ہندچین تنازعہ!

قوم پرستی بمعنی نیشنلزم کوئی بُری چیز نہیں لیکن انتہائی قوم پرستی کو اچھا بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کے تانے بانے فاشزم سے جا ملتے ہیں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ قوم پرستی کی انتہا فاشزم کو جنم دیتی ہے۔انتہائی قوم پرستی اور فاشزم کے مابین ایک باریک سی لکیرکھنچی ہوئی ہے۔فاشزم کے کیا فوائد اور نقصانات ہیں،اس کا علم تو ہر ایک با شعور شخص کو ہے لیکن یہ طے ہے کہ اسے کبھی سراہا نہیں گیا اور خاص طور پر ایک مہذب معاشرے میں تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔چونکہ ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں تو اس صدی کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے زندگی گزارنی ہوگی ورنہ ہوگا وہی کہ ہم گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے۔
اگر ہم اپنے وطن ہندوستان کے تعلق سے دنیا بھر میں خود کو پیش کر رہے ہیں اور اپنے ہونے کا تاثر دے رہے ہیں تو ہمارے ایک ایک اقدام سے دنیا واقف ہے یا واقف رہنے کی ٹوہ میں رہتی ہے۔ایسا قطعی نہیں ہو سکتا کہ ہم نے جو کہہ دیا، دنیا اسے مِن و عن مان لے۔دنیا کو ہم پیش کر رہے ہیں کہ ہماری معیشت تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے بلکہ دنیا بھر میں تیز رفتاری کی شرح اول ہے یعنی ہم نے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، یورپ اور امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی معیشت ہمارے آگے کیا ہیں ؟یہ اعداد و شمار اک گورکھ دھندا جتلانے کے لئے ابھی تک تقریباً ۶۳؍ ملکوں کا دورہ ہمارے وزیراعظم مودی جی نے کر لیا ہے اور اُن ملکوں سے گزارش کی ہے کہ وہ ہمارے یہاں آئیں اور سرمایہ کاری کریں۔اِن تین برسوں کی انتھک محنت کے باوجود ہم کتنا  باہری سرمایہ جسے ’فارن ڈائریکٹ اِن ویسمنٹ‘ کہتے ہیں، جُٹا سکے؟ آج تک بتلانے سے قاصر ہیں ۔ ہمارا شیئربازار آسمان چھو رہا ہے اور حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ معیشت میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی نہیں بلکہ استحکام کے ساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں لیکن یہ زمینی حقائق سے بہت دور کی بات ہے۔اسی طرح باہر کے سرمایہ کار ہندوستان میں اپنا سرمایہ لگا رہے ہیں ، یہ بھی بالکل ہی غلط تاثر ہے۔ شیئر مارکیٹ میں جو پیسے لگتے ہیں اُسے اِن ویسٹمینٹ یعنی سرمایہ کاری تو بالکل نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ تھوڑے عرصے کے لئے ہوتا ہے۔وہ جب چاہیں اپنا فائدہ حاصل کرکے نکل جائیں اور لوگوں کو بے وقوف بنا جائیں۔اس لئے شیئر مارکیٹ کی اُٹھان کسی ملک کی معیشت کے استحکام کا اشاریہ نہیں کیونکہ زمینی سطح پر صورت حال کچھ اورہوتی ہے۔اگرچہ یہ اُٹھان اِن دنوں دنیا بھر کے شیئر مارکیٹ میں جاری ہے ، اسی لئے دنیا شیئر مارکیٹ کی حقیقت جاننے لگی ہے۔
اِس تناظر میں دیکھیں تو چین کو ہم نے خواہ مخواہ اپنا مد مقابل اور حریف سمجھ لیا ہے۔چین کی معیشت دنیا میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور ظاہر ہے کہ اُس کو یہ جگہ یوں ہی نہیں مل گئی ہے بلکہ اس نے اسے حاصل کرنے کے لئے کافی محنت کی ہے۔وزیر اعظم مودی کبھی کبھار یہ بھی بیان دے دیتے ہیں کہ چین کو ہمارے دو برس بعد آزادی ملی اور وہ ہم سے ترقی میں اتنا آگے نکل گیا۔کیسے نکل گیا؟ وہ یہ نہیں بتاتے بلکہ اس پر زور دیتے ہیں کہ کیوں نکل گیا؟ اور سارا ٹھیکرا کانگریس کے سر پھوڑتے ہیں ۔اس کا دوسرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اگر روزاول سے وزیر اعظم ہوتے تو آج ضرور چین سے آگے ہوتے ۔ان کی تقریروں میں یہ لفظ’ضرور‘ اکثر اور بار بار سننے کو ملتا ہے۔ با لفاظ دیگرباگ ڈور ہمارے یعنی آر ایس کے ہاتھ میں ہوتی تو چین آج ہم سے آگے نہیں ہوتابلکہ اُسے گھٹنے ٹیکنے پر ہم مجبور کرتے،وغیرہ وغیرہ۔جوش میں آکر حکومتی سطح پر یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ چین کی مصنوعات کا اعلیٰ پیمانے پر بائیکاٹ کیا جائے ۔اس کا اثر گزشتہ دیوالی میں دیکھنے کو ملا تھا۔لیکن اس سے نقصان چین کو نہیںبلکہ ہمارے بیوپاریوں کو ہوا کیونکہ وہ چینی مال تو منگوا چکے تھے۔آج ۹۰؍فیصد الیکٹرانک ساز و سامان ہم چین کا استعمال کر رہے ہیں جن میں حالیہ اضافہ ’وِیوو اور اُپّو‘ اسمارٹ فون کا ہے جن کے اشتہارات سے پورا ملک رنگ گیا ہے۔دیوالی کے موقع پر عوام کے جذبات سے کھیلنا آسان ہے کہ چینی قندیل مت جلاؤ اور چینی پٹاخے مت پھوڑو لیکن کیا اِن مصنوعات(الیکٹرانک) سے قوم پرستی مجروح نہیں ہوتی؟
یہ سب بچکانہ باتیں ہیں ،اِن کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں لیکن اِن بیان بازیوں کا چینیوں کے ذریعے نوٹس لیا جاتا ہے،یہ شاید ہمارے وزیر اعظم کو پتہ نہیں۔یہاں کے لوگ تو اِن بیانوں سے خوش ہو جاتے ہیں اور ان کے اندر قوم پرستی کا جذبہ بھی تھوڑی دیر کے لئے اُبھر آتا ہے لیکن چین میں اس کا کیا اثر لیا جاتا ہے،اس کا مشاہدہ کریں ۔ چین کے ایک بڑے مضمون نگاریو۔نِنگ(Yu Ning) نے وہاں کے ایک مقامی اخبارمیں ایک مضمون لکھا ہے کہ’ ’جب سے نریندر مودی وزیر اعظم ہوئے ہیں،ہندو نیشنلزم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہندوستان چین کے ساتھ جنگ کے لئے بر سر پیکار ہے۔ ‘‘ اور گزشتہ دنوںتو حد ہی ہو گئی جب ممبئی میں کبھی تعینات سابق چینی کاؤنسل جنرل’ لِیو۔یوفا ‘(Liu Youfa) نے وہاں کے سرکاری چینل پر یہ بیان دیا کہ’ ’ہندوستانی فوجیو! یا تو تم نکل جاؤ یا پکڑے جانے کے لئے تیا ر ہو جاؤ یا مار دئے جانے کے لئے‘‘۔یہ بیان بھوٹان میں ’ڈوکلام پٹھار‘ پر تقریباً ایک ماہ سے جاری دونوں ملکوں کی فوجی کشاکش کے تعلق سے ہے۔اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چینی کس حد تک جا سکتے ہیں؟اور ہم ہیں کہ خواہ مخواہ قوم پرستی کا انجکشن دے کر اپنوں کو ورغلائے ہوئے ہیں ۔ذمہ داران کو سمجھنا چاہئے کہ جنگ یا کوئی بھی معرکہ جذبات سے نہیں جیتا جاتاہے۔
ڈوکلام کے تعلق سے یہ بتا دیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر بھوٹان، چین اور ہندوستان کی سرحدیں ملتی ہیں ،اسی لئے اس کو تثلیثی جنکشن(Tri Junction) کہا جاتا ہے لیکن یہ متنازع علاقہ چین اور بھوٹان کے درمیان ہے نہ کہ ہندوستان کے درمیان لیکن ہندوستان ،بھوٹان کے موقف کی حمایت کرتا رہا ہے ۔ اس میں بھوٹان سے زیادہ ہندوستان کا مفاد شامل رہا ہے،یہ بات اب بھوٹانی سمجھنے لگے ہیں کیونکہ  چین کی خارجہ پالیسی کے تحت اُس نے بھوٹان کو بہت حد تک رام کر لیا ہے اور متنازعہ جگہوں کے عوض اپنی دوسری جگہیں انہیں دینے پرآمادہ کر رہا ہے کیونکہ چین کا بھوٹان کے ساتھ ایک چوتھائی سرحدی حصہ متنازعہ ہے اور یہ کارستانی انگریزوں کی ہے۔بھوٹان چاہتا ہے کہ جس طرح ہندوستان کے ساتھ اُس کی سرحدوں پر کوئی تنازعہ نہیں ہے ،اُسی طرح چین کے ساتھ بھی ہو جائے۔گزشتہ ماہ ۱۸؍جون کو چین ڈوکلام تک اپنی سڑک کی توسیع کرنے آگیا تھا اور تعمیراتی کارروائیاں مکمل کرنا چاہتا تھا لیکن ہندوستان نے اُسے روک دیا اور اس طرح دونوں کی فوجیں آمنے سامنے آگئیں۔چین چاہتا ہے کہ ہندوستان پہلے اپنی فوجیں وہاں سے ہٹائے تب وہ گفتگو کرے گا۔
اس درمیان کچھ روز قبل سشما سوراج نے پالیمنٹ میں بیان دیا ہے کہ دونوں ہی اپنی فوجیں ہٹائیں کیونکہ بھوٹان کے ساتھ ہی تمام ممالک ہندوستان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کسی بھی ملک کانام نہیں لیا ہے اور بھوٹان کی جانب سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔چین نے اس بیان کو دروغ گوئی کا نام دیا ہے ۔ اسی کے ساتھ چین کی جانب سے بھوٹان موضوع کی آڑ میں کشمیر میں ثالثی کرنے کا عندیہ بھی دیا جاچکا ہے،حالانکہ ہندوستان نے اسے یکسر ٹھکرا دیا ہے۔واقعات اور حالات کا تسلسل دیکھیں تو مودی اور ڈدوبھال کی خارجہ پالیسی بُری طرح ناکام نظر آتی ہے کیونکہ اگر ایسا ہوا کہ ہمیں ڈوکلام سے اپنی فوج ہٹانی پڑی تو مودی جی کی سبکی تو ہوگی ہی ساتھ ہی ہماری خارجہ پالیسی پر بھی سوالیہ نشان لگیں گے۔خدا نہ کرے کہ ایسا ہو ،لیکن صرف بیان بازیوں سے پالیسی ترتیب نہیں دی جاتی۔وزیر اعظم کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ اکثریتی طبقوں کے جذبات ابھار کر آپ اُن پر حکومت تو کر سکتے ہیں ،اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔
 نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو، نئی ممبئی کے مدیر ہیں
رابطہ 9833999883