ہندوویتنام تکنالوجیائی تبادلہ کے

نئی دہلی// اس تمہید کے ساتھ کے ویتنام کو ہندوستان کی مشرق کے رخ پر سرگرم عمل ہونے کے فریم ورک میں ایک اہم مقام حاصل ہے اور آسیان ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں بھی ویتنام ایک خصوصی حیثیت رکھتا ہے ، وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ دونوں ممالک تکنالوجی کے تبادلہ کے محاذ پر نئے امکانات کا جائزہ لیں گے ۔وزیراعظم نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ''ہم نے دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعاون کا دائرہ وسیع کرنے اور تکنالوجی کے تبادلہ کے محاذ پر امکانات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہم ایک آزاد کھلے اور خوشحال ہند ۔پیسفک علاقے کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں گے جہاں آزاد ملکوں کے اقتدار اعلی اور بین الاقوامی قانون کا احترام کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں تین مفاہمت ناموں کا تبادلہ ہوا۔مسٹر مودی نے مزید کہا کہ ''ہم نے قابل تجدید توانائی ، زراعت، ٹکسٹائل اور تیل اور گیس جیسے مختلف شعبوں میں اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔تیل اور گیس کے شعبے میں ہم نہ صرف اپنے دیرینہ باہمی رشتے کو تقویت بخشیں گے بلکہ سہ طرفہ امکانات کے محاذ پر دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی معاملات کریں گے ۔صدر ویتنام ترن دائی کوانگ نے ہندوستان اور ویتنام کی راجدھانیوں کے درمیان راست پروازیں شروع کرنے پر بھی زور دیا۔