ہیجان انگیز تضمین

فیض الحسن نامی ایک بزرگ شخص نے چند دن پہلے ایک محیر العقول لیکن حقیقت بر مبنی کام سر انجام دیا۔اُتر پردیش سے تعلق رکھنے والے فیضُ الحسن بہ حیثیت ڈاکیہ (پوسٹ مین  ) متعلقہ محکمہ سے سبکدوش ہوئے ہیں۔ان کی رفیق حیات ۲۰۱۱ء میں گلے میں سرطان کی وجہ سے خالقِ حقیقی سے جا  ملی۔ حزن و ملال سے چُور فیض الحسن نے اپنی شریک ِحیات کے فراق میں اور اُس سے بے پناہ پیار ومحبت کے ا ظہا رمیں اہلیہ کی یاد میں تاج محل کے طرز پر ایک محل اس کی تُربت کے قریب تعمیر کیا ،یعنی’’ توُممتاز ہے میرے خوابوں کی ،میں تیرا شاہجہاں‘‘ کی تشریح میں اپنی وفات شدہ بیوی کی یاد زندہ رکھی۔
بہت سارے لوگوں نے فیض الحسن کو اس کام کو سر انجام دینے کو بہت سراہا اور اسے خوب داد دی۔تعریف و توصیف کی بارش میں کچھ لوگوں نے ا نہیں اصلی شا ہجہاں کے لقب سے نوازا اور کچھ لوگوں نے تُربت کے قریب تعمیر تاج محل کے مثل گنبد دیکھ کر انہیں لمبے چوڑے القاب سے نوازا۔میڈیا میں بھی اس دلچسپ واقعہ کو اپنے انداز میںبھر پورجگہ دی اور مختلف سرخیوں کے ساتھ یہ واقعہ کثیر الاشاعت اخبارات کی زینت بن گیا اور فخراً لکھا کہ ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر نے اپنے متوفیٰ رفیق ِحیات کو خراج ِعقیدت پیش کر تے ہوئے ایک اور تاج محل اُس کی نذر کردیا۔حتیٰ کہ امریکہ سے چھپنے والا معروف اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘نے بھی اس واقعے کی کوریج کرتے ہوئے لکھاکہ’ ــ’ ایک عام آدمی کی   بے پناہ محبت کے صدقے ایک چھوٹا تاج محل اپنی شریک ِحیات کی یاد میںـ‘ـ‘A common man's labor of love,A mini Taj Mahal for his beloved wife ))
شاہِ جہاں کی یاد کو تازہ کرنے کے سلسلے میں بزرگ موصوف پچھلے چند سال سے اس مخمصے میں پڑا تھا آیا کہ کس طرح سے شاہجہاں کے طرز پر ایک محل تیار کیا جائے اور اس خواب کوشرمندہ ٔ  تعبیر کرنے کے لئے فیض الحسن نے اپنی زمین بیچ ڈالی، یہاں تک کہ اپنی بیوی کے زیوارات بھی اس کام کی تکمیل میں لگا دئے۔ تقریباً گیارہ لاکھ روپے کی خطیر رقم اس تعمیر پرخرچ کر کے اس شخص نے اپنے دل کی مراد پوری کر دی۔ انہوںنے مزید ایک خوبصورت گنبد تعمیر کرنے کی ٹھان لی تھی جو سنگ مر مر کا ہو اور اُس پر چھ سات لاکھ روپیہ کا خرچہ آنا متوقع تھا لیکن موت کا فرشتہ حسب ِدستور اچانک اُن سے ملاقی ہوا اور ایسے میں اُن کا یہ اَرمان پایہ ٔ  تکمیل تک پہنچنے سے رہ گیا۔ فیض الحسن سڑک کے ایک حادثے میں  بری طرح مجروح ہوکر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ یوںپیارو محبت کے نام پر سجائی گئی خوشی غم کی چادر میں اچانک لپٹ گئی اور اس دلچسپ ڈرامے کے سارے کردار دھڑام سے نیچے آگرئے۔ یہ ارمان ہی زمین بوس نہ ہوا بلکہ فیض الحسن دو گز کفن میں ملبوس ہوکرہمیشہ ہمیش کے لئے زمین کی آغوش میں بس گئے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایک شاہکار اور پُر شکوہ محل تعمیر کرنے میں انہوں نے کسی سے بھی کوئی ایک پیسہ بھی نہیں لیابلکہ خود اپنے ہاتھوں کی کمائی اور اپنی زمین و جا ئیداد بیچ کر اپنا تاج محل تعمیر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ایک آدمی اپنے فہم و ادراک کی حیثیت سے کسی لفظ کے معنی و مطلب اَخذ کر لیتا ہے اور فہم و فراست کے اس دائرے میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں ہوتی کیونکہ اَخذ و استنباط کے لحاظ سے انسانوں میں جدا گانہ سوچ پا ئی جا تی ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے۔ احسا سات اور جذبات کے اعتبار سے بھی یہ ایک شخص کے صوابدید پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک اپنے جذبات کو قابو میںرکھ سکے۔جذبات اور احسا سات کا محور ہمیشہ اپنے محدود دائرے کے ارد گرد گھومنا چاہئے۔ شائستگی اور شگفتگی کا دامن جذبات کو انگیز کرتے ہوئے چھوٹنا نہیںچاہئے۔
جہاں تک آج کے شاہِ جہاں کا تعلق ہے تو اکثر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ میڈیا کی وساطت سے معمولی اور غیر اہم چیزوں کو بھی بڑھا  چڑھا کر پیش کرنااب نا گزیر بن چکا ہے۔  شروع سے لے کرآخر تک یہ کہانی بھی اسی چیز کی ایک کڑی ہے اوراس میںسادہ لوحی کے موٹے مگر بے وزن قطرے ٹپک رہے ہیں۔کمرتوڑ محنت کرکے اینٹیں ، سیمنٹ اور باقی  تعمیراتی مواد خرید کر ایک محل بنانے کے علی الرّغم  فیض الحسن کے پاس صدقات و خیرات کرنے کے بہت سارے طریقے موجود تھے جن سے وہ مستحق امداد خلقِ خدا کی معاونت کرسکتے اور اُس کے عوض ان کی گزری ہوئی بیوی کو ثواب ِ آخرت حاصل ہو سکتا تھا ۔ بدقسمتی سے بزرگ شخص نے ان زاؤیوں سے غالباً سوچا ہی نہیں ہوگا بلکہ دیکھا دیکھی اور شہرت کے حصول کی خاطر شاہجہان ِثانی بننے کی لاحاصل کوشش کی۔ بزرگ شخص سے وابستہ یہ کہانی محبت کی داستان نہیں بلکہ اُن سے جڑے ماضی اور حال کا تغیر ہے۔ اُن کا ماضی فرضی قصہ کہانیوں،افسانوں اور جھوٹ کے پلندوںسے لبریز ہے۔ ہمیں جس طمطراق کے ساتھ یہ کہانی بیان کی گئی ہے، اُس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ بزرگ شخص خود اپنی حقیقت سے بے گانہ ر ہے ہیں۔دانستہ طور بزرگ نے معمولی اور سطحی واقعہ کوتشہیر دے کراس غیر ضروری یاد گاربنانے کی سعیٔ بلیغ کی۔پیار و محبت کے سچے سپاہی کہلانے والے شاہجہان نے اپنی   بیوی سے بے پناہ اور لافانی محبت کی یادمیں تاج علامت کے طور تعمیر کیا اور بس بھلے بھلے۔ خلاصۂ بیان یہ ہے کہ کچھ چیزوں کو غلط بیانی کے ساتھ پیش کرنے کے ساتھ اُن کی اصلی معنویت تبد یل ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں غیر ضروری چیزیں مقدس بننے کے ساتھ ساتھ متاثر کن ٹھہرتی ہیں اور تب تاج محل ایرانیوں کے ہاتھوں سے تعمیر شدہ ایک نادر اور شاہکار تعمیر جس کوصدیوں پہلے ہزاروں مزدوروں کی ومحنت شاقہ اور مہارتِ تامہ سے قائم کیا گیا اور پھر ایک عجوبہ وجود میں آگیا جس کو عالمی سطح پر شہرت ملی۔ حقیقت حال یہ بھی ہے کہ تاج محل کی شاندار عمارت تعمیر کرنے میں وقت کے بادشاہ نے سرکاری خزانے کی خوب خبر لی۔شاہجہاں نے قابل ِکاشت زمین پراضافی ٹیکس عائد کرکے تاج محل کی تعمیر مکمل کی۔یہ بات بھی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ دہلی کے لال قلعے سے لے کر آگرہ کے تاج محل تک جتنی بھی شاندار اور پُرشکوہ عمارات،محلات اور قلعے مغلوں کے دور حکومت میں تعمیر ہوئے ہیں اُن سے بابر بہ عیش کوش کا  شاہی وظیفہ چھلکتا ہے اور اُن کی یہ تعمیرات کتابِ عیش و عشرت کاایک ایک ورق کھول کے رکھ دیتا ہے۔زندگی کی عیش و عشرت میں گم اوربالغ وسعت نظر کی کمی کی وجہ سے صرف سرکاری خزانے لُٹ گئے۔کاش! یہ خطیر رقم غیرضروری تعمیر کے بر عکس تعلیم کے شعبہ پر خرچ کیا گیا ہوتا تو عام لوگوں کو بھر پور استفادہ ہو اہوتا ۔شاہجہاں نے اپنے جذبات کی نمائش کرتے ہوئے خود نمائی سے کام لیا، اگرچہ خود نمائی کے اینٹ گارے سے فنا ہونے والے جذبات کو حیات اَبدی کا لبادہ اوڑھا نہیں جا سکتا۔ کاش !ایسا ہوا
ہوتا کہ تعمیرات پر خرچ ہونے والی خطیر رقم کے علی الرّغم عام لوگوں کی خوشحالی اور آبادی پر صرف کیا گیا ہوتا تو آج حالات کچھ اور ہی ہوتے اور تعلیمی پسماندگی  کے کالے بادل دیکھنے کو نہیں ملتے اور فیض الحسن جیسے لوگ اس پسماندگی کے شکار نہیں ہوتے۔علم و عرفان کی نعمت سے محروم اور اپنے ماضی سے نابلد لوگ اپنا بسیرا لینے کے خاطر دردر کی ٹھوکریں نہیں کھاتے۔ ا فسوس! شاہجہاں نے ہیجان انگیز تضمین کی اصطلاح کو بروئے کار لاکر ایک محل تعمیر کرتے ہوئے خوشی اور انبساط تو کیا افتخار بھی محسوس کیا اور شہرت کے اُفق پر ٹمٹمانے لگے لیکن اپنے پیچھے لفظ محبت کی ایک غلط تعبیر کرتے ہوئے فانی دنیا چھوڑ کے گئے۔شاید اس لئے کہ انہوںنے ممتاز کو درددِ زہ میں مبتلاچیختے چلاتے دیکھ کر جب وہ اپنے چودھویں بچے کے جنم دینے کے لئے کراہ رہی تھی اور اسی دوران اس دنیا سے وہ ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ پھر کیا تھا؟ بس پھر شاہجہاں نے بنا کسی تا خیر کے ممتاز کی بہن کے ساتھ دوسری شادی کی  اورماضی میں پیش آچکے جملہ موجِ حوادث نسیاً منسیا ہوگئے۔
 نوٹ: ’’گریٹر کشمیر‘‘ کی مستقل کالم نویس سیّد افشانہ کے قلم سے ایک خاص مضمون بعنوان  poignant parody کے عنوان موقر روز نامہ’’ گریٹر کشمیر ‘‘میں شائع ہوا تھا جس کااردو تر جمہ نذرِ قارئین ہے۔   
  فون نمبر   9622669755