ہندوارہ میں پردھان منتری آواس یوجنا میں دھاندلیو ں کاالزام

کپوارہ//ہندوارہ میںپردھان منتری آواس یوجنا میں مستحق افراد کی حق تلفی کرنے کے خلاف لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین اورپنچایتی نمائندوں نے منظورنظرلوگوں کو اس اسکیم کے دائرے میں لاکر مستحقین کی حق تلفی کی ہے۔پردھان منتری آواس یو جنا غریب خاندانوں کیلئے شروع کی گئی تھی تاکہ وہ اس سکیم کے ذریعے سر چھپانے کے لئے مکان تعمیر کریں لیکن کپوارہ ضلع کے سب ضلع ہندوارہ میں غریب طبقہ سے وابستہ لوگو ں نے الزام لگایا کہ مذکورہ سکیم میں مستحق لوگو ں کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین اور پنچائتی نمائندو ںنے منظور نظر لوگو ں کو اس سکیم کے دائرے میں لایا ۔ معلوم ہواہے کہ سب ضلع ہندوارہ کے مختلف علاقوں جن میں شہلال ،بڈکوٹ ،مچھی پورہ اور بدھرکل شامل ہیں،کے مستحق لوگ ہندوارہ پہنچ گئے جہا ں انہوں نے اس بات کو لیکر زور دار احتجاج کیا کہ انہیں پردھان منتری آواس یوجنا کے دائرے میں نہیں لایا گیا اور الزام لگایا کہ انہیں یکسر نظر انداز کیا گیا ۔انہو ںنے الزام لگایا کہ مذکورہ سکیم کو حتمی شکل دینے میں پنچائت کا اہم رول ہوتا ہے تاہم مذکورہ علاقوں کے پنچائت نمائندو ں نے مستحق افراد کو نظر انداز کیا جس کی وجہ سے اس سکیم کا مقصد فوت ہوا ۔مستحق لوگو ں کا مزید کہنا ہے کہ غریب طبقے کو ان کا ذاتی مکان بنانے میں مدد کرنے کے لئے بنائی گئی پردھان منتری آواس یوجنا میں ان کا نام ہی نہیں ہے ۔اس دوران بی جے پی کے ضلع نائب صدر جاوید قریشی بھی مستحق لوگو ں کے حق میں میدان میں آگئے اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پردھان منتری آواس یوجنا میں ہوئی دھاندلیو ں کی تحقیقات کریں ۔انہو ں نے کہا کہ ضلع بھر کے مستحق لوگو ں نے کہا کہ انہیں پردھان منتری آواس یوجنا میں نظر انداز کیا گیاہے جوغٖریب طبقے سے ناانصافی ہے ۔اس حوالہ سے اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ معراج احمد نے بتایا کہ فہرست  تیار کرنے میں مقامی پنچائتوں کا بڑا رول ہوتا ہے اور گرام سبھا کے دوران مستحق افراد کو اس سکیم کے دائرے میں لایا جاتا ہے جس کے بعد اس لسٹ کو محکمہ دیہی ترقی کی وئب سائٹ پر بھی اپلو ڈ کیا جاتا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ جو لوگ اس کے مستحق ہیں اور انہیں نظر انداز کیا گیا ،انہیں چایئے کہ وہ معاملہ متعلقہ بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کی نوٹس میں لائیں اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو وہ میرے دفتر میں آکر میری نو ٹس میں معاملہ لائیں تاک اس کا حل نکالا جائیں ۔انہو ں نے کہا اس سکیم میں کسی بھی مستحق کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا ۔