ہونزڈ کشتواڑ میں ہزاروں ٹن ملبے کے نیچے 19لاشیں دفن

ہونزڈ( دچھن کشتواڑ)// ہونزڈ کی اس بدنصیب پہاڑی بستی میں بادل پھٹنے کے 5 روز بعد بھی 8خواتین سمیت 19لاشوں کا کہیں نام و نشان نہیں مل رہا ہے۔بستی پر پڑی اس آفت میں 7لوگوں کی جان گئی اور 17لوگ زخمی ہوئے۔حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 8کنبوں کے 26افراد اس المناک واقعہ میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔گاﺅں میں لاشیں ڈھونڈ نکالنے کی کارروائی اب نہیں ہورہی ہے کیونکہ نالے میں 30فٹ تک ملبہ اور پتھر پڑے ہیں جنہیں صاف کرنے میں کئی ماہ درکار ہونگے۔یہاں فی الوقت این ڈی آر ایف کے 30 اہلکار،ایس ڈی آرایف کے 50 اورایڈیشنل ایس ایس پی سمیت پولیس وآرمڈ پولیس کے 120 اہلکار خیمہ زن ہیں لیکن انکی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔چند روز قبل ڈاگ سکاٹ بھی لایا گیا تھا اور دو دن تک تلاش کارروائی کے بعد وہ واپس چلا گیا ہے۔

بچاﺅ کارروائیاں

بچاﺅ کارروائیوں کےلئے حکومت کی جانب سے قریب 200افراد دستیاب ہیں لیکن وہ لاکھوں ٹن ملبہ بیلچوں سے اٹھارہے ہیں جس سے لاشیں نکالنا نا ممکن ہے۔ابھی تک ملبہ ہٹانے کی معمولی سی کارروائی کے دوران پین کارڈ ایک ، دو الیکشن کارڈ، 10ہزار روپے، ایک قرآن مجید،2 گیس سلنڈر اورکچھ اراضی کے کاغذات ملے ہیں۔ ہونزڈ تک کوئی سڑک نہیں جاتی ہے بلکہ کشتواڑ سے ٹونڈر تک 60کلو میٹر تک گاڑی آسکتی ہے جس کے بعد گاﺅں تک پہنچنے کےلئے 4گھنٹے کا پہاڑی راستہ طے کرنا ہوتا ہے۔کوئی راستہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں بڑے پتھر اور ملبہ ہٹانے کےلئے بھاری مشینری نہیں پہنچ ، یہاںٹریکٹر نہیں پہنچ سکتا،بلڈوزر نہیں آسکتا، ایسے میں لاشیں کہاں سے نکالی جاسکتی ہیں اور کیسے نکالی جائیں گی۔ہونزڈ نالے میں ہزاروں ٹن ملبہ اور بھاری پتھر ہٹانے کےلئے بھاری مشینری آنے کا کوئی امکان نہیں ہے البتہ یہاں موجود افسران کا کہنا ہے کہ اگر جموں کشمیر کی انتظامیہ فوج سے بھاری مشینری پہنچانے کی درخواست کرے گی تو پھر ایسا ممکن ہے کیونکہ صرف فوج ہی یہاں لاشوں کو نکالنے کا کام کرسکتی ہے لیکن فی الوقت ایسے امکانات بھی کم ہیں۔

ہونزڈ بستی کا محل وقوع

ہونزڈ گاﺅں سے اوپر قریب دو کلو میٹر بادل پھٹے تھے لیکن پانی کا ریلا دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔پانی کے ریلے کا ایک حصہ ہونزڈ نالہ اور ایک حصہ کیارڈ نالہ میں تقسیم ہوا۔ہونزڈ نالہ میں جو ہلاکتیں ہوئیں ، اسکی وجہ وہ 8گھر تھے جو نالہ کے بیچوں بیچ تعمیر کئے گئے تھے۔نالے میں 8مکان تعمیر کئے گئے تھے جبکہ محکمہ فوڈ اینڈ سپلائز کا ایک سٹور بھی نالے میں تعمیر کیا گیا تھا اور جب پانی کا ریلا آیا تو یہ سبھی 8مکان مکنیوں سمیت بہہ گئے ۔دوسری طرف کیارڈ نالہ کے کنارے آباد گاﺅں میں6مکانوں کو جزوی نقصان ہوا جبکہ دو فٹ برج تباہ ہوئے۔ہونزڈ نالہ کے قریب ہی اننت نالہ بہتا ہے جس میں کوئی سیلاب نہیں آیا۔ہونزڈ میں کل 35 گھر آباد ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانی کے ریلے کے باوجود ایک مسجد شریف بچ گئی جبکہ اسکے ساتھ ایک مکان ڈھہ گیا۔

گاﺅں کی تاریخ

ہونزڈ نالہ بادل پھٹنے کے دوسرے روز ہی خشک ہوگیا ہے۔نالے کے ایک طرف معمولی پانی کا جھرنا بہتا ہے اور سیلابی پانی جیسا کبھی آیا ہی نہیں تھا۔گاﺅں کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ 40سال قبل نالے میں بہت شدت کی طغیانی آئی تھی لیکن کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ2004میں آگ کی ایک ہولناک واردات میںپورا گاﺅں جل گیا تھا اور لکڑی کے مکان ہونے کی وجہ سے قریب 30مکان راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ تب بھی آگ بجھائی جاسکتی تھی لیکن راستہ نہ ہونے کی وجہ سے فائر اینڈ ایمر جنسی عملہ نہیں پہنچ سکا۔