ہندوستان اور امارات کے درمیان تجارتی معاہدہ

نئی دہلی//ہندوستان اور متحدہ عرب امارات نے جمعہ کو ایک تاریخی جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سی ای پی اے)پر دستخط کیے اور وزیر اعظم نریندر مودی اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد کے درمیان ایک ورچوئل سربراہی اجلاس میں مجموعی تعلقات کی توسیع کے لیے ایک روڈ میپ کی نقاب کشائی کی گئی۔ مودی نے ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کے مختلف پہلوں کا ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک خلیجی ملک میں دہشت گردی کے خلاف "کندھے سے کندھا ملا کر" کھڑے ہوں گے۔وزیراعظم نے جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی دکھانے پر متحدہ عرب امارات کی تعریف کی۔انہوں نے کہا، "گزشتہ ماہ جموں اور کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے یو اے ای کے کامیاب دورے کے بعد، کئی اماراتی کمپنیوں نے جموں اور کشمیر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔"انہوں نے مزید کہا، "ہم J&K میں لاجسٹک، صحت کی دیکھ بھال، مہمان نوازی سمیت تمام شعبوں میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں۔"مودی نے کہا کہ دونوں فریق تین ماہ سے بھی کم وقت میں اس طرح کے ایک اہم معاہدے پر بات چیت کو ختم کیا حالانکہ اس قسم کے معاہدے کو مکمل ہونے میں سالوں لگتے ہیں۔حکومت نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں طرف سے کاروباری اداروں کو نمایاں فوائد فراہم کرے گا جس میں مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ اور ٹیرف میں کمی شامل ہے اور اس معاہدے سے دو طرفہ تجارت کو موجودہ 60 بلین امریکی ڈالر سے اگلے پانچ سالوں میں 100 بلین ڈالر تک بڑھانے کی توقع ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی، مشترکہ نقطہ نظر اور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، مودی نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ یہ ہمارے اقتصادی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔