’ہم کیا چاہتے آزادی ‘قوم کا سلوگن

سرینگر // حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے مسئلہ کشمیر کو ایک زندہ حقیقت قرار دیتے ہوئے حکومت ہند سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ وہ مختلف حیلے، بہانوں اور ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے اوربدنام کرنے سے باز رہے کیونکہ بقول میرواعظ اس قسم کے حربوں سے نہ تو ماضی میں یہاں کے عوام کی مبنی برحق جدوجد کو کمزور کیا جاسکتا ہے اور نہ آئندہ جھوٹ ، مکر، فریب ، مراعات اور مفادات کے ہتھکنڈوں سے ا س تحریک کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔ مرکزی جامع مسجد میں جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ  تحریک آزادی 1931ء سے جاری ہے اور اس کو بدنام کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ یہاں کے عوام کا جو حق اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے وہ ان کو نہیں دیا گیا اور قدم قدم پر یہاں کے عوام کے ساتھ نا انصافی کی گئی ۔ میرواعظ نے کہا ’1947 ء سے ہی کشمیر میں فوجی جمائو پیدا کیا گیا اور کشمیر اب دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جمائو والا علاقہ بن گیا ہے ۔ اور کشمیر کے چپے چپے پر ہزاروں کی تعداد میں فوجی تعینات ہیں‘ ۔ انہوں نے کہا کہ طاقت ،پیلٹ، بندوق ، سبسڈی، ٹھیکے اور اب مدرسوں اور اماموں اور نوجوانوں کے لئے سکیمیں متعارف کی جارہی ہیں اوریہ چانکیائی حربے صرف کشمیریوں کی تحریکی آزادی کو دبانے کے لئے کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار کو اس زعم میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے کہ وہ دھونس، دبائو، طاقت ، پیلٹ یا فوجی دبائو سے تحریک کو کمزور کرسکتا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ اب کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں پیلٹ اور پیلٹ گن لانے کی بات کی جارہی ہے یہاں مسلکی منافرت پھیلا کر تحریک مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ 2016ء کی عوامی تحریک گواہ ہے کہ کس طرح اس تحریک نے پوری قوم کو ایک ہی جھنڈے تلے متحد کیا اور ’ہم کیا چاہتے آزادی‘ پوری قوم کا سلوگن بن گیا۔