ہندی کی مشہور مصنفہ کرشنا سوبتی کا انتقال

نئی دہلی//گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ ہندی کی مشہور مصنفہ کرشنا سوبتي کا جمعہ کو انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 94 برس تھی۔ ہندی کے معروف شاعر اورثقافتی کارکن اشوک واجپئی نے ‘یو این آئی’ کو بتایا کہ محترمہ سوبتي کا آج صبح ساڑھے آٹھ ایک پرائیویٹ اسپتال میں انتقال ہو گیا۔وہ کافی دنوں سے بیمارتھیں۔مسٹرواجپئی نے کہا ‘‘اس عمر میں ناساز طبیعت کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ اسپتال میں داخل کرایا گیا اور اس دوران وہ صحت مند ہوکر گھر واپس آجاتی تھیں۔ ان کا انتقال ہندی ادب کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے [؟]۔ان کی آخری رسومات آج شام چار بجے نگم بودھ گھاٹ کے الیکٹرک شمشان گھر میں ادا کی جائیں گی۔محترمہ سوبتی کی پیدائش 18 فروری 1925 میں پاکستان کے پنجاب کے گجرات میں ہوئی تھی۔ سال 1980 میں انہیں ان کے ناول ‘زندگی نامہ’ کے لئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا تھا۔ وہ ساہتیہ اکیڈمی کی فیلو بھی رہ چکی ہیں۔ انہیں کے کے برلا فاؤنڈیشن کا ‘ویاس سمان’ بھی ملا تھا جسے انہوں نے قبول نہیں کیا ۔محترمہ سوبتی نے دہلی اکادمی کا ‘شلاکا سمان’ بھی واپس کردیا تھا ۔ وہ پچاس کی دہائی میں‘بادلوں کے گھیرے ’ کہانی اور ناول ‘مترو مرجانی’ سے سرخیوں میں آئی تھیں۔ انہوں نے کئی بہترین کہانیاں اور ناول لکھے ۔ ‘ڈار سے بچھوڑی، مترو مرجانی، یاروں کے یار، تن پہاڑ، بادلوں کے گھیرے ، سورج مکھی اندھیرے کے ، زندگی نامہ، اے لڑکی، دل و دانش، ہم حشمت، سمے سرگرم وغیرہ ان کی مشہور تصانیف ہیں۔ یو این آئی