بیت المقدس‘‘کو فلسطینی مملکت کا دارلحکومت بنایا جائے۔بیت المقدس کی کل آبادی ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ ہے جس میں 2009ء تک مسلمان تیس فیصد30%سے زیادہ آباد تھے اور اسرائیلی ستر فیصد 70% کے لگ بھگ تھے جو زبردستی زمینیں چھین کر آباد ہوئے تھے۔ اسرائیلیوں کی زیادہ تر آبادی مغربی بیت المقدس میں تھی اور مسلمان زیادہ تر مشرقی بیت المقدس میں آباد تھے۔ اسرائیلوں نے اس کے بعد مسلمانوں کو بے دخل کرکے مشرقی بیت المقدس کی زمینوں پر قبضہ کرکے اپنے منصوبے پر عمل کرنا شروع کردیا اور آج بیت المقدس شہر میں مسلمانوں کی آبادی بہ مشکل دس فیصد10%رہ گئی ہے۔پچھلے تقریبا گیارہ 11سالوں میں اسرائیل اپنے منصوبے پر عمل درآمد کرتا جارہا ہے۔ 
’’مسجد اقصیٰ‘‘ کی جگہ ’’ہیکل سلیمانی‘‘ تعمیر کرنے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ یہ تھا کہ قدیم شہر سے مسلمانوں کو بے دخل کیا جائے اور اِس پر باقاعدگی سے اسرائیل عمل بھی کررہا ہے۔ مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی وجہ اسرائیل نے یہ ظاہر کی ہے کہ وہ یروشلم کو آئندہ اسرائیل کادارالحکومت بنانے کے لئے مستحکم کررہے ہیں۔مگر درپردہ مقاصد یہ ہیں کہ ’’القدس‘‘ شہر کا اسلامی تشخص مٹایا جائے اور اسلامی آثارو تاریخی مقامات خاص طور سے ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کو مٹایا جائے۔بیت المقدس (یروشلم) پر اپنے قبضے کو دوام بخشنے بلکہ اسرائیلی ملکیت ثابت کرنے کیلئے اسرائیلی حکومت ’’القدس‘‘ شہر کی شکل و صورت اور اُس کی ہیئت کو روایتی اور قدیم رنگ سے نکال کر جدید اور اسرائیلی انداز میں بدلنے میں مسلسل مصروف ہے۔ اِس پروجیکٹ پر عملدرآمد کے لئے نومبر 2007ء میں ہی یروشلم کی بلدیہ کی جانب سے منظوری دی جا چکی تھی۔ جس کے مطابق بیت المقدس کے اہم تاریخی مقام پر جو مقبوضہ ہے اور فلسطینیوں کی ملکیت ہے ایک ایکڑ میں 24رہائشی عمارتوں کی تعمیر کی جارہی ہے اور کھیل کود کے میدان بھی بنائے جارہے ہیں۔ اِس تعمیراتی منصوبے کے تحت سیاحتی مراکز اور اسٹیڈیم وغیرہ بنانے کے لئے فلسطینی مسلمانوں سے جبراً تخلیہ کروایا جارہا ہے اور اِس پروجیکٹ  کے لئے ’’مسلم وقف‘‘ یا ’’چرچ اتھارٹی‘‘ سے بھی اجازت حاصل نہیں کی گئی ہے۔ 
بیت المقدس شہر پر پچھلی پانچ دہائیوں سے اسرائیلی حکومت قابض ہے۔ یہ شہر مسلمانوں ، عیسائیوں اور اسرائیلیوں کے یکساں طور پر متبرک ہے بلکہ اسرائیلوں اور عیسائیوں کے مقابلے میں مسلمان اس شہر کے زیادہ حقدار ہیں۔ کیونکہ اسرائیلی حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کو تو اپنے نبی اور رسول مانتے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں۔ عیسائی حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو اپنے نبی اور رسول مانتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں۔ جبکہ اِن دونوں کے مقابلے میں مسلمان حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے ہیں اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔اِس لئے اِس متبرک شہر بیت المقدس اور ملک فلسطین کے سب سے زیادہ حقدار مسلمان ہیں۔ اِس کے باوجود فلسطینی مسلمانوں سے اُن کا یہ حق چھیننے کے لئے اسرائیل مختلف ہتھکنڈے آزما رہا ہے اور پچھلی پانچ دہائیوں سے مسلسل اِس مقدس شہر میں مسلمانوں کو بے دخل کرکے اسرائیلوں کو آباد کررہا ہے۔ 
بیسویں صدی کی شروعات میں برطانیہ نے پوری دنیا سے لالاکر اسرائیلیوں کو فلسطین میں آباد کرنا شروع کردیا تھا۔ تب سے ہی اسرائیلی’’مسجد اقصیٰ‘‘ کو نشانہ بناتے آرہے ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے فلسطین فتح کرنے کے بعد اپنے اُستاد کے بنوائے ہوئے منبر کو اُس کی وصیت کے مطابق ’’مسجد اقصیٰ‘‘ میں نصب کردیا تھا۔ 21اگست 1929ء میں اسرائیلیوں نے اپنی خبث باطنی اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’مسجد اقصیٰ‘‘ میں آگ لگا کر اُس منبر کو جلا ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق ایک اسٹریلیائی نوجوان ’’مائیکل روہان‘‘ نے ’’مسجد اقصیٰ‘‘ (احاطے)میں آگ لگائی تھی جس کی وجہ سے مسجد (احاطہ) کا ایک بڑا حصہ آگ کی لپیٹ میں آگیا تھا اور منبر ایوبی جل کر خاک ہوگیا تھا۔ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لئے اُس دن بیت المقدس کی بلدیہ نے آبی سربراہی بھی مسدود کردی تھی تاکہ بروقت آگ نہ بجھائی جاسکے اور ’’مسجداقصیٰ‘‘ شدید متاثر ہو۔ منبر ایوبی کے علاوہ ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کی جنوب مشرقی چھت کو بھی شدید نقصان پہنا تھا اور مسجد کا ایک تہائی حصہ شدید متاثر ہوا تھا۔ 
پچھلی پانچ دہائیوں سے اسرائیلی حکومت ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کے اطراف مسلسل کھدائی کروا رہی ہے اور یہ کھدائی وہ ’’ہیکل سلیمانی‘‘ کی بنیادوں کی تلاش میں کررہے ہیں۔ بار بار کھدائی کے باوجود اسرائیلی ماہرین کو کسی بھی چیز کا پتہ لگانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ عبریہ یونیورسٹی کی ٹیم کو کھدائی کا کام سونپا گیا تھا ، ٹیم کے صدر ’’منامین سازاد‘‘ نے 1975ء میںشائع شدہ اپنی کتاب میں اِس کی وضاحت کی کہ اِس کھدائی کے نتیجہ میں اس شہر کی بنیادیں تو نمایاں ہوئیں ہیں لیکن ’’ہیکل سلیمانی‘‘ کا کہیں پتہ نہیں لگا۔ اُس نے کہا :’’پرانا شہر ’’القدس‘‘ زیرزمین دفن ہوچکا ہے۔‘‘ اِس صراحت کے باوجود اسرائیلیوں کا کھدائی کا سلسلہ جاری ہے اور بار بار کھدائی کے عمل سے ’’مسجد اقصیٰ‘‘ اور اُس کے آس پاس زیرزمین زبردست خلاء پیدا ہوگیا ہے جو کسی بھی وقت ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کے انہدام کا سبب بن سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام ہمیشہ یہ باور کراتے ہیں کہ کھدائی دیگر انتظامی مقاصد کے لئے کی جارہی ہے لیکن ایک طویل عرصے سے جس بڑے پیمانہ پر کھدائی کا عمل جاری ہے اُس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ اسرائیلی مسجد کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلی کردینا چاہتے ہیں تاکہ خود بخود ’’مسجد اقصیٰ‘‘ منہدم ہوجائے۔ 
یہ حقیقت ہے کہ ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کے آس پاس جس طرح سے کھدائی ہوچکی ہے اگر ہلکا سا بھی زلزلے کا جھٹکا آگیا تو یقینا ’’مسجد اقصیٰ‘‘ منہدم ہوجائے گی۔ اس کے بعد اسرائیلوں کے لئے ’’ہیکل سلیمانی‘‘ بنانا بہت ہی آسان ہوجائے گا۔ اگر زلزلہ نہیں آیا تو مستقبل قریب میں اسرائیلی پھر ایسی کوئی حرکت کریں گے جس کی وجہ سے ’’مسجد اقصیٰ‘‘ شہید ہوجائے گی۔ فلسطینی مسلمان تو ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کو بچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں لیکن اُن کے لئے فلسطین میں رہنا بھی دوبھر کیا جارہا ہے۔ افسوس تو مسلم ممالک کے حکمرانوں پر ہوتا ہے کہ اُن کے درمیان رہ کر اُن کے سینے پر رہ کر اسرائیل مسلسل ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کو نقصان پہنچاتا جارہا ہے۔ یہ ان حکمرانوں کے لئے انتہائی شرمناک بات ہے کہ وہ سب ایک چھوٹی سی حکومت اسرائیل کے آگے بے بس ہیں اور وہ چھوٹی سی حکومت اپنی من مانی کرتی جارہی ہے۔اگر مسلم حکمرانوں کا یہی رویہ رہا تو وہ دن دور نہیں جب اسرائیلی درندے ’’ہیکل سلیمانی‘‘ تعمیر کرلیں گے اور اگر ایسا ہوا تو اللہ کی لاٹھی برسے گی اور سب سے پہلے اِنہیں مسلم ممالک اور ان کے حکمرانوں پر برسے گی۔اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں اِن مسلم حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
������