ہم پیدائشی افواہ باز ہیں یا حق کے متلاشی؟

بعض دانشوروں نے افواہ بازی کو ’’کمزور کا ہتھیار‘‘ یا ’’غریب آدمی کا بم‘‘ قرار دیا ہے۔ ہمارے کئی احباب اس نظریہ سے متفق بھی نظر آتے ہیں۔ کشمیر میں صدیوں سے افواہ بازی کا باقاعدہ کلچر موجود ہے، خاص طور پر گزشتہ 27سال سے افواہوں نے جس ہیجانی طبعیت کو فروغ دیا ہے، اس کا خمیازہ ہر ذی ہوش شہری گھر سے نکلتے ہی اُٹھا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم لوگ پیدائشی افواہ باز ہیں؟ اُنیسویں صدی کے درمیان میں برٹش حکام نے فریڈرک ڈریو نامی جیالوجسٹ کو کشمیربھیجا تو انہوں نے اس ملک کے حدوداربعہ کا مطالعہ کرکے ’’ارضیاتِ جموں کشمیر‘‘ تصنیف کی۔ اس میں انہوں نے کشمیریوں کی اجتماعی طبعیت اور خصائل کا ذکر کیا ہے۔ 
ڈریو کہتے ہیں: ’’ کشمیری کی زبان پر ہر دم ایک جھوٹ تیار رہتا ہے، یہ لوگ فریب کاری پر قانع ہیں۔ـ‘‘ اس سے قبل آسٹریلیا کے ایک ماہر چارلز وان ہیوگل نے کشمیریوں کے اجتماعی شعور اور سماجی کردار پر پیٹ بھر کے ہرزہ سرائی کی تھی۔ویلیم مورکرافٹ ، جو مغلوں کے ہمراہ کشمیر آئے تھے، نے کشمیریوں کو خود غرض، جھوٹے، توہم پرست اور سازشی قرار دیا۔ 
والٹرلارنس نے انیسویں صدی کے آخری حصے میں بھی یہی سب کہا۔ انہوں نے ایک دکاندار کی مثال پیش کی ہے کہ مہینے کی یکم تاریخ سے آخری تاریخ تک دکاندار کی پگڈنڈی کس طرح کئی فٹ کا سفر سڑک کی طرف طے کرتی ہے۔ تاہم لارنس نے فریڈریک ڈریو کے دعوے کومحتاط لہجے میں تقریباً مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے:’’مظلوم لوگوں میں اعلی اقدار کی تلاش کرنا عبث ہے۔جن لوگوں نے اس قوم کا تجزیہ کیا ہے ان کے دعوے کی بنیاد سرینگر میں رہنے والے کشتی باشوں کے ساتھ معاملات یا ملاقات ہے۔‘‘  بیسویں صدی کے آغاز میں  فرانسیس ینگ ہسبنڈ نے بھی کم و بیش یہی سب کہا تاہم ان کا لہجہ کرخت نہیں تھا : ’’کشمیری صبر کے ساتھ سہتے رہتے ہیں، لڑتے نہیں۔ اور وہ حقیقت کے بارے میں اس قدر محتاط ہیں کہ وہ اس کا استعمال بھی نہیں کرتے۔‘‘
ہمارے یہاں زبانی تاریخ کی جوروایت رائج ہے، اس کے مطابق ’’شالہ تھوکھ‘‘  یعنی ’’لومٹری کی تھوک‘‘ کا استعارہ استعمال کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں افواہ اُڑی کہ سرینگر کے ایک شہری نے لومڑی کو جہلم میں تھوکتے دیکھا، یہ افواہ اس قدر شدید تھی کہ سرینگر کے سبھی سات پلوں پر لوگ لومڑی کی تھوک کا پیچھا کررہے تھے۔ زبان زد عام تھا، کہ تھوک کہاں گئی، جواب دینے والے نے کہا زینہ کدل۔ تب سے افواہ کے خلاف اگر ناراضگی کا اظہار کرنا ہو تو ہم لوگ شالہ تھوک کہتے ہیں۔ گزشتہ27برسوں کے دوران افواہوںنے کیا کچھ کرشمہ سازیاں کیں، ان کا احوال نوائے جہلم کے گزشتہ شمارے میں آچکا ہے۔ لیکن یہاں سوال پھر وہی ہے، کی تخریب کاری، افواہ بازی، شرانگیزی وغیرہ ہماری فطرت میں ودیعت ہے یا پھر سیاسی حالات کا نتیجہ ہے۔ اگر آخرالزکر پر سب کا اتفاق ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر کا مسلہ طول پکڑچکا ہے، حالات راتوں رات بدلنے والے نہیں۔ سیاسی اور سماجی سطح پر ہم ایک طرح سے ایک عارضی قیام گاہ میں ہیں، جہاں یہ سوچ کر قیام طویل ہے، ہمیں ہر طرح سے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ 
خواتین کی چوٹیوں پر قینچی چلانے والے غیبی ہاتھوں کو کسی نے نہیں دیکھا، لیکن حد ہے کہ شالہ تھوک اب زینہ کدل سے فیس بک اور وٹس اپ تک پہنچ گئی ہے۔ افواہ بازی اور اجتماعی ہیجان پردازی سے کسی کا بھلا نہیں ہوتا۔ نوجوان جوق در جوق بستیوںمیں جمع ہوکر ’’بریڈ چاپنگ ‘‘ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں، سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں، نجی گاڑیوں میں سفر کرنے والے اپنے ہی کشمیری بھائیوں پر پتھر پھینکتے ہیں اور بس۔ ردعمل کے اس طریقہ کار میں علحدگی پسند برابر کے شریک ہیں۔ حریت رہنما مظاہروں کی کال دیتے ہوئے آخری جملے میں نظم و ضبط کی فہمائش کرکے تو بچ نکلتے ہیں، لیکن کشمیریوں کی عالمی سطح پر کردار کشی ہورہی ہے۔ گزشتہ صدی یا اس سے پہلے والی صدی کے دوران اگر انگریزوں کے دانشور یہاں آکر قوم کا رپورٹ کارڑ لکھتے تھے، آج بھارتی دانشور غمخواری کے نام پر مزاحمت کی مٹی پلید کررہے ہیں۔ 
عجیب بات ہے کہ حکومت سے آج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ اگر ’’بریڈ چاپر‘‘ کے خلاف 6 لاکھ روپے کے نقد انعام کا اعلان کیا گیا، تو دوسری طرف ڈاکٹروں کی ٹیم بنا کر اس وبا کو ایک نفسیاتی بیماری کیوں ٹھہرایا جارہا ہے؟ اگر واقعی جون سے لے کر اب تک بھارت کی متعدد ریاستوں کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی 4000 خواتین نے خود ہی اپنے بال نیند میں کاٹے ہیں، تو حکومت ہند نے آج تک کچھ کیوںنہیں کیا؟ ریاستی وزیراعلی خاتون ہوتے ہوئے بھی چپ کیوں ہیں؟ نیشنل کانفرنس جلے پہ تیل کا کام کیوں کررہی ہے، اور حریت کانفرنس بھی اسی آگ میں اپنی سیاست کی سوختہ رگوں کو کیوں تپا رہی ہے۔ 
سماج یا قوم منجملہ افواہ باز یا شرانگیز نہیں ہوتے۔ انہیں ایسا بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ 1857میں انگریزوں نے کارتوزوں پر گائے اور خنزیر کی چربی کا شوشہ باقاعدہ پالیسی کے تحت چھوڑا تھا۔ افواہیں صرف لوگ نہیں پھیلاتے، حکومتوں کا اس میں کردار ہوتا ہے، لوگ تو مہرے ہیں، انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ کشمیر فی الوقت نہایت حساس موڑ پر ہے۔ ایک طرف آر ایس ایس کشمیریوں کو ان کی آرزؤں سمیت ٹھکانے لگانے کی سوچ رہی ہے، اور دوسری طرف یہاں کے سیاسی اور مذہبی قائدین سطحی سوچ کا مظاہرہ کرکے قوم کو مزید سیاسی یتیمی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ کشمیری صدیوں سے حق کے متلاشی رہے ہیں، اسی لئے سرکاری سچ کو ماننے میں ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ نوجوان ، بڑے بوڑھے، خواتین اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر دن رات قوم کے غم میں رونے والوں سے گزارش ہے کہ تلاش حق کے لئے صدیوں سے جانی جارہی اس قوم پر افواہ باز اور شرانگیزاور ہیجان پرور قوم کا ٹھپہ نہ لگنے دیں۔یاد رکھیں افواہ کمزور یا غریب کا ہتھیارنہیں، بلکہ یہ وہ ہتھیار ہے جس سے کمزور اور غریب کو دبایا جاتا ہے، اور بالادست کو تب زیادہ لذت ملتی ہے جب غریب خود یہ بم اپنے اوپر گرا دے۔
 بشکریہ ہفت روزہ نوائے جہلم
