ہندوستانی مسلمان: مسائل اور ممکنات

ملک کے موجودہ حالات میں دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہندوستانی مسلمان داخلی و خارجی طاقتوں کے زبردست دباؤ میں آتے جارہے ہیں۔ ملک کی داخلی طاقتوں کا  دباؤ انہیں نفسیاتی طور پر کمزور کررہا ہے اور مسلمانوں کو اپنی توانائیاں ، اپنی برادری اور وطن کی ترقی پر خرچ کرنے کا موقع دینے کے بجائے مسلسل چیلنجز کا سامنا کرنے کی وجہ سے ان کی توانائی اور وسائل غیر ضروری امور پر صرف ہورہے ہیں۔ تاہم بہتر ہوگا کہ مسلم برداری حالات کو موجودہ تناظر میں دیکھنے کے ساتھ ہی ان حقائق کا تجزیہ بھی کرے جو قوم کی موجودہ حالت اور اس کو درپیش المیہ کے لئے ذمہ دار ہیں۔ مسائل سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی ہمہ رخی ہونی چاہئے جو واضح طور پر وسائل اور نتائج سے بخوبی ہم آہنگی رکھتی ہوں ۔ 
ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش مسائل سماجی ، سیاسی ، معاشی اور مذہبی تمام نوعیت کے ہیں۔ چنانچہ ان سے نمٹنے کے لئے وضع حکمت عملی بھی ہمہ رخی ہونی چاہیے۔ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران جو سیاسی تبدیلیاں ملک میں رونما ہوئی ہیں ، خاص طور سے مئی 2019ء میں  ہونے والے عام انتخابات کے بعد سیاسی حالات نے جو تبدیلی آئی ہے اس کا اثر بالخصوص مسلم قوم کے اوپر بہت زیادہ ہوا ہے۔ ان حالات نے مسلم قوم کے دانشوروں، ہمدردوں ، قائدین اور بہی خواہوں کو بہت زیادہ مایوس کیاہے۔ حالیہ سیاسی حالات پر مسلمانوں کے مذہبی اور برادری کے قائدین کی جانب سے ردِعمل بھی آیا ہے لیکن اس ردعمل میں ٹھوس اقدامات شامل نہیں ہیں۔ یہ مایوسانہ رویہ اور کمتری کا احساس مسلم قوم کے لیے بہتر نہیں ہے۔ اس کے بجائے اس وقت سنجیدگی کے ساتھ اپنامحاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا تجزیہ کیا جائے اور ان کے کسی ممکنہ اور مثبت حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے، جو کہ مسلم قوم اور ملک دونوں کے حق میں بہتر ثابت ہوسکیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کو اس وقت درپیش مسائل کا ممکنہ حل اپنا محاسبہ اور مسائل کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی نکل سکتا ہے۔ ان مسائل نے مسلم قوم کو دوسروں پر انحصار کرنے والی ایک پسماندہ قوم میں تبدیل ہونے پر مجبور کردیا ہے، جو کہ اس کے مستقبل کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہورہے ہیں۔ ان مسائل پر گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا قدم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر ترتیب دیا جانا چاہئے۔ سب سے پہلے مسلمانوں کو اپنی ایک متحدہ امیج بحیثیت مسلم قوم پیش کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اپنے اندرونی اختلافات کو ظاہر کرنے کی ۔
مسلمانوں کو درپیش مسائل 
مسلم قوم کے مذہبی قائدین،اکابرین اور ہبرانِ ملت کی جانب سے ایک تحریک شروع کی جائے جس کے ذریعہ مسلم قوم کی طبقاتی اور فرقہ واری تقسیم کو ختم کیا  جاسکے۔ دوسری قوموں  کی نظروں میں مسلمان ایک متحدہ قوم  ہے نہ کہ طبقاتی یاذات پات پر مبنی سماج۔ اس لئے اگر ہم دوسروں کو متحد نظر آتے ہیں تو ہمیں متحدہ شبیہ اور متحدہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا آسان ہے لیکن ہمارے علماء اور ان کی پیروی کرنے والوں کے درمیان رواداری اور یکجہتی قائم  کرنے کے لئے سرگرم ہونا چاہیے۔
مزید یہ کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کسی مسئلہ پر صرف ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے اس پر فعال رویہ اختیار کریں اور یہ تجزیہ کریں کہ اس مسئلہ سے انھیں کیا نقصان پہنچ رہا ہے یا کیا فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی سطح پر جو لوگ مسلمانوں کی نمائندگی سنجیدگی کے ساتھ نہیں کرتے نظر آتے ہیں،انہیں آگے نہیں لانا چاہئے کیوں کہ وہ مسائل کو غلط طور سے پیش کرتے ہیں اور صرف اپنے ذاتی مقاصد کے لیے قوم کے رہنما بن کر سامنے آتے ہیں۔ صرف سنجیدہ اور پابند عہد افرا دکو ہی مسلم قوم کے متعلق فیصلہ سازی میں حصہ لینے کا موقع دینا چاہئے تاکہ وہ 14 کروڑ مسلمانوں کی موزوں ، مناسب اور موثرنمائندگی کرسکیں۔
 تیسرے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ملک کی دوسری اقلیتوں جیسے پارسی ، سکھ اور عیسائیوں کے ساتھ باہمی مستحکم تعلقات قائم کریں۔ انہیں ان اقلیتوں سے سیکھنا چاہئے کہ وہ کس طرح تعلیمی ، سماجی اور معاشی شعبوں میں بہتر مظاہرہ کرپارہے ہیں اور ان کاوشوں سے مسلم قوم کی فلاح و بہبود کے لیے سبق لینا چاہیے۔ دیگر یہ کہ دوسری قومیںاپنے  وسائل کا استعمال کس طرح کرتے ہیں اور کس طرح اپنے قائدین سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، اس کا بھی تجزیہ بھی کیا جانا چاہیے۔دیگر یہ کہ اس باہمی تعاون سے ہمیں ملک میں رواداری اور بھائی چارہ کے اصولوں کو مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
 چوتھے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سنجیدگی سے اپنی قوم کے طور طریقوں میں اصلاحات لانے کی کوشش کریں۔ جو کہ مسلمانوں کی منجملہ ترقی کے لئے بیحد ضروری ہیں۔ اس سلسلہ میں شادیوں اور دیگر مذہبی تقاریب پر بے جا اخراجات کو کم کرنا بھی شامل ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی برادری کی ایک بہتر امیج پیش کرنے کے لئے مثبت اور عملی اقدامات لینے کی کوشش کریں، مسلم سماج میں صفائی اور تعلیم کی ضرورت کو فروغ دیں۔ یہ دو احکام ایسے ہیں جن پر مقدس قرآن مجید میں بھی بار بار عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ 
آخرمیں مسلمانوں کے نفسیاتی طورپر کسی بھی مسئلہ سے نمٹنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہمیں تمام مسلم طبقات کی نمائندگی کرنے والے بزرگوں کی ایک کل ہند کمیٹی قائم کرنے کی ضرورت ہے، جس کے ذریعہ عملی پیغامات قوم کے ہر شخص تک پہنچایا جاسکے جس میں دینی مدارس، سیاسی و سماجی کارکن اور نوجوانوں کا ایک اہم کردار ہوسکتا ہے۔ سیاسی محاذ پرمسلمانوں کو ہمہ رخی حکمت عملی اختیار کرنا چاہئے ۔ ملک کی سیکولر اور جمہوری طاقتوں کو مضبوط بنانا چاہئے اور ہندوستان کی سیکولر اور صحیح سوچ رکھنے والی 63 فیصد آبادی کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہیے۔
نجات کی کلید 
ملک کے سیاسی عمل میں ایک سرگرم نمائندے کی حیثیت سے ہمارے سیاسی رہنماؤں کو اپنے ساتھ نوجوانوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے جس سے کہ انھیں سیاسی سرگرمی میں  حصہ لینے کی تربیت دی جاسکے اور ساتھ ہی ان کو سیکولر طاقتوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر اپنی قوم کی بہتری کے لیے کیا کردار ادا کرسکتے ہیں یہ واضح رہنا چاہیے۔ ہمیں ، ہمارے عوامی نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہنا چاہئے۔ہمیں عوامی نمائندوں کے ساتھ تعلقات قائم کرکے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ تعلقات ہموار ہوں اور ہمارے عوامی نمائندے ہمیں صرف شکایتی ہی نہسمجھیں  بلکہ وہ مسلم قوم کے ان نوجوانوں کو اپنی سیاسی ٹیم کا ایک بااثر حصہ تصور کریں۔اس کے علاوہ ہمیں پابند عہد قائدین میں ہم آہنگی پیدا کرنا چاہئے جو مسلمانوں کی حقیقی خواہشات کی عکاسی کرنے کے علاوہ ان کو سیاسی اور معاشی طور پر بااختیار بنانے میں مدد کرسکیں۔ 
ہندوستانی مسلمانوں کی پسماندگی کے لئے جس کلیدی عنصر کی نشاندہی کی جاسکتی ہے وہ ہے مسلمانوں میں تعلیم کا فقدان۔ ایک تجزیہ کے مطابق گذشتہ 25 برسوں کے دوران مسلمانوں کی تعلیمی اہلیت میںخاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور ماضی کے مقابلہ میں مسلم برادری میں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد میں بھی میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم ہمیں ہمارے بچوں کی تعلیم کے لئے مزید جدوجہد اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ سماجی اورمعاشی طور پر کمزور  برادری کے بچے بھی تعلیم حاصل کرسکیں۔ ہمیں اپنے  اسکولوں اور کالجوں کو دیہی اور ضلع سطح پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ قوم کے تمام طبقات کو معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے اور بچوں میں اسکول ترک کرنے کے رجحان کو بھی ختم کیاجاسکے۔ اس کے لئے مربوط کوششوںاور کونسلنگ کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے حکومت سے توقع رکھنے کے بجائے ہمیں اپنے طور پر کوششیں کرنی چاہئے۔ 
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کے ہر شہر اور قصبہ میںمسلمانوں کے اسکول اور کالجس موجود ہیں لیکن ان میں سے اکثریت جدید آلات اور معیارات سے عاری ہے یا پھر تدریسی عملہ خاطر خواہ پیشہ وارانہ صلاحیت نہیں رکھتاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اداروں کو کارکرد اور فعال بنانے کے لئے ایک جامع منصوبہ وضع کیا جائے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک کل ہند سطح کی کمیٹی قائم کی جانی چاہیے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے کہ مسلمانوں کو کس طرح کم خرچ میں معیاری تعلیم موجودہ  انفراسٹرکچر کے ذریعہ فراہم کی جاسکتی ہے۔ 
گذشتہ 25 برسوں کے دوران مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی تنظیمیں ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی ہیں لیکن درحقیقت  ان کی سرگرمیاں اپنی ذاتی ترقی اور مفاد تک ہی محدودرہتی ہیں۔ ان میں برادری کے لئے ذمہ داری اور پیشہ وارانہ سنجیدگی کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ کوشش یہ ہونی  چاہئے کہ ایسی تمام تنظیموں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لایا جاسکے اور ان کے انسانی و مالیاتی وسائل کو برادری کی ترقی و ترویج کے لئے بہتر طور پراستعمال کرتے ہوئے منصوبہ بندی کی جاسکے۔
مسلم قوم کی موجودہ طلب اور خواہشات کی مناسبت سے حکمت عملی تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مسلم قوم کی سماجی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے۔ تعلیم کے علاوہ کل ہند سطح پر ایک ایسی کمیٹی بھی قائم کرنا چاہئے جو خیراتی کاموں میں مسلمانوں کی نمائندگی کرسکے چاہے وہ آفات سماوی ہوں یا حکومت کی مختلف سماجی پروگرام یا غریبوں کو کھانا کھلانا ہو یا بیماریوں کی نگہداشت۔ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر ابھرنا ہوگا جسے قومی بہبود کے محاذ پر صف اول میں دیکھا جاسکے، جہاں ہم برادران وطن کی کاندھے سے کاندھا ملاکر مدد کرسکیں اور ہمیں ملک کی ترقی وخوشحالی میں برابر کا شریک تصور کیا جاسکے۔
 (مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں)
ای میل۔[email protected]