ہمیں مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے،ہومو پیتھک ڈاکٹروں کا حکومت پر الزام

سرینگر// ہومو پیتھک ڈاکٹروں نے انکے ساتھ نا انصافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں صرف یونانی ڈاکٹروں کو سرکاری اسکیموں کے تحت تعینات کیا جاتا ہے۔ایوان صحافت کشمیر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بے روزگار ہوموپیتھک ڈاکٹروں کے نمائندوں ڈاکٹر میر عابد اور ڈاکٹر عرفان گل نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے جموں کشمیر میں قومی آیوش مشن، آیوشمان بھارت اور این ایچ ایم کے تحت صرف یونانی طرز کے ڈاکٹروں کو تعینات کیا جاتا ہے اور ہومو پیتھک ڈاکٹروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ10برسوں سے وہ انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ہومو پیتھک گریجویٹوں کیلئے اسامیوں کو معرض و وجود میں لایا جائے تاہم زمینی سطح پر کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ان ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر میں یونانی اور آیورویدک نظام جیسے ڈاکٹروں کا ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کیلئے کوئی بھی سہولیات نہیں ہے،جس کے نتیجے میں دن بہ دن ہومو پیتھک بے روزگار ڈاکٹروں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیوش کے تحت متبادل طب کے تحت ہومو پیتھک بھی شامل ہے اور محکمہ کو چاہئے کہ ٓایوش کے تحت تسلیم شدہ تمام متبادل طریقہ علاج کو ایک ہی آنکھ سے دیکھے۔ ڈاکٹر عرفان اور ڈاکٹر عابد کا کہنا تھا کہ ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کی عمر نوکری کے حصول کیلئے مقرر کی گئی عمر کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے اور ابھی تک انکے مسائل کا ازالہ نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ ذہنی کوفت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کو کیمونٹی ہیلتھ سینٹروں میں تعینات کیا جائے جبکہ نئے آیوش اسپتالوں میں میڈیکل افسروں اور ماہرین کے زمرے میں ہو مو پیتھک ڈاکٹروں کو برابر کا حصہ فراہم کیا جائے۔انہوں نے مزید ہومو پیتھک طرز علاج سے منصوبہ بندی کمیشن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی،برج کورس میں توسیع،سب ڈویژن اسپتالوں اور پبلک ہیلتھ سینٹروں میں ہومو پیتھک میڈیکل افسروں کی اسامیوں کو معروض وجود میں لانے اور بے روزگار ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کیلئے علیحدہ اسکیم کا قیام عمل میں لانے کا بھی مطالبہ کیا۔