’ہمیں بتایا جائے کہ اُنکا علاج کہاں چل رہا ہے‘

سرینگر// دہلی کی تہاڑ جیل میں بند علیحدگی پسند لیڈرشاہدلاسلام کے اہل خانہ نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ کووڈ کیلئے اُن کا کس ہسپتال میں علاج چل رہا ہے تاکہ وہ ان کی تیمارداری کرسکیں۔قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعے 2017 میں گرفتارکئے گئے شاہد الاسلام 10 دن روز قبل ہائی سیکورٹی تہاڑ جیل میں کورونا میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ اس کے بعد سے ان کے خاندان،جس میں ان کی اہلیہ اور دو بیٹیاں شامل ہیں،کو ان کے بارے میںکوئی خبر نہیں ہے۔شاہد کے اہل خانہ نے بتایا "ان کا جہاں کہیں بھی علاج چل رہا ہے ،ہم بیماری کی اس حالت میں ان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ہم میڈیا کے ذریعہ مرکزی حکومت سے پْرزور اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اُس ہسپتال کانام بتائیںجہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے‘‘۔ان کی بیٹیوں18سالہ سوزین اور14سالہ سنداس نے بتایا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ان کی حالت نازک ہونے کے فورا ًبعد ہی انہیں جیل سے منتقل کردیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے والد کی سلامتی کو لیکر فکر مند ہیں اور اُن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ بیٹیوں نے بتایا کہ ان کے والد کی حالت خراب ہے کیونکہ وہ دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں جن میں زیابیطس بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا’’ہم نے انسانی بنیادوں پر رہائی کے لئے مرکزی وزیر داخلہ سے اپیل کی ہے "۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے والد نے ہمیشہ امن کے لئے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا’’آزمائش کے ان اوقات میں وہ ہر ہمدردی کے مستحق ہیں‘‘۔جیل میں قید بیمار رہنما کی بیٹیوں نے کہا ’’ہمیں امید ہے کہ امت شاہ ہماری اپیل پر غور کریں گے اور ہمارے کنبہ کو تباہی سے بچائیں گے کیونکہ ہم اپنے والد کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں‘‘۔انسانی بنیادوں پر شاہد الاسلام کی رہائی کے لئے درخواست کرتے ہوئے ان کی اہلیہ نے کہا کہ ان کا شوہر پہلے ہی ذیابیطس سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا "ہم ان کی سلامتی کے حوالے سے بہت پریشان ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا ’’اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ وہ ایک اعتدال پسند حریت رہنما رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ امن کے لئے کام کیا ، ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ انہیں انسانی بنیادوں پر رہا کیاجائے "۔ان کی اہلیہ نے بتایا کہ انہوں نے جیل حکام سے درخواست کی کہ انہیں اپنے شوہر سے بات کرنے دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ "مجھے بتایا گیاکہ وہ بات نہیں کرسکتے اور اس کے بعدسے اب تک 10 دن گزر گئے ہیں اور ان کی کوئی خبر نہیں ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے شوہر کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے گا۔شاہد الاسلام کو این آئی اے نے 24 جولائی 2017 کو عسکریت کی مالی اعانت کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ زیر حراست ہیں۔بدھ کے روز سوزین شاہ اور سنداس نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھا ، جس سے تہاڑ جیل میںمقید ان کے "بیمار باپ" کی رہائی کے لئے مداخلت کی استدعا کی گئی ہے۔مکتوب میں لکھاگیا ہے’’گذشتہ ایک ہفتہ سے اسے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ہمیں یہ تک نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔ جموں کے ایک ہسپتال میں سینئر سیاستدان اشرف صحرائی کی حالیہ موت کے بعدہمیں والد کی سلامتی کے حوالے سے مزید تشویش لاحق ہوگئی ہے ‘‘۔