ہندوستان کی جمہوریت پر بدنما داغ:مین اسٹریم

 سرینگر //نیشنل کانفرنس نے خونین واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ علی محمد ساگر نے کہا ” ہمارے پُر امن شہری ، امن پسند لوگ خصوصاہمارے نوجوانوں پر بے دریغ گولیاں، پیلٹ گن اور بے تحاشا طاقت کا استعمال انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کابدترین ثبوت ہے جس کی پُر زور مذمت کی جاتی ہے “۔انہوں نے کہاکہ بے قصور نوجوانوں کونہایت بے دردی کے ساتھ قتل کیا جارہا ہے جو ہندوستان کی جمہوریت پر بدنما داغ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے سنگ دل اور بے رحم فورسز ہماری نوجوان پود کو تہہ تیغ کررہے ہیں ۔ انہوں نے اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرانے کی مانگ کی ۔ انہوں نے کہا چونکہ پی ڈی پی اور بی جے پی مخلوط سرکار لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اور حکومت کا سارا کنٹرول فورسز کے ہاتھوں میں ہے۔ اس دوران پارٹی کے سینئر لیڈران ایڈوکیٹ عبدالرحیم راتھر،ناصر اسلم وانی، آغا سید روح اللہ ، ایم ایل سی علی محمد ڈاراور ترجمان جنید عظیم متو نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر کو قتل گاہ بنانے کی شروعات 1990 میں ہوئی ۔ایم ایل سی علی محمد ڈار نے اس واقعہ کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں بے گناہ معصوم نوجوانوں کو جس بے دردی کے ساتھ ہلاک کیا گیا وہ جمہوریت پر بدنما داغ کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالیوں کی بد ترین مثال ہے ۔ادھر ڈےموکرےٹک پارٹی (نےشنلسٹ) کے صدر غلام حسن مےر نے چاڈورہ واقعہ کو جمہورےت کے چہرے پر بد نما داغ سے تعبےر کےا ۔ انہوں نے کہا کہ فورسز اسی طرح عام لوگوں سے بھی نمٹ رہی ہیں جس طرح وہ جنگجوﺅں کے ساتھ نمٹ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ہلاکتےںقابل مذمت ہےں ۔ انہوں نے رےاستی حکومت کو خبردارکیا کہ جنگجو مخالف آپرےشنوں کے دوران عام شہرےوں کے جانی نقصان سے وادی مےں امن قائم نہےں ہوگا بلکہ اس سے صورتحال اور زےادہ بگڑ جائے گی ۔