’ہمیں کشمیریوں کے دل جیتنے ہوں گے‘

ممبئی//کشمیرکے پلوامہ میں ہوئے حملہ میں سی آر پی ایف کے تقریباً41 جوانوں کی موت پربطوراحتجاج سٹی زن اگینسٹ ٹرراور شہر کی لگ بھگ دودرجن سے زائد تنظیموں ایک تعزیتی جلسہ میں اس حملہ کی اتفاق رائے سے سخت الفاظ میں مذمت کی گئی،اور حکومت سے مطالبہ کیا گیاہے کہ ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے جبکہ خطہ میں امن کیلئے بھی کوشش جاری رکھی جائے جبکہ کشمیریو ں کے دل جیتنے کیلئے بھی کوشش جاری رہنا چاہئے ۔اس موقع پرمراٹھی فلم اداکارہ مونا امبیکر نے کہا کہ وہ بھی ایک فوجی کی بیٹی ہیں اور اس دہشت گردانہ حملہ میں ہونے والے جانی نقصان سے افسردہ ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ہمیں دوسرے پہلوؤں پر بھی توجہ دینا چاہئے اور کشمیراورکشمیریوں کے حالات کا بھی خیال رکھنا ہوگاتاکہ ان کی زندگیاں بہترہوسکیں۔سابق ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور سنیئرآئی پی ایس جولیوربیرواور ایڈمرل ایل رام داس (سبکدوش) نے پلوامہ حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کے مسائل پر بھی توجہ دینے کی بات کہی ہے ۔جولیوربیرونے اپنے بیان میں کہا کہ پلوامہ حملہ میں 41سی آرپی ایف جوانوں کی ہلاکت کے بعد ملک میں قوم پرستی اور قومی ہم آہنگی کے بہترین نظارے دیکھے گئے جب ہزاروں لاکھوں ہندوستانیوں ،جن میں خواص اور عام سبھی شامل رہے ،ان ہلاکتوں پر بڑے پیمانے پر جلسہ جلوس نکال کراحتجاج پیش کیا ۔اور ان جوانوں کے اہل خانہ سے اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جنہیں ایک فدائین نے لقمہ اجل بنا دیا اور تشدد کی انتہا کہی جاسکتی ہے ۔سابق آئی پی ایس افسر نے کہا کہ وہ سی آرپی ایف کے ایک سابق سربراہ کی حیثیت سے ان جوانوں کے عزیز واقارب سے گہری ہمدردی رکھتے ہیں اوران کے غم میں برابرکے شریک ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ہی ان سے گزارش ہے کہ ایسے قتل عام اور گھناونے عمل کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات کریں ،ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ جس نوجوان نے دوسرے کو مارنے کے لیے اپنی جان دے دی،اس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے نہیں بلکہ اس کا تعلق وادی کشمیر سے ہی تھا وہ ایک ہندوستانی ہی تھا ،جسکے بارے میں ہمیں پتہ لگانے کی کوشش کرنا چاہئے کہ وہ کیا اسباب اور وجوہات رہے کہ اس نے دوسروں کو مارنے کے لیے اپنی جان بھی قربان کردی ۔انہوں نے آئرلینڈ میں اپنے حقوق کے لیے کئی صدیوں تک جاری رہے ،اور برطانوی تاج کے خلاف جاری تشدد کو دوصدی کے بعد ترک کردیاہے جبکہ اندرونی ملک پنجاب میں تشدد کا صفایا کیاگیا جب سکھ جاٹ کسان دہشت گردوں کے مقابلہ پر اٹھ کھڑے ہوئے اورانہیں پولیس کے حوالے کرنا شروع کردیا ،ہمیں ان کے تجربات سے سکھنا ہوگا ،ہمیں اس فرقہ کا دل اور دماغ جیتنا ہوگا ،جس سے دہشت گرد تعلق رکھتے ہیں۔اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مزدوررہنماء وویک مونٹیرونے عین انتخابات سے قبل ہونے والے حملہ پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ہمیں یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہئے کہ آخر جیش اور انتہاپسند تنظیمیں کیا چاہتی ہیں ،اس کے ساتھ ہی ہمیں کشمیریوں پر حملوں کی بھی ہونے والے حملوں کی مذمت کرنا ہوگا۔مولانا ظہیر عباس رضوی نے واضح طورپر کہا کہ اس موقع پر ہمیں ملک کی ہم آہنگی اور یکسانیت کو برقرار رکھنے کے لیے کوشش کرنا ہے اور ملک میں امن وبھائی چارہ برقراررکھنا ہوگا ،سیّد اطہر علی نے کہا کہ اس بات کا پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ اتنی حفاظت کے باوجوداتنا بڑاحادثہ کیسے ظہور پذیر ہوا ،جبکہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ ہمیں ملک کو فرقہ پرست طاقتوں سے محفوظ رکھنا ہے ۔اس موقع پرسابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل ایل رام داس (سبکدوش)نے اپنے پیغام میں کہا کہ پلوامہ دہشت گردانہ حملہ قابل مذمت ہے ،لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں ایک ٹھوس تحقیقات کرانی چاہئے کہ تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ ہماری کمزوری کیا تھی اور کیا اسباب رہے کہ ہم اس طرح کے حملہ کو روکنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر غورکیا جائے تو اس کا احساس ہوگا کہ اس سانحہ کا اثر ملک کے تمام شہریوں کے مستقبل پر پڑے گا جوکہ الگ الگ مذاہب ،فرقوں اورطبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔اورہماری کوشش ہونا چاہئے اور خصوصی طورپر ذرائع ابلاغ اور سیاستدانوں کو ایسے واقعات کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے ۔اس کی وجہ سے ہمارے جمہوری اورسیکولر اصول کمزورپڑیں گے ۔ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی یکساں ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے دستورہند کا وقار بلند اور اس کا احترام رکھے ۔انہوں نے کہاکہ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ملک نیوکلیئر طاقت ہیں اور اگر جنگ جیس صورتحال پیدا ہوگئی تو حالات مزیدخراب ہوجائیں گے ۔امن کے لیے ہونے والی کوشش کی ہمیں تائید وحمایت کرنا چاہئے ۔مذکورہ تعزیتی جلسہ کے ابتداء میں سی جے پی کے سربراہ جاویدآنند نے جلسہ کے مقاصد کے بارے میں تفصیل پیش کی ،کے سی کالج کا ہال اس موقع پر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔اس جلسہ سے اداکارجاوید جعفری نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ملک میں امن وامان ہم سب کی ذمہ داری ہے ،جلسہ سے جسٹس تھپسے ،کمانڈرکلاوت ،صحافی نکھل واگلے ،جاوید آنند اور تستا ستلوادنے بھی خطاب کیا اور انہوں نے نظامت کرتے ہوئے اس حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اس کی ٹائمنگ پر بھی سوال کھڑے کیے ہیں۔یو این آئی