ہم بھی تو آدمی تھے کام کے۔۔۔ !

شخصیت تربیت کا دوسرا نام ہے۔ اگر کسی بچے کی تعلیم و تربیت صحیح نہج پر ہوتی ہے، تو وہ ایک کامیاب انسان بن کر زندگی کے میدانِ عمل میں سامنے آتا ہے اور کسی وجہ سے اگر تعلیم و تربیت بہتر ڈھنگ سے نہیں ہو پاتی ہے تو وہ سماج اور معاشرے میں کوئی اہم رول  ادا کرنے کے لائق نہیں رہتا۔بچپن سے لیکر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے تک بچہ مسلسل زندگی کے ارتقائی منزل پر ہوتا ہے، جہاں ہر لمحہ اُسے بہتر اور لائق اُستاد کی ضرورت ہوتی ہے جو اُسے زندگی کےرموز اسرار کو صحیح ڈھنگ سے سمجھا سکے۔ وہ اُستاد چاہے اس کے والدین کی شکل میں ہوں یا معلم کی شکل میں، جو پوری توجہ کے ساتھ اس کی کار کردگی پر گہری نگاہ رکھے اور قدم قدم پر اس کی رہنمائی کرے، ورنہ آج کی اس دنیا میں ذرا سی لا پر واہی بھی اُس کی شخصیت کو مجرو ح کر دے گی ۔
اکثر مشا ہدے میں یہ آتا ہے کہ ایک ایسا نوجوان جو زندگی میں کچھ کر سکتا تھا اور جس سے اس کے والدین اور رشتہ داروں کو کافی ساری اُمید یں وابستہ تھیں ،وہ نا کامیاب ہو جاتا ہے اور زندگی کی کشمکش میں ناکامی اُس کا مقدّر بن جاتی ہے۔لوگ غور کرتے کرتے تھک جاتے ہیں کہ ایسا کیسے ہو گیا۔بظاہر وہ اسکول اور کالج میں بھی جاتا تھا ،سیر و تفریح سے بھی دور رہتا تھا، اکثر کتابوں میں ہی کھویا ہوا نظر آتا تھا، بہت زیادہ باتونی بھی نہیں تھا، اِدھر اُدھر گھومنے پھرنے سے بھی اجتناب کرتا تھا، تو آخر اس کا پرفار منس اسکول اور کالج میں بہتر کیوں نہیں ہوتا اور پھر یہ معاملہ صرف تعلیم کے میدان میں ہی نہیں ہوتا بلکہ دھیرے دھیرے وہ زندگی کے سبھی میدانوں میں پیچھے نظر آنے لگا ہے ۔چند روز پہلے جس کے اساتذہ،والدین اور رشتہ دار جس کی کامیابی یقینی سمجھتے تھے ،اچا نک یہ کیسے بدل گیا اور کیوں اس کی کار کردگی متاثر ہو نےلگی اور جوش و جذبہ سرد پڑنے لگا ۔
آخر ایسی کیا بات ہو گئی جس سے اسکی شخصیت یکسربدل کر رہ گئ۔ ذرا سی غور و فکر کرنے پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس نوجوان میں اچا نک منفی تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ وہ وجہ ہے مرضِ عشق۔۔۔۔جی ہاں! اس میں ا چا نک منفی تبدیلی کا سبب یہی مرضِ عشق ہے۔
یوں تو عشق ایک خوشگوار احساس کا نام ہے۔جو جینے کا حوصلہ دیتا ہے مگر یہی عشق کبھی کبھی انسانوں کو محرومیوں اور نا کامیوں کے دلدل میں بھی ڈال دیتا ہے، جہاں پھنس کر انسان اپنی شخصیت کو برباد کر لیتا ہے اور اس کی وجہ بغیر غور و فکر کئے اِس وادی میں کود پڑنا، جہاں انسان کو محرو می کے علاوہ کچھ بھی میسّر نہیں ہوتا ہے ۔یہ عشق ہی ہے جس نے سر سےتاج اُتر وائے۔بادشاہوں کی حکومتیں چھین لیں،اسی مرضِ عشق نے بڑے بڑے سورماؤں کو نہ صرف نکمّا بنا دیا بلکہ ذلیل ورسوا کر کے چھوڑا،اور اسی مرضِ عشق کے سبب کیسی کیسی ذہین ہستیاں بر باد ہو کر رہ گئیں ۔
یہ مرض خواص کر دورِ شباب کا انتہائی موذی مرض ہے۔ اگرخدا نخواستہ کوئی اس مرض میں مبتلا ہو گیا تو تعمیر شخصیت کا کوئی فلسفہ اور شخصیت کے ارتقاءکا کوئی بھی فارمولہ کار گر ثابت نہیں ہو سکتا ۔لیکن یہی عشق اگر صحیح رخ پر ہو، تو انسان اپنے حدف کو پانے کیلئے جی جان لگا دیتا ہے اور جنون کی حد تک اپنے مقصد کو پانے کے لئے کوشاں رہتا ہے اور آ خر کار زندگی کی جد و جہد میں آگے بڑھتا ہوا اپنے کامیابی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔اسی لئے عشق کے میدان کا فلسفہ یہ ہے کہ یہ انسان کے شعور پر منحصر کرتا ہے ۔جسکا شعور جتنا پختہ ہوتا ہے ،اس کا حدف بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔کسی کا شعور اُسے اس بات کے لئے آمادہ کرتا ہے کہ پورے عالم ِ انسانیت کے لئے عشق اس کے دل میں جا گز یںہوتا ہے اور جب انسان انسانیت سے عشق کرتا ہے تو پھر وہ ہر انسان کے غم اور خوشی میں برابر کا شریک ہوتا ہے کیونکہ عشق کا اصول یہ ہے کہ انسان جس چیز سے بھی عشق کرتا ہے ،اس کی تکلیف اُسے اپنی تکلیف سےزیادہ محسوس ہوتی ہے، پھر وہ اس کے سد باب کیلئے تڑپ اٹھتا ہے ۔اسی طرح کسی کو اپنے ہم وطنو ں سے عشق ہوتا ہے ،کسی کو اپنے مذہب سے عشق ہوتا ہے،کسی کو اپنے برا دری سے عشق ہوتا ہے تو کسی کو اپنے خاندان سے عشق ہوتا ہے، کسی کو اپنے ماں باپ اور اولاد سے عشق ہوتا ہے،کسی کو مال و دولت سے عشق ہوتا ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایک مرد یا عورت کے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اُن کی دیوانگی کا عالَم یہ ہوتا ہے کہ پھر اس کو پانے کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں ،جو عشق کا نہایت ہی معمو لی درجہ ہے اور پھر کسی ایک فرد کیلئے وہ بڑے سے بڑے حدف کو چھوڑ دیتا ہے اور کبھی کبھی اس میں نا کامیابی کی وجہ کر اپنی زندگی کے مقصد کو بھی بھول جاتا ہے۔کسی بھی معاشرہ میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اگر یہ صحیح رُخ پر گامزن ہونگے تو معاشرہ ترقی کی راہ پر چل پڑے گا ۔اور اگر نوجوان نسل کی راہ اور حدف معمولی ہوگا تو معاشرہ بھی ترقی نہیں کر سکتا۔کیوں کہ آگے بڑھنے کیلئے مسلسل جد و جہد اور سخت محنت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے مگر جب ایک نوجوان مرضِ عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کے دل و دماغ پر اس کا غیر معمولی اثر پڑتا ہے، پھر اس کی دنیا اس کے معشوق کے گرد ہی گھومتی نظر آتی ہے ،پھر وہ طالب علم جو معاشرے کی ترقی میں ایک اہم رول ادا کر سکتا تھا، وہ مجنوں کے صف میں کھڑا نظر آتا ہے اور پھر ایک نا کامیاب زندگی کی علامت بن کر رہ جاتا ہے۔ اس مرض کے سبب صرف اس ایک طالب علم کی کار کردگی متاثر اس کے ارادے مضمحل اور جذبے سرد نہیں پڑ تے بلکہ دیکھاجائے تو آج طلباءو نوجوان کی اکثریت اس فتنہ میں گرفتار نظر آتے ہیں ۔اس مرض میں بلا شبہ لاکھوں نوجوان کی نیند چرا لی ہیں اور انہیں تارے گننے،سرد آہیں بھر نے اور کروٹیں بدلنے کے کرب میں مبتلا کر رکھا ہے ۔اس مرض میں مبتلا طالب علم یوں تو نوٹ بک،کتابوں اور قلم کے درمیان نظر آتا ہے مگر در حقیقت وہ کسی اور ہی دنیا میں کھویا ہوا ہوتا ہے۔ اُس کے ذہن و دل و دماغ پر اپنے معشوق کی تصویر اور اس کی یادیں ڈیرہ جمائے رہتی ہیں، اس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ نہ طالب علم کی تحریر درست ہوگی ،نہ اس کی یادا شت اس کا ساتھ دیگی اور نہ اس کی ذہنی صلاحیت اپنے اصل کار کر دگی کو پیش کر پائےگی ،پھر آہستہ آہستہ زندگی کے تمام میدانوں میں اس کی دلچسپی کم ہونے لگے گی اور وہ ایک الگ تصورات کی دنیا میں کھو جاتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دورِ شباب میں یہ فطری عمل ہے، اس کے اندر ابھرنے والی خواہشیں،امنگیں،آرزو یں بھی فطری عمل ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی میں اس کا اہم رول ہے۔ صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فطری تقاضے کو صحیح رُخ دیا جائے۔ دوسری طرف جوانی کے اس دور میں جہاں سرور و مستی موجیں مارتی ہیں، وہیں چٹان جیسا مضبوط عزم بے پناہ قوت اور طوفان سے لڑ جانے کا حوصلہ بھی اس دور میں انسان کو حاصل ہوتے ہیں، جن کے سبب ستاروں پر کمند ڈالنے کی ہمّت انسان کر بیٹھتا ہے اور کامیاب بھی ہوتا ہے۔
اس لئے ضروری یہ ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کی صحیح تعلیم وتربیت کا انتظام کر یں انہیں تعلیم کے دور میں زندگی کو پاکیزگی کے ساتھ گزارنے کا ہنر بتائیں اور ان کے ذہن و دل و دماغ کے اندر مثبت سوچ پیدا کریں اور ان کو زندگی کے اعلی حد ف کی طرف راغب کرنے کی کوشش کریں، ورنہ شخصیت کے ار تقاء کا سب سے بڑا دشمن یہ مرض نوجوانوں کی صلاحیتوں اور خوشیوں کو دیمک کی طرح چاٹ کھاتا ہےاور پھر ناکامی مقدّر بن جاتی ہے۔
عشق نے غالب نکمّا کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے