ہندوارہ کا شال پھیری والاپنجاب میں مردہ حالت میں برآمد

ماگام (ہندوارہ)//شمالی ضلع کپوارہ کے سراج پورہ ماگام ہندوارہ سے تعلق رکھنے والا ایک36سالہ نوجوان فیروز پور پنجاب میں لاپتہ ہونے کے ایک روز بعد بہادر سنگھ والا گائو ں کے سنسان مقام پر پر اسرار حالت میں مردہ پایا گیا ۔لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ نوجوان کو ادھار کے پیسہ جمع کرنے کے دوران قتل کیا گیا ۔مشتاق احمد میر ولد حبیب اللہ میر ساکن سراج پورہ ماگام ہندوارہ گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں شال پھیری کرنے کے لئے پنجاب کے شہر فیروز پور گیا تھا۔ اسکے لواحقین کا کہنا ہے کہ مشتاق پچھلے 10برسوں سے فیروز پور پنجاب میں شال پھیری کا کاروبار کرتا تھا۔مشتاق کیساتھ ایک کشمیری نوجوان شیخ نصیر نے فیروز پور پنجاب سے فون پر بتایا کہ جمعرات کے روز مشتاق اپنے ادھار کے پیسہ جمع کرنے کے لئے اپنی عارضی رہائش گھر سے نکلا تاہم جب وہ شام تک واپس نہیں آیا تو انہو ں نے ان کو فون کیا لیکن ان کا موبائل فون بند پڑا تھا جس کے بعد مشتاق کے ساتھیو ں کو تشویش لاحق ہوگئی اور ان کی تلاش شروع کی۔ جمعرات رات دیر گئے مشتاق کے بارے میں کوئی سرا غ نہیں ملا  ۔نصیر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد فیروز پور میں ٹھہرے تمام کشمیر ی جمع ہوئے اور فیروز پور کے صدر تھانہ میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی ۔مشتاق کے ساتھیو ں کا کہنا ہے کہ جمہ کی صبح ان کو پولیس نے فون کر کے بتایا کہ مشتاق کی لاش بہادر سنگھ والا نامی گائو ں میں ایک سنسان مقام پر کھیت میں ایک بوری میں پائی گئی ہے۔مشتاق کے ساتھیو ں نے مزید بتایا کہ کہ جب لاش کو بوری سے نکال دیا گیا تو ان کی گلے میں پھانسی کا نشان تھا اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مشتاق کو ادھار کے پیسہ جمع کرنے کے دوران قتل کیا گیا اور وہ سائیکل وہاں نہیں تھی جس پر وہ گیا تھا۔فیروز پور پولیس نے لاش کا پوسٹ مارٹم ضلع اسپتال فیروز پورمیں کیا۔اس دوران  اسپتال کے باہر سینکڑوں کشمیری مزدور جمع ہوئے اور اس پر اسرار ہلاکت کے خلاف سخت احتجاج کیا ۔انہو ں نے کہا کہ وہ فیروز پورہ میں بے یارو مدد ار ہیں اور مشتاق کی پر اسرار ہلاکت پر کسی نے بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ انہو ں نے پنجاب سرکار سے مطالبہ کیا کہ مشتاق کے قاتلو ں کو فوری طور گرفتار کیا جائے۔ ۔اس دورا ن مشتاق کے اہل خانہ اور مقامی لوگو ں کو ان کی ہلاکت کی خبر ملی تو سراج پورہ اور ملحقہ علاقوں میں کہرام مچ گیا اور لوگ مشتاق کے گھر پہنچ گئے جہا ں ان کی والدہ ساجہ بیگم مشتاق کی موت کی خبر سن کر بے ہوش پڑی تھی جبکہ مشتاق کی اپا ہج بہن منیرہ بانو غم سے نڈھال تھی۔ مشتاق کی اہلیہ اپنے تین کمسن بچو ں کے ہمراہ خون کے آنسو رو رہی ہے ۔ مشتاق کا والد حبیب اللہ میر کئی سال قبل بادل پھٹنے کے دوران اپنی ہی کھیت میں لقمہ اجل بن گیا اور تب سے گھر کی ساری ذمہ داریا ں مشتاق کے کندھو ں پر تھی ۔لیکن اب مشتاق کی بیوہ والدہ ،اپاہچ بہن اور جواں سالہ اہلیہ اور تین کمسن بچوں کا کیا ہوگا یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے ۔مقامی لوگو ں اور اہل خانہ نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملہ پنجاب سرکار کی نو ٹس میں لاکر اس قتل کی بڑے پیمانے پر تحقیقات کرائے اور قاتلو ں کو گرفتار کر کے انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔پیپلز کانفرنس چیئر مین سجاد غنی لون نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پنجاب سے مطالبہ کیا  ہے کہ معاملہ کی تحقیقات کر کے لواحقین کو انصاف دلایا جائے۔
 
 

شوپیان کا مزدور 

ہماچل پردیش میں لقمۂ اجل

شاہد ٹاک
 
شوپیان //شوپیان کا مزدور ہماچل پردیش میں پہاڑی سے گر کر لقمہ اجل بن گیا۔ ضلع کے شاداب کریوا مانلو کا مزدور گلزار احمد خان ولد مرحوم منیر احمد خان ہماچل پردیش میں مزدوری کرنے گیا ہواتھا۔گلزارجمعہ کی صبح مزدوری کرنے کے دوران ایک پہاڑی سے گر کر گہری کھائی میں گر گیا۔اسے باہر نکالنے کی فوری کارروائی کی گئی لیکن وہ دم توڑ چکا تھا۔مقامی پولیس نے اسکے اہل خانہ کو حادثہ سے متعلق مطلع کردیا ہے۔