ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد

 
علامہ اقبال کا ایک بہترین شعر ہے   ؎
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
٭ جس قوم کے جوان لوہے جیسی مضبوط خودی سے آگاہ ہوں اور اس پر قائم رہیں تو پھر ان کو تلوار کی حاجت نہیں رہتی۔ اس قوم کے لئے ان جوانوں کا بلند جذبہ جنگی آلات سے زیادہ کام کرتا ہے، یعنی ووہ ساز و سامان کے بغیر ہی اپنے مقاصد پورے کر لیتی ہے۔
٭ اے مخاطب ! یہ چاند تاروں کی دنیا تیرے سامنے بالکل بے حقیقت ہے کیونکہ تو اپنے عمل میں آزاد ہے جب کہ غور کر ویہ دنیا سراسر مجبور ہے۔ مجبور اس لئے ہیں کہ نظر اور علم سے محروم ہیں اور تجھے خدا نے علم اور ارادہ عطا کر رکھا ہے یعنی جن چیزوں کو تو خود سے بلند تر سمجھتا ہے ،درحقیقت وہ تیرے شکار ہیں۔ تو جب چاہے ان کو مسخر کر لے۔
٭ موجوں کی تڑپ کیا ہے؟ غور سے دیکھئے تو وہ کسی شئے کی طلب پر مر کوز ہوتی ہیں اور یہ فقط ذوقِ طلب کا ہی کرشمہ ہے اور اس ذوقِ طلب اور تڑپ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قدرت ان میں موجود سیپیوں کے اندر موتی چھپا دیتی ہے اور انہیں مالا مال کر دیتی ہے۔ ثابت ہوا کہ اصل چیز تڑپ ہے جو موجود ہو تو بلند سے بلند مقصد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مطلب انسان کو موجوں کی تڑپ سے ذوقِ طلب حاصل کرنی چاہیے۔ یہ حاصل ہو جائے تو خدا کی رحمت کسی کو مایوس نہیں کرتی۔
٭ شاہین کی طرح اُڑنے کی ایسی مشق کر لینی چاہیے کہ تھک کر گرنے کی نوبت نہ آئے کیونکہ باقی سبھی پرندے تھوڑا ہی اُڑنے کے بعد تھک جاتے ہیں اور کہیں دم لینے بیٹھ جاتے ہیں لیکن شاہین اَن تھک اڑتا ہے مگر آج کے نو جوان بھول گئے ہیں کہ کل بڑھاپا آنے والا ہے ،یہ جوانیاں چند دنوں کی مہمان ہیں۔آج  جانوںکے کان اذان کی آواز سنتے ہیں،وہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سنتے ہیں، وہ طائف کا قصہ سماعت کرتے ہیںلیکن ان کے ا ندر کردار کی خوشبو پیدا نہیں ہوتی۔ ا س لئے احکام الہٰی کا جنازہ نکلتا ہوا دیکھنے کے باوجود ان کے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں پا یاجاتا اور وہ راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں، مگر یہ سلسلہ آخر کب تک رہے گا ،کسی کو کہیںتو اصلاح کے لئے پہل کرنی ہوگی۔اگر ہمارا ایمان قران و سنت پر پختہ ہے تو ہم ہر زمان و مکان کے مسائل کو حل کرسکنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں تو پھر کیوں نہ موجود ہ  مسلم دنیا کے معاشرتی،معاشی،اقتصادی،سماجی و دیگر مسائل کو حل کرنے کے لئے کمر ہمت باندھ لیں ۔ اگر ہم ُپر دم ہیں تو ہمیں گر نے کا کوئی خطرہ نہیں   ؎
اٹھ باندھ کمر کیا کرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
 ہم جو انبیاء کرام کے مشن کے وارث ہونے کا شرف رکھتے ہیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ تمام عمر خرافات اورواہیات میں گزر جائے گی ۔ ہم اپنی ذاتی اصلاح آپ کریں اور پھر بہ حیثیت خادم ِ انسانیت ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، انہیں پورے لگن اور خلوص کے ساتھ پورا کرنے کی نتیجہ خیز کوشش کریں ۔