ہندو پاک قومی سلامتی مشیروں کی بنکاک میں خفیہ ملاقات

 نئی دہلی //بنکاک میں بھارت اور پاکستان کے قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات ہوئی ہے جس میں لائن آف کنٹرول اور کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کی گئی۔انڈین ایکسپریس کے مطابق 25 دسمبر کو کلبھوشن یادوسے اس کے اہل خانہ کی ملاقات کے ایک روز بعد 26 دسمبر کو پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی مشیروں کی تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں خفیہ ملاقات ہوئی۔ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور بھارتی ہم منصب اجیت ڈوول کی ملاقات 2 گھنٹے جاری رہی۔ یہ میٹنگ ایک ماہ پہلے سے طے شدہ تھی جس کا کلبھوشن اور اہل خانہ کی ملاقات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں لائن آف کنٹرول، در اندازی اور کشمیر معاملے پر بات ہوئی۔دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور پاکستانی فوج کو بھی اس ملاقات سے باخبر اور تفصیلات کا علم تھا جبکہ خصوصی طور پر اس میٹنگ کا اہتمام ایک غیرجانبدار مقام پر کیا گیا تھا۔بعدازاں ناصر جنجوعہ نے جمعرات کو نواز شریف سے 5 گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں قومی سلامتی کے امور پر بھی بات چیت ہوئی اور دونوں ممالک میں تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ سابق وزیراعظم نے بھارت سے دوستانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔پاکستانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملاقات 26و نہیں بلکہ 28دسمبر کو ہوئی جس میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے، دراندازی اور کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی میں آنے والے ایام میں وئی پیش رفت ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔دونوں ملکوں کے سلامتی مشیروں کے درمیان یہ پہلی خفیہ میٹنگ نہیں تھی بلکہ دسمبر 2015میں بھی اجیت دوول اور ناصر جنجوعہ کے درمیان بنکاک میں ہی ایک طویل میٹنگ ہوئی تھی جس میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹری بھی تھے۔ اس میٹنگ کے بعد ہی وزیر اعظم نریندر مودی افٹانستان سے سیدھے نواز شریف سے ملنے گئے تھے۔