ہیتی کے صدر جووینل موئسے کا قتل، بیوی کی حالت سنگین

پوٹو پرنس //ہیتی سے ایک اندوہناک خبر سامنے آ رہی ہے جہاں ملک کے صدر جووینل موئسے کا ان کی رہائش پر ہی کچھ نامعلوم لوگوں کے گروپ نے حملہ کر کے قتل کر دیا ہے۔ ہیتی کے عبوری وزیر اعظم نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں صدر کے قتل کی تصدیق کی ہے۔ عبوری وزیر اعظم کلاڈ جوسف کا کہنا ہے کہ موئسے کی بیوی یعنی خاتون اول مارٹنی موئسے کی حالت اس وقت سنگین بنی ہوئی ہے اور ان کا علاج اسپتال میں چل رہا ہے۔وزیر اعظم کلاڈ جوسف نے اس قتل واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ انتہائی نفرت آمیز، غیر انسانی اور بہیمانہ حرکت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہیتی کی نیشنل پولیس اور دیگر افسران نے کیریبیائی ملک میں حالات پر قابو کیا ہوا ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ صدر موئسے کا قتل منگل کی دیر رات ہوا ہے اور یہ ملک میں گہراتے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے دیکھنے کو ملا ہے۔11 ملین سے زائد لوگوں کا ملک ہیتی موئسے حکومت کے تحت تیزی کے ساتھ عدم استحکام اور عدم اطمینان کی طرف بڑھا تھا۔ اس سے معاشی، سیاسی اور سماجی بحران گہرا گیا تھا۔ راجدھانی پورٹ آف پرنس میں گروہ تشدد میں زبردست اضافہ ہو گیا تھا۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی تھی اور ایسے میں ملک میں کئی بار کھانے اور ایندھن کا سنگین مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا۔یہاں قابل ذکر ہے کہ ہیتی ایسا ملک ہے جہاں 60 فیصد آبادی روزانہ 2 امریکی ڈالر سے بھی کم کماتی ہے۔