ہندوایکتامنچ کی ہڑتال کال پرکٹھوعہ بند

جموں// آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)کے حوالے کرنے کے مطالبے کوتسلیم کرنے میں ہورہی تاخیرکے پیش نظر ہندوایکتامنچ کی جانب سے کٹھوعہ بندکی کال کے پیش نظر کٹھوعہ بازاربندرہاجبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔اس بندکال کو بیوپارمنڈل کٹھوعہ اور بارایسوسی ایشن کٹھوعہ کی حمایت حاصل تھی جس کے پیش نظربار ایسوسی ایشن کٹھوعہ نے اپنا عدالتی کام کاج بھی پورا دن معطل رکھا۔سنیچرکے روز کٹھوعہ میں دکانیں بندرہیں اوریومارکیٹ، سٹی چوک علاقے میں تین سوکے قریب افرادنے احتجاجی دھرنادیا۔بار ایسوسی ایشن کٹھوعہ کے کارکنان نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے  الزام لگایا کہ کیس کی تحقیقات شفاف طریقے سے نہیں ہورہی ہے۔ اس پر ہمیں بھروسہ نہیں ہے۔ کرائم برانچ حکومت کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہے۔ یہ سی بی آئی انکوائری سے کیوں ڈر رہے ہیں‘۔ سراپااحتجاج تنظیموں نے کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کاپرزورمطالبہ کیا۔