ہندستان امریکہ کے مابین دفاعی شعبہ میں اختراع اور تجارت کا راستہ کھلے گا

نئی دہلی// ہندستان اور امریکہ کے خارجہ اور دفاعی وزرا کی 'ٹو پلس ٹو' میٹنگ میں دونوں ممالک کے مابین دفاعی شعبہ میں مشترکہ طورپر اعلی تکنالوجی والے اختراع اور تجارت کا راستہ کھولنے اور ہند بحرالکاہل علاقہ کو شامل کرنے کیلئے محفوظ، پرامن اور سب کے لئے یکساں طورپر کھلا بنانے کے نئے روڈمیپ پر بات چیت ہونے کا امکان ہے ۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو اور دفاعی وزیر جیمس میٹس کے ساتھ امریکی فوجی دستوں کے سربراہان کی کمیٹی کے صدر بھی بدھ کی شام کونئی دہلی پہنچ رہے ہیں اور جمعرات کو ان کی وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر دفاع نرملا سیتا رمن سے ملاقات ہوگی۔ میٹنگ کے بعد یہ لیڈر پریس بیان دیں گے اور شام کو چاروں کی مشترکہ طورپر وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوگی۔ میٹنگ کی تیاریوں سے وابستہ ذرائع کے مطابق ہندستان اور امریکہ عالمی اسٹریٹجک شراکت دار ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر آزادا اور خودمختار ممالک ہیں اور بیشتر امور پر ان کی ایک رائے ہونے کے ساتھ ساتھ کئی معاملات میں مختلف رائے بھی رکھتے ہیں۔ ٹوپلس ٹو میٹنگ میں ہندبحرالکاہل شعبہ، انسداد دہشت گردی کارروائی، توانائی سیکورٹی، اسٹریٹجک شراکت داری پر بات چیت ہونے کی امید ہے ۔ وزیر خارجہ کی دو طرفہ میٹنگ میں امیگریشن کے معاملہ پر بھی بات چیت ہوگی۔ذرائع کے مطابق امریکی وزیر دفاع مسٹر میٹس نے ہندبحرالکاہل خطے کے تعلق سے ایک خاکہ تیار کیا ہے ۔ اس میٹنگ میں اسے سننے کا موقع ملے گا۔ ہندبحرالکاہل خطہ اور ہند۔امریکہ ۔جاپان ۔ آسٹریلیا کے چوطرفہ نظام کے بارے میں ذرائع نے واضح کیا کہ وہ بات چیت کا ایک نظام ہے ۔ ہندستان ہندبحرالکاہل علاقہ کو ہمہ گیر، محفوظ، پرامن اور سب کے لئے یکساں طورپر کھلے علاقہ کے طورپر دیکھنا چاہتا ہے ۔مسٹر پومپیو ہندستان کے بعد اسلام آباد کے دورہ پر جائیں گے ۔ پاکستان کی نئی عمران خان حکومت کے بارے میں ان کا خیال کیا ہے یہ بھی سننے کا موقع ملے گا۔ ذرائع نے کہا کہ انسداد دہشت گردی اقدامات پر بھی بات چیت ہوگی لیکن انہوں نے اس میٹنگ کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا۔ امریکہ نے گزشتہ برس ہندستان کے اہم دفاعی شراکت دار کا درجہ دیا تھا اور اس برس اسٹریٹجک تکنالوجی معاہدے (ایس ٹی اے ) ۔1 کادرجہ دے دیا ہے جس سے دہرے استعمال کی تکنالوجی کو ہندستان بلا روک ٹوک منتقل کرنا ممکن ہوگیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں دفاعی شعبہ میں اختراع اور میک ان انڈیا کے تحت ہندستان میں پیداوار کو فروغ دیا جائے گا ۔ دونوں ممالک کے مابین دفاعی کاروبار اور تکنالوجی کی پہل کو آگے بڑھانے کے تعلق سے بھی بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ اسٹیل اور المونیم وغیرہ اشیا پر ڈیوٹی کا معاملہ بھی تجارتی امور میں شامل رہے گا۔