ہیموفیلیا مریضوں کے علاج میں بڑی پیشرفت دوائی چند ماہ میں دستیاب ہونے کا امکان

 جین تھراپی ٹرائل کا آغاز، مریضوں میں خون بہنے سے معذوری تقریباً ایک فیصد یا اس سے کم ہو جائے گی

پرویز احمد

سرینگر //بھارت میں پہلی مرتبہ ہیموفیلیا اے یعنی فیکٹر 8کی کمی سے جوج رہے مریضوں کیلئے دوائی دستیاب ہونے والی ہے۔بنگلوروکے کرسچن میڈیکل کالج میں شعبہ بائوٹیکنالوجی کے سینٹر فار سٹم سیل ریسرچ سینٹر اور امریکہ کی اموری یونیورسٹی کے اشتراک سے ہورہی تحقیق سے یہ دوائی آئندہ چند ماہ میں دستیاب ہوگی۔ اس تحقیق سے وادی کے 324ہیموفیلیا مریضوں سمیت ملک میں 1لاکھ 36ہزار سے زائد ہیموفیلیا مریضوں کو فائدہ پہنچے گا۔ بھارت میں دسمبر 2023کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں خون میں مختلف فیکٹروں کی کمی کی بیماری میں مبتلا مریضوں کی مجموعی تعداد ۱1لاکھ36ہزار ہے۔ بھارت پوری دنیا میں ہیموفیلیا مریضوں کی تعدادمیں دوسری نمبر پرہے۔ جموں و کشمیر میں بھی ہیموفیلا مریضوں کی تعداد پائی جاتی ہے۔یوٹی میں قریب 400سے زائد مریض رجسٹر ہیں، جن میں 290کا تعلق کشمیر سے ہے،جن میں 276مرد اور 14خواتین ہیں۔ 240افراد میں ہیموفیلیا (A) اور 28میں ہیموفیلیا (B) پایا جاتا ہے۔ ان مریضوں میں80فیصد مریضوں میں گھٹنے، ٹخنوں، کولہے اورکلائی میں زخم پیدا ہوتے ہیں اور بعد میں ماس پیشیوں سے خون بہنے لگتا ہے۔ ہیموفیلیا (PwH) سے متاثرہ افراد کے علاج کیلئے اپنی نوعیت کے پہلے قومی رہنما خطوط دسمبر میں شروع کئے گئے ہیں، جن کا مقصد سستا علاج فراہم کرنا اور شرح اموات اور بیماری کو کم کرنا ہے۔

 

یہ رہنما خطوط ہیموفیلیا اینڈ ہیلتھ کلیکٹو آف نارتھ (HHCN) کے ذریعہ تیار کیے گئے ، جو ہندوستان کے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی ایک تنظیم ہے۔ہیموفیلیا کے شکار افراد کے لیے بروقت تشخیص، فزیوتھراپی اور کثیر الضابطہ نگہداشت کی اہمیت سمیت جامع دیکھ بھال کیلئے رہنما خطوط وضع کئے گئے ہیں۔ نئے رہنما خطوط خون بہنے سے نمٹنے کے لیے جدید نگہداشت جیسے نان فیکٹر کی تبدیلی یا پروفیلیکسس کیئر کو اپنانے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس سے ہیموفیلیا کے مریضوں میں خون بہنے سے معذوری تقریباً ایک فیصد یا اس سے کم ہو جائے گی اور صحت کے مجموعی اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور ان کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں1,36,000 افراد ہیموفیلیا اے سے جکڑے ہوئے ہیں۔ تاہم، اس وقت صرف 21,000 کے قریب رجسٹرڈ ہیں۔ہندوستان میں ہیموفیلیا کے تقریباً 80 فیصد کیسز کی تشخیص نہیں ہوتی ہے کیونکہ کئی اسپتالوں اور طبی اداروں میں خون کے جمنے کے لیے اسکریننگ کی صلاحیتوں کا فقدان ہے، جس سے نئے کیسز کی تشخیص متاثر ہوتی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ رہنما خطوط آگے بڑھنے کاصرف ایک قدم ہے،اس سے ہیموفیلیا کے علاج کے لیے ایک روشن مستقبل کی طرف راہ نکل سکتی ہے۔ہیموفیلیا فیڈریشن آف انڈیا کا کہنا ہے “ہندوستان میں، ہیموفیلیا کے پھیلا ئوکوروکنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظراور علاج میں تبدیلی لانا وقت کی ضرورت ہیاورنئے رہنما خطوط اس سمت میں ایک اہم قدم ہیں۔ یہ رہنما خطوط پالیسی سازوں کو ریاستی پروٹوکول بنانے اور انصاف کے ساتھ فنڈز مختص کرنے کے لیے بھی بااختیار بنائیں گے‘‘۔