ہندوارہ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے جنگجوئوں کو خراج عقیدت

سرینگر// حریت (ع) نے بابا گنڈ ہندوارہ میں ایک عسکری معرکے کے دوران جاں بحق کئے گئے دوعسکریت پسندوں اور ایک طالب علم وسیم احمد میر کے جاں بحق ہونے پر انہیں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت ہندوستان کی ظلم و جبر سے عبارت چیرہ دستیوں کا نتیجہ ہے کہ یہاں کی نوجوان نسل عسکریت کے راستے پر گامزن ہے ۔بیان میں عسکریت پسندوں کے ساتھ معرکہ آرائی کی آڑ میں فورسز کی جانب سے رہائشی مکانات کو بارود سے اڑانے اور پر امن مظاہرین کیخلاف طاقت اور تشدد کے بیجا استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر میں تعینات فورسز آئے روز یہاں کے عوام کو اپنے غیض و غضب کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کررہی ہے اور جب یہاں کے عوام  فورسز کی بلا جواز کارروائیوں اور ان کے جارحانہ انداز کیخلاف پر امن احتجاج کرتے ہیں تو ان کے خلاف طاقت اور تشدد کا استعمال کرکے انہیں عذاب و عتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔بیان کے مطابق حکومت ہندوستان نے اپنے بے پناہ فوجی جمائو کے بل پر پورے جموںوکشمیر کو محصور کررکھا ہے اور آئے روز نوجوانوں کی ہلاکتیں ،گرفتاریاںاور مزاحمتی قیادت کی تھانہ وخانہ نظر بندیاںکشمیر میں بھارتی مظالم کے منہ بولتے حقائق ہیںجن کی جانب عالمی برادری کی توجہ اب ناگزیر بن گیا ہے ۔بیان میں صورتحال کو عالمی برادری کیلئے چشم کشا قرار دیا گیا۔پیپلز لیگ کے علیل چیئرمین غلام محمدخان سوپوری نے بابہ گنڈ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے عسکریت پسند اشفاق مجید میر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ ہمارے یہ سرفروش قوم کی آزادی کیلئے اپنے آج کو قربان کررہے ہیں‘۔ انہوں نے فورسز کی جانب سے مظاہرین پر ٹیرگیس شلنگ اور طاقت کے بے تحاشا استعمال کے نتیجے میں درجنوں افراد کو زخمی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ہمارے نوجوانوں کو ہم سے چھینا جارہا ہے اور دوسری طرف لوگوں کو ظلم وجبر کے خلاف احتجاج کرنے کے’جرم‘ میں بربریت اور سفاکیت کا شکار بناکر ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی جارہی ہے۔ اس دوران لیگ کے سینئر رہنما حاجی محمد رمضان اور مشتاق احمد صوفی کی قیادت میں ایک وفد نے براٹھ سوپور جاکر اشفاق مجید کے لواحقین سے ہمدردی و یکجہتی کا اظہارکیا۔اسلامی تنظیم آزادی کے تر جمان رہنماء نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ’ قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ہم حکمرانوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کو پیغام پہنچائیں کہ کشمیری قوم حصول مقصد تک جدوجہد جاری رہے گی۔