ہندوارہ میں لڑکیوں کیلئے کالج قائم کرنے کا مطالبہ

ہندوارہ// //سات برس قبل ہندوارہ میں گرلزڈگری کالج کیلئے اراضی کی نشاندہی کرنے کے باوجود قصبہ میں گرلزڈگری کالج کا قیام ابھی ایک خواب ہے۔علاقہ کے لوگوں نے قصبہ میں لڑکیوں کیلئے ڈگری کالج قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوارہ میں گرلزڈگری کالج نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کیلئے ان کا داخلہ لڑکوں کے کالج میں کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہرسال ہندوارہ ڈگری کالج میں چار ہزار طلبہ کوداخلہ دیا جاتا ہے جن میں دوہزار کے قریب طالبات ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بارہویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعدان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی بچیوں کاداخلہ کسی لڑکیوں کے کالج میں کریں لیکن ہندوارہ میں اس کی عدم موجودگی میں وہ لڑکوں کے کالج میں اپنی بچیوں کاداخلہ کراتے ہیں ۔اس حوالہ سے نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی ہندوارہ چودھری محمد رمضان کا کہنا ہے کہ انہو ں نے ہندوارہ میں گرلز ڈگری کالج قائم کرنے کے لئے 2014میں اعلیٰ تعلیم کے ڈائریکٹر کو تحریری طور لکھاتھا جس نے ایک3رکنی کمیٹی تشکیل دی اور اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ہندوارہ میں گرلز ڈگری کالج قائم کرنے کی سفارش کی جس کے بعد محکمہ اعلیٰ تعلیم نے ڈگری کالج کی تعمیر کے لئے زمین طلب کی جس کے بعد انہیں چھوٹی پورہ براری پورہ میں سرکاری اراضی کے3سو کنال اراضی دکھائی گئی جس پر وہ متفق بھی ہوئے لیکن7سال گزر جانے کے باجود بھی ہندوارہ میں گرلز ڈگری کالج قائم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہندوارہ اور اس کے مضافات کی طالبات کو 12جماعت پاس کر کے داخلہ لینے میں مشکلات پیش آتی ہے کیونکہ اکثر و بیشتر طالبات گرلز ڈگری کالج میں ہی داخلہ لینا چاہتی ہیں ۔مقامی لوگو ں نے لیفٹیننٹ گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہندوارہ میں ایک گرلز ڈگری کالج قائم کریں  جو یہا ں کے لوگو ں کی دیرینہ مانگ ہے ۔