ہندوستان کی دیگرریاستوں میں قبائلی طبقہ پرلاگوماڈل اورترقیاتی منصوبے

 جموں// گوجربکروال طبقہ کے لوگوں نے ریاستی حکومت سے مانگ کی ہے کہ وہ ہندوستان کیدوسری ریاستوں کے ماڈلوں کااپناکر خانہ بدوش طبقہ کی ترقی اور بازآبادکاری سے متعلق منصوبے کواپنائیں۔ گوجربکروال طبقہ کے لوکاں نے ان خیالات کااظہارٹرائبل ریسرچ اینڈکلچرل فائونڈیشن کی طرف سے منعقدہ ٹرائبل اسکالروں سے متعل پروگرام میں شرکت کے دوران کیا۔اس پروگرام کی سرپرستی نامورگجراسکالر ڈاکٹرجاویدراہی کررہے تھے ۔ اس موقع پر مقررین نے کہاکہ صدیوں سے جن علاقوں میں یہ طبقہ رہ رہاہے، وہیں ان لوگوں کو لایا اور قانونی طوربسایاجائے۔ان لوگوں نے کہاکہ  اس طبقے کی ثقافت کی پہچان کرنے کی ضرورت ہے اور ملک کی باقی ریاستوں کی طرزپر جموں کشمیرغاقبائلی لوگوں کوبھی تمام ترحقوق دیئے جائیں۔ ڈاکٹرجاویدراہی نے اپنے صدارتی خطاب میںکہاکہ ریاست میںبدامنی کے حالات پہاڑی علاقوں میں ان کارہنااورخانہ بدوشی کی طرززندگی گزارنے والا گوجربکروال طبقہ مناسب تعلیمی اور صحت سہولیات حاصل کرنے اوربازآبادکاری کی جدوجہدکررہاہے۔ انہو ں نے کہاکہ ریاست کی کل ٹرائبل آبادی کا اسی فیصد حصہ گوجربکروال طبقہ کے لوگ ہیں اور حکومت کی طرف سے ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے ماڈل حاصل کرکے ترقیوں میں ریزرویشن سمیت تمام سکیمیں اور قوانین ریاست میں لاگوکرنے چاہئیںجو ملک کے باقی حصوں میں عملائے جارہے ہیں۔ مقررین کاکہناتھاکہ ریاست کو حاصل خصوصی اختیارات ریاست میں زیادہ ٹرائبل دوست اسکیم اپنانے میں کارگرثابت ہوسکتے ہیں۔مقررین نے فاریسٹ رائٹس ایکٹ 2006، پروٹیکشن آف سول رائٹس ایکٹ 1955،پروٹیکشن آف سول رائٹس رولز 1977، ایس سی/ایس ٹی (پرونشن آف ایٹروسٹیز )ایکٹ 1995 اورپنچایت ایکسٹیشن ٹودی شیڈیولڈایریاز(پی ایس اے اے )ایکٹ  1996 جموں وکشمیرمیں نافذکرنے پرزوردیا۔مقررین میں چوہدری محمود، چوہدری دین محمدڈھکر، خادم حسین تیڑواہ،رانامیرمحمدگوجر،محمدرضوان ودیگران شامل ہیں۔