ہندوارہ میں تین دہائیوں کے بعد سینما میںپہلی فلم کی نمائش

طارق رحیم

کپوارہ// تین دہائیوں کے وقفے کے بعد ہندوارہ میںسوموار کو میونسپل کمیٹی کے احاطے میں واقع نئے سنیما ہال میں فلم کی نمائش کی گئی۔زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صبح سویرے سنیما ہال پہنچے تھے تاکہ وہ اس لمحے کو زندہ کر سکیں جسے وہ وادی کشمیر میں جنگجوئیت کے آغاز سے پہلے یاد کرتے تھے۔مختلف اسکولوں کے طلباء ، پی آر آئی اور مقامی نوجوانوں سمیت لوگوں نے کئی شوز میں شاہ رخ خان کی فلم ’چک دے انڈیا ‘کی نمائش کا لطف لیا۔قصبے کے ایک بزرگ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’کشمیر میں عسکریت شروع ہونے سے پہلے ہم سینما گھروں میں فلمیں دیکھتے تھے، بعد میں آزادی کے نام پر زیادہ تر سینما گھروں کو شرپسندوں نے جلا دیا تھا۔

ایل جی انتظامیہ نے ہندوارہ میں اتنا اچھا سینما ہال بنا کر ایک اچھا اقدام کیا‘‘۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وادی کشمیر میں 90 کی دہائی کے اوائل میں عسکریت پسندی کے عروج کے بعد سینما گھر بند کر دئے گئے تھے۔فلم کی اسکریننگ سے قبل رنگا رنگ ثقافتی شو کا انعقاد کیا گیا، جس کا انعقاد ضلع انتظامیہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کپوارہ نذیر احمد میر کی نگرانی میں کیا تھا۔ بال آشرم اور ناری نکیتن کے طلباء نے شو پیش کیا جس میں چیئرمین میونسپلٹی ہندوارہ، ضلع انفارمیشن افسر کپوارہ، تحصیلدار ہندوارہ، ڈپٹی سی ای او کپوارہ، ایس ایچ او ہندوارہ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر باغبانی، زراعت، دستکاری، ہینڈلوم اور سماجی بہبود کے محکموں کی جانب سے ضلع کپوارہ کی روایتی دستکاری اور نامیاتی پیداوار کی نمائش کیلئے مختلف اسٹالز لگائے گئے۔قابل ذکر ہے کہ سنیما کم ملٹی پرپز ہال کا افتتاح ایل جی منوج سنہا نے 16 جولائی کو کیا تھاتاکہ لوگوں کو بڑی اسکرین کا تجربہ فراہم کیا جاسکے۔