ہم خیال نہیں اصول پرست ہونا لازمی، بات چیت کیلئے تیار

 نوجوان ’ترقی‘ کا راستہ اختیار کریں،’تباہی‘ کا نہیں

 
سرینگر// مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے جموں وکشمیر اور پاکستان میں تمام لوگوں سے بات کرنے کیلئے تیار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم خیال ہونے کی ضرورت نہیں تاہم اصول پرست ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو کشمیری نوجوانوںکے مستقبل کی فکر ہے۔  جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ غور و فکر اور وادی کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ جمعرات کوریاست کے 2روزہ دورہ پر پہنچ گئے جس کے بعد انہوں نے سرینگر کے شیر کشمیر انڈور اسٹیڈیم میں اسپورٹس کنکلیو میں سینکڑوں کھلاڑیوں سے خطاب کرنے کے علاوہ ایس کے آئی سی سی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار پاکستان  اور جموںو کشمیر میں ہر ایک سے بات کرنے کیلئے تیار ہے،تاہم پاکستان کو اس کی زمین سے’’دہشت گردی‘‘ کی سرگرمیوں کو بند کرنا چاہیے۔انہوں نے بتایاکہ اگر پاکستان اپنی سر زمین سے دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم کرنے کا اہل نہیں ہے،تو وہ بھارت کی مدد حاصل کرسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام فریقین کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کیلئے مرکزی نمائندے کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی نمائندہ کشمیر میں خوبصورت نظاروں کو دیکھنے کیلئے نہیں آرہے ہیں،بلکہ انہوں نے11مرتبہ کشمیر کا دورہ کیا۔ وزیر داخلہ نے سہ پہر کو ایس کے آئی سی سی میں بھی ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد کے سامنے خطاب کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وادی میں امن کی بحالی کو یقینی بنانے کی غرض سے مرکزی سرکار تمام لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے علیحدگی پسندوں سے سوالیہ انداز میں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر فکر مند رہتے ہیں جبکہ غریب والدین کے بچوں کے ہاتھوں میں پتھر تھماکر وادی میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ یہ کون سا وطیرہ ہے کہ اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہو اور غریب بچوں کو مرنے اور مارنے پر اکسایا جارہا ہو‘‘۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وادی کے نوجوانوں میں کوٹ کوٹ کر ٹیلنٹ چھپا ہوا ہے اسی لیے تو اب ریاست کے نوجوان آئی اے ایس اور آئی آئی ایم جیسے امتحانات میں نمایاں کارکردگی انجام دے رہے ہیں۔ علیحدگی پسندوں پر چوٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسند کسی بھی طرح کی سیاست کھیل سکتے ہیںلیکن انہیں ریاستی نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا کوئی حق نہیں ہے کیوں کہ یہ بچے ریاست اور بھارت کے ہیں۔ انہوں نے کہا بچے ہمارا سرمایہ ہیں اور اس لیے ہم نے سنگ باری میں ملوث بچوں کے کیسوں کو واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کشمیری نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ’تباہی‘ اور ’ترقی‘ میں سے صرف ’ترقی‘ کا راستہ پکڑیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیری نوجوان ’ترقی‘ کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو انہیں دنیا کی کوئی طاقت آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کی ترقی میں ہی پورے ہندوستان کی ترقی کا راز مضمر ہے۔وزیر داخلہ نے پتھربازی کے واقعات میں ملوث نوجوانوں کے کیس واپس لینے پر کہا کہ یہ فیصلہ یہ سوچ سمجھ کر لیا گیا کہ ’بچے تو بچے ہوتے ہیں‘، بچوں کو کوئی بھی گمراہ کرسکتا ہے، لیکن ہم حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں، اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے پتھر بازی میں ملوث بچے جو گمراہ ہوئے تھے اور جنہوں نے جانے انجانے میں غلطی کی تھی، کے کیسز کو ہم نے واپس لیا‘۔ انہوں نے کہا ’معصومیت میں بچوں سے بچگانی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں۔ اس لئے حکومت ہندوستان نے یہ (کیس واپس لینے کا) فیصلہ کیا۔ ہماری حکومت چاہتی ہے کہ جموں وکشمیر کے بچوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جائیں۔ اس کے لئے حکومت ہندوستان نے کئی ایک سکیمیں شروع کی ہیں‘۔ راجناتھ سنگھ نے سری نگر میں ایک بار پتھراؤ کرنے والی فٹ بالر افشان عاشق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ا سپورٹس نے اس کی زندگی بدل دی ہے۔ انہوں نے کہا ’جب میں دہلی میں تھا تو کشمیر کی وومن فٹ بال کی قیادت کرنے والی افشان عاشق مجھ سے ملی۔ وہ جموں وکشمیر کے لئے ایک جانا پہنچانا نام ہے۔ اس نے مجھے بتایاکہ اس نے کبھی پتھراؤ کیا تھا۔ لیکن سپورٹس کی دنیا میں آکر میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ میری زندگی بدل گئی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ جموں وکشمیر میں مزید سپورٹس انفراسٹرکچر بننا چاہیے۔ میں نے اس بیٹی کو یقین دلایا تھا کہ ہم جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ سے مل کر ریاست میں سپورٹس کے ڈھانچے کو تعمیر کرنے کے لئے جتنی ممکن ہوسکے گی، اتنی مدد ریاستی حکومت کو فراہم کریں گے‘۔  انہوں نے کہا ’میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں جموں وکشمیر میں امن وامان قائم کرنے کے لئے اور ریاست کی ترقی کے لئے جتنی بھی رقومات درکار ہوں گی، ساری ضرورتوں کو پورا کیا جائے گا‘۔ راجناتھ نے کہا کہ سپورٹس اور تعلیم کشمیری نوجوانوں کی زندگیاں سنوار سکتی ہیں۔