ہند نواز سیاستدانوں کو خوب جانتا ہوں: گیلانی

 حریت (گ) چیئر مین سید علی گیلانی نے مزاحمتی قیادت کے پروگرام کو کامیاب بنانے، 9؍اپریل کے انتخابی ڈرامے کا بائیکاٹ کرنے، بڈگام، گاندربل اور سرینگر اضلاع میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے اور 8؍اپریل سنیچر شام 6بجے سے ہی دوکانات بند کرکے جلسے جلوسوں اور مشعل بردار ریلیوں کا اہتمام کرنے کی اپیل دہرائی ہے۔گیلانی نے کہا کہ میں ان ہندنواز سیاستدانوں کو بھی خوب جانتا ہوں، جو آپ سے ووٹ مانگتے ہیں اور ان مواقع پر آپ کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہیں۔ میں ان کے بارے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان کا اول اور آخر ہدف صرف کرسی کا حصول ہے۔ ان کا کعبہ اور قبلہ نئی دہلی ہے اور یہ کشمیریوں کو درپیش مشکلات اور مصائب کے لئے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ کی ان حالیہ تقریروں کا حوالہ دیا ہے جن میں انہوں نے مجاہدین، سنگ بازوں اور حریت کانفرنس کا سپوٹ کرنے کی باتیں کی ہیں۔بیان کے مطابق آزادی پسند راہنما نے کہا کہ ان کا سارا قومی درد صرف الیکشن کے موقعے پر جاگ جاتا ہے اور اس کے بعد یہ آنکھیں پھیرنے اور رنگ بدلنے میں کوئی دیر نہیں لگاتے ۔ یہ نیشنل کانفرنس ہی تھی، جس نے رائے شماری کی 22سالہ جدوجہد کو 75ء میں اقتدار کے عوض بیچ ڈالا اور کشمیری قوم کی قربانیوں کا سودا کیا۔ یہ فاروق عبداللہ کی ذات تھی، جس نے 96ء میں ایک بار پھر کشمیریوں کی خونین تحریک کے ساتھ دغابازی کی اور الیکشن میں اُتر کر اس کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ دیا۔ اقتدار میں آکر ٹاسک فورس بنائی اور ان کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ جیلوں میں جگہ تنگ ہے، لہٰذا نوجوانوں کو گرفتاری کے وقت ہی شوٹ کیا جانا چاہیے۔ فاروق عبداللہ نے جنیوا اجلاس میں شرکت کرکے بھارتی فوج کا دفاع کیا اور کشمیریوں پر ڈھائے جارہے بے پناہ مظالم کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ گیلانی نے کہا کہ 2010میں 125نہتے کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ یہ نیشنل کانفرنس کی حکومت تھی، جس نے ان قاتلوں کو سزا دینے کے بجائے انعامات اور ترقیوں سے نوازا۔ فاروق عبداللہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو آزاد کشمیر پر بمباری کی وکالت کرتے ہیں اور کشمیری حریت پسند جوانوں کو گمراہ قرار دیتے ہیں۔ گیلانی نے کہا کہ آج یہ آر ایس ایس اور بھاجپا کے خلاف ایک جُٹ ہوکر مقابلہ کرنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ یہ حضرات ان کی حکومت میں ساجھے داری کرچُکے ہیں اور ان کے بیٹے وہاں منسٹر رہے ہیں۔ گیلانی نے کہا کہ یہ کشمیری قوم کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، البتہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اب جہلم سے کافی پانی بہہ چُکا ہے اور اس قوم کی نئی نسل فہم وشعور رکھتی ہے اور وہ دوست اور دشمن میں تمیز کرنا جانتی ہے۔ گیلانی نے کہا کہ پی ڈی پی مفتی صاحب مرحوم سے زیادہ اجیت ڈول نے بنائی ہے۔ اس پارٹی نے سبز جھنڈے اور قلم دوات کے ذریعے سے لوگوں کو کافی دھوکہ دیا اور ان کا استحصال کیا۔ پہلی بار اقتدار میں آکر کہا کہ مجاہدین کو اب جنگلوں میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہم اسمبلی میں ان کی نمائندگی کریں گے اور پھر تمام اعلیٰ کمانڈروں کو ایک ایک کرکے شہید کروایا۔ یہ پہلے شہداء کے جنازوں پر بھی جاتے تھے، البتہ بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملا کر انہوں نے بہت جلد اپنی اصلیت ظاہر کردی کہ یہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا ہے اور اس کا سبز جھنڈا اور قلم دوات محض ایک دھوکہ ہے۔سید علی گیلانی نے کہا کہ یہی حال ریاستی کانگریس، کمیونسٹ پارٹی، پیپلز کانفرنس اور دوسری ہندنواز تنظیموں کا ہے اور یہ سب کشمیریوں کی جڑیں کھوکھلی بنارہی ہیں اور بھارت کے جبری قبضے کو مضبوط بنانے کی باعث ہیں۔ میری تمام قوم سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ شہداء کا پاس ولحاظ کرکے الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں۔