ہم بدلیں تو دنیا بدلتے دیر نہیں لگے گی

 5جنوری 2021 کا کشمیرعظمیٰ کا ادا ریہ ماشاء اللہ نہایت ہی فکر انگیز تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ علم کے اس قدر فروغ اور عام ہو جانے کے باوجود یہ ذی شعور انسان ، حقائق سے چشم پوشی کر کے اندھوںکی طرح کیوں زندگی جی رہا ہے۔ اب تو یہ زندگی جنگلوں پہاڑوں میں حیوانوں اور درندوں کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ انسانی سماج میں۔اور ایک ایسے سماج میں ہے جو اپنے ہزاروں لاکھوں برسوں کے ایک طویل سفر میں سب زمانوں سے زیادہ ترقی یافتہ سماج ہے۔ کئی براعظموں میں منقسم یہ دنیا اب ایک گھرانہ بن چکی ہے۔لیکن افسوس کہ اس دنیا کی رنگینیوں میں کھویا ہوا انسان اپنے انسان پن کو ایسا بھولاکہ اسے ، ایک گھر میں رہنے کا سلیقہ تک نہیں آیا۔ لیکن یہی انسان جس کے موجودہ رویہ پر شیطان بھی شرما جائے۔ اپنے مفاد کی خاطر اس دنیا کو گلوبل ولیج بنا کر اپنی چند روزہ دنیا کو سنوار نے کی فکر میں سرگرداں ہے۔
دنیا میں وہ انسانی گروہ بھی اس وقت اسقدر دنیا پرستی کا شکار ہے جو اس دنیا کی حقیقت سے واقف ہے۔خوب جانتا ہے کہ یہ ایک قید خانہ کی طرح ہے۔ جہاں سے نکل کر اپنے اصلی مستقر پر جانے کے لیے ہی ہر قیدی تڑپتا ہے ، کوئی ایسا انوکھا اور نمونے کا قیدی کسی نے نہ دیکھا ہوگا۔جسے قید کی زندگی اتنی بھلی لگی ہو کہ وہ اب وہاں سے نکلنا ہی نہ چاہتا ہو۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ یہ زندگی کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشہ نہیںکہ یہاں کچھ رنگ رنگ رلیاں مناؤ ،کھیلو کودو، خوب عیش کرو، موج مستی میں دن گذارو۔ بابر بہ عیش کوش کے عالم دوبارہ نیست کے نظریہ کے تحت چندہ روزہ جی کر مر جاؤ کہ معاملہ صاف۔ ایسا ہوتا تو واقعی پھر اس زندگی میں نہ اخلا قیات کی ضرورت ہوتی اور نہ دینی بحث ومباحثہ کے لیے کوئی گنجائش ہوتی۔ تب یہ جو کچھ آج چل رہا ہے اس سے بھی بڑے جنگل راج کی گنجائش نکل سکتی تھی مگر ہم جانتے ہیں اس دنیا کی حقیقت کو۔ اپنے وجود کی اصلیت کو۔ اس کائنات کی تخلیقیت کو اور اسکے خالقیت کے راز اور منشا و مقصد کو بھی ہم جانتے ہیں۔
 بس اسی جانتے بوجھتے انجان بن جانے کے نتیجہ میں آج یہ دنیا انسانوں کے لیے عذاب بن گئی ہے۔اس گروہ انسان کی موجودگی میں ،جسے اس انسانی سمندر میں اللہ رب العالمین نے محض اپنے رسولؐ کے مشن کا امین بنا کر بھیجا ہے۔ اسی کی غفلت کا نتیجہ ہے کہ اس انسانی سمندر میں آگ لگی ہے۔ یہ آگ بجھائی بھی جا سکتی ہے۔ اس جنگل راج کو ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس انسانی سماج کی درندگی کو نمٹایا بھی جا سکتا ہے۔ اس دنیا کو امن کا گہوارہ بھی بنا یا جاسکتا ہے۔عدل وانصاف اور حقوق انسانی  کا پاس ولحاظ قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ گلوبل ولیج ایک پرامن شہر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ صرف خواب و خیال کی باتیں نہیں۔ اس کی تعبیر زمانہ دیکھ چکا ہے۔بس اس گروہ عظیم کو ، جس کو خالق کائنات نے اپنی اس پوری کائنات کاشاہکار بنا یا ہے، اپنے فرض منصبی کو سمجھنا ہے اور اس پر پوری دیانتداری کے ساتھ کاربند ہوجانا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک چوراہے پر کھڑا ٹریفک کنٹرول پولس اپنی ڈیوٹی پر ہے اور ٹریفک کو کنٹرول کر رہا ہے تو نہایت سکوں کے ساتھ اور بغیر حادثے اور کسی نقصان کے لوگ اپنے سفر کو جاری رکھیں گے اور منزل پر پہنچ سکیں گے۔ ورنہ وہ پولس اپنے فرائض کو انجام نہ دے ،بس میں غفلت اور کاہلی دکھائے تو اس کی اس کمزوری کا عذاب سب پر نازل ہوگااور چوراہے پر ہونے والے حادثات کو روکنا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔ ہاں اگر چوراہے پر تعینات پولس اپنی ڈیوٹی پر لوٹ آیے ،اپنی کوتاہیوں سے باز آجائے اور فرائض منصبی کو انجام دینے لگ جائے توپھر حادثات سے اور نقصانات سے بچا اور بچایا جا سکتا ہے۔ چوراہے پر قیام امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
بس یہ چوراہا آپ کا اپنا شہر ،آپکی ریاست اور آپ کا ملک اور یہ دنیا ہے۔ اور یہ پولس تمام بنی نوع انسان کے لیے بہترین گروہ ہے جسے اللہ نے برپا کیا  ہے کہ وہ لوگوں کو اچھائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔ غلط راہ چلنے والوں کو قانونی طور پر روکنے کا پاور جن کو دیا ہے،اُس مقام پر اس گروہ کو رکھا ہے اور سیدھی راہ چلنے کی صرف درخواست نہیں بلکہ حکم دینے کے مرتبے اور مقام پر فائز کیا ہے۔ 
 اور وہ کائینات کا ملک جو ذمہ داری دیتا ہے تو اس کا حساب بھی لیتا ہے اور جب اس عارضی زندگی کے بعد حیات ابدی یعنی اصل زندگی شروع ہو گی۔تب اپنے فرائض منصبی کو ادا کرنے والوں کو انعام اور کوتاہی برتنے والوں کو سزا بھی دیگا۔
 اب ذرا سوچئے کہ اس سر زمین پر اللہ کا متعین کردہ وہ انسانوں کا خیر خواہ گروہ کونسا ہے۔ دنیا میں کن سے توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ امن وامان عدل وانصاف کے ضامن ہونگے اور دنیا کو خوشیوں کا گہوارہ بنادیں گے۔ وہ گروہ سوائے رب کے فرمانبردار لوگوں کے کیا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے ؟۔ اب رب کے نام لیواؤں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہتے کہ رب کی فرمانبرداری میں دن گزر رہے ہیں کہ شیطان کے چیلوں کی قیادت میں چل رہے ہیں۔
 بس یہی خود احتسابی اور اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی ہی آج انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ہم اگر جاگیںاور اپنی بگڑی ہوئی روش سے باز آجائیںاور اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار ہوجائیں تو ہمارے بدلتے ہی دنیا بدلنے لگے گی۔ورنہ ہم جو ڈوبیں گے تو سب کو لے کر ڈوبیں گے اور سب کا گناہ بھی ہمارے سر ہوگا۔ ان حالات میں کسی اور سے کیا شکایت کریں ،قصور تو اپنا ہی نظر آرہا ہے۔ 
ای میل۔[email protected]