ہمہ وقت نفس کا محاسبہ کرو اور اسلامی تعلیمات کی پیروی!

ایک سال کا مکمل ہونا اور دوسرے کا آغاز اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ ہماری زندگی میں سے ایک سال کم ہو گیا اور ہم اپنی زندگی کے اختتام کے اور قریب ہوگئے، لہٰذا ہماری فکر اور ہماری ذمہ داری اور بڑھ جانی چاہیے اور ہمیں زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور اپنے وقت کو منظم کرکے اچھے اختتام کی کوشش میں لگ جانا چاہیے۔ 
ہمیں اپنا محاسبہ کرکے کمزوریوں کو دور کرنے اور اچھائیوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔​زندگی اللہ پاک کا عظیم عطیہ اور قیمتی امانت ہے،اس کا درست استعمال انسان کے لیے دنیوی کامیابی اور اخروی سرفرازی کا سبب ہے اوراس کا ضیاع انسان کو ہلاکت وبربادی کے دہانے تک پہنچادیتا ہے۔ قیامت میں انسان کو اپنے ہر قول و عمل کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پورا حساب دیناہے ،اس لیے ضروری ہے کہ انسان کسی بھی عمل کو انجام دینے سے پہلے اس بات پر بہ خوبی غورکرلے کہ اس عمل کے ارتکاب کی صورت میں وہ کل کیا صفائی پیش کرے گااور اپنے معبود حقیقی کو کیا منہ دکھائے گا؟آج مسلمانوں نے دیگر اقوام کی دیکھا دیکھی بہت سی ان چیزوں کواپنی زندگی کا حصہ بنالیا اور انہیں اپنے لیے لازم و ضروری سمجھ لیا،جو دین و دنیا دونوں کی تباہی و بربادی کا ذریعہ ہیں۔
دنیا کے تمام مذاہب اور قوموں میں تہوار اور خوشیاں منانے کے مختلف طریقے ہیں۔ ہر ایک تہوار کا کوئی نہ کوئی پس منظر ہے اور ہر تہوار کوئی نہ کوئی پیغام دے کر جاتا ہے، جن سے نیکیوں کی ترغیب ملتی ہے اور برائیوں کو ختم کرنے کی دعوت ملتی ہے،لیکن لوگوں میں بگاڑ آنے کی وجہ سے ان میں ایسی بدعات وخرافات بھی شامل کردی جاتی ہیں کہ ان کا اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ جیسے جیسے دنیا ترقی کی منازل طے کرتی گئی اور مہذب ہوتی گئی انسانوں نے کلچر اور آرٹ کے نام پر نئے جشن اور تہوار وضع کیے ۔
ہر نئے سال کی آمد پراب مسلمان بھی جشن مناتا ہے ،کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس نئے سال کی آمد پر اس کی زندگی کا ایک برس کم ہوگیا ہے ، زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے اور نعمت کے زائل یاکم ہونے پر جشن نہیں منایا جاتا، بلکہ افسوس کیا جاتاہے۔گزرا ہوا سال تلخ تجربات، حسین یادیں، خوشگوار واقعات اور غم و الم کے حادثات چھوڑ کر رخصت ہوجاتا ہے اور انسان کو زندگی کی بے ثباتی اور نا پائیداری کا پیغام دے کر الوداع کہتا ہے، سال ختم ہوتاہے تو حیات مستعار کی بہاریں بھی ختم ہوجاتی ہیں اور انسان اپنی مقررہ مدت زیست کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہوتا رہتا ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓفرماتے ہیں کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا جتنا کہ ایسے دن کے گزرنے پر جس کا سورج غروب ہوگیا، جس میں میرا ایک دن کم ہوگیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا۔حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں : اے ابن آدم! تو ایام ہی کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزرگیا تو یوں سمجھ تیرا ایک حصہ بھی گزرگیا۔
یہ عمر اور زندگی جو ہمیں عطا ہوئی ہے ،وہ صرف آخرت کی ابدی زندگی کی تیاری کی خاطر عطا ہوئی ہے کہ ہم اس کے ذریعے آنے والی زندگی کو بہتر بناسکیں اور اپنے اعمال کو اچھا بناسکیں۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں، اچھے اعمال سے ان کو دوام بخشو۔اب سوال یہ ہے کہ اس موقع پر مسلمانوں کو کیا رویّہ اختیار کرنا چاہیے جو قرآن و احادیث کی روشنی میں صحیح ہو؟ جب نیا مہینہ یا نئے سال کا پہلا مہینہ شروع ہوتا تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے اور بتاتے: ترجمہ: اے اللہ اس نئے سال کو ہمارے اوپر امن وایمان، سلامتی و اسلام او راپنی رضامندی، نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔(المعجم الاوسط للطبرانی ۶/۲۲۱ حدیث: ۶۲۴۱)نیا سال ہمیں خاص طور پر دو باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے : ماضی کا احتساب اورآئندہ کا لائحہ عمل۔نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے،اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ہمیں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے میدان میں اپنی زندگی کا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں،اس لیے کہ انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے، لیکن خود کی نظروں سے نہیں بچ سکتا، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: تم خود اپنا محاسبہ کرو ،قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔ (ترمذی ۴/ ۲۴۷ ابواب الزہد)اس لیے ہم سب کو ایمان داری سے اپنا اپنا موٴاخذہ اور محاسبہ کرنا چاہیے اور ملی ہوئی مہلت کا فائدہ اٹھانا چاہیے، اس سے پہلے کہ یہ مہلت ختم ہوجائے ۔ 
اسی کو اللہ جل شانہ نے اپنے پاک کلام میں ایک خاص انداز سے ارشاد فرمایا ہے: اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے، اس میں سے (ہماری راہ میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہنے لگے، اے میرے پروردگار، مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہوجاوٴں اور جب کسی کا وقت مقرر آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ اچھی طرح باخبر ہے۔(سورئہ منافقون، ۱۰،۱۱)
اپنی خود احتسابی اور جائزے کے بعد اس کے تجربات کی روشنی میں بہترین مستقبل کی تعمیر اور تشکیل کے منصوبے میں منہمک ہونا ہوگا کہ کیا ہماری کمزوریاں رہی ہیں اور انہیں کس طرح دور کیا جاسکتا ہے؟ دور نہ صحیح تو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟انسان غلطی کا پتلا ہے، اس سے غلطیاں تو ہوں گی ہی، کسی غلطی کا ارتکاب تو بُرا ہے ہی اس سے بھی زیادہ بُرا یہ ہے کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے اور اسی کا ارتکاب کیا جاتا رہے۔آخرت کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اسی دنیا کے اعمال پر منحصر ہے۔ جیساکہ ارشاد ربانی ہے: اور ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی، اور بےشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔(سورئہ نجم، آیت/ ۳۹،۴۰،۴۱) ہر شخص کا مرنا یقینی ہے، لیکن موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی بشر کو معلوم نہیں۔ چنانچہ بعض بچپن میں، بعض عنفوان شباب میں اور بعض ادھیڑ عمر میں، جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔
بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں، لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس حقیقت کو بار بار ذکرفرمایا ہے: تم جہاں بھی ہوگے(ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جا پکڑے گی، چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ رہ رہے ہو۔ (سورۃ النساء ۷۸) اے نبیؐ !آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے۔ یعنی وقت آنے پر موت تمہیں ضرور اچک لے گی۔ (سورۃ الجمعہ ۸) جب اُن کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔ (سورۃ الاعراف ۳۴) اور نہ کسی متنفس کو یہ پتا ہے کہ زمین کے کس حصے میں اُسے موت آئے گی۔( سورۃ لقمان ۳۴)
نئے سال پر عزم مصمم کریں کہ زندگی کے جتنے ایام باقی بچے ہیں، ان شاء اللہ اپنے رب کو راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ابھی ہم بقید حیات ہیں اور موت کا فرشتہ ہماری جان نکالنے کے لئے کب آجائے، معلوم نہیں۔ یہ منصوبہ بندی دینی اور دنیوی دونوں معاملات میں ہو جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوتاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا ارشاد ہے: پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جان لو (۱) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (۲) صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے (۳) مال داری کو فقروفاقہ سے پہلے (۴) خالی اوقات کو مشغولیت سے پہلے (۵) زندگی کو موت سے پہلے۔(مشکوٰۃ المصابیح ۲/۴۴۱ )
اسی طرح حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا، یہاں تک کہ وہ مذکورہ سوالات کا جواب دےدے: زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟مال کہاں سے کمایا؟ یعنی حصولِ مال کے اسباب حلال تھے یا حرام، مال کہاں خرچ کیا؟ یعنی مال سے متعلق اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کئے یا نہیں، علم پر کتنا عمل کیا؟ ہمیں اپنی زندگی کا حساب اپنے خالق ومالک ورازق کو دینا ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، جو پوری کائنات کا پیدا کرنے والا اور پوری دنیا کے نظام کو تن تنہا چلا رہا ہے۔
ہمیں ہرسال کے اختتام پر یہ محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہمارے نامۂ اعمال میں کتنی نیکیاں اور کتنی برائیاں لکھی گئیں ۔ کیا ہم نے امسال اپنے نامۂ اعمال میں ایسے نیک اعمال درج کرائے کہ کل قیامت کے دن ان کو دیکھ کر ہم خوش ہوں اور جو ہمارے لئے دنیا وآخرت میں نفع بخش بنیں؟یا ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ایسے اعمال ہمارے نامہ اعمال میں درج ہوگئے جو ہماری دنیا وآخرت کی ناکامی کا ذریعہ بنیں گے؟ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا کہ امسال اللہ کی اطاعت میں بڑھوتری ہوئی یا کمی آئی؟ ہماری نمازیں، روزے اور صدقات وغیرہ صحیح طریقے سے ادا ہوئے یا نہیں؟ ہماری نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوئیں یا پھر وہی طریقہ باقی رہا جوبچپن سے جاری ہے؟ روزوں کی وجہ سے ہمارے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوا یا صرف صبح سے شام تک بھوکا رہنا؟ ہم نے یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھا یا نہیں؟ ہمارے معاملات میں تبدیلی آئی یا نہیں؟ ہمارے اخلاق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کا نمونہ بنے یا نہیں؟ جو علم ہم نے حاصل کیا تھا وہ دوسروں کو پہنچایا یا نہیں؟ ہم نے اپنے بچوں کی ہمیشہ کی زندگی میں کامیابی کے لئے کچھ اقدامات بھی کئے یاصرف ان کی دنیاوی تعلیم اور ان کو دنیاوی سہولیات فراہم کرنے کی ہی فکر کرتے رہے؟ ہم نے امسال انسانوں کو ایذائیں پہنچائیں یا ان کی راحت رسانی کے انتظام کئے؟ ہم نے یتیموں اور بیواؤں کی مدد بھی کی یا صرف تماشا دیکھتے رہے؟ ہم نے قرآن کریم کے ہم پر جو حقوق واجب ہیں، وہ ادا بھی کئے یا نہیں؟ ہم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی یا نافرمانی؟ ہمارے پڑوسی ہماری تکلیفوں سے محفوظ رہے یا نہیں؟ہم نے والدین، پڑوسی اور رشتے داروں کے حقوق ادا کئے یا نہیں؟ لہٰذا مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے یومیہ اعمال کاجائزہ لیتا رہے کہ اس نے اپنے رب کی مرضیات کے لیے کیا کیا ؟ فرائض کی ادائیگی کی یانہیں ،اگر فرائض میں کوتاہی ہوئی ہے ،تو اپنے نفس کوملامت کرے اوراس کی تلافی کی کوشش کرے ،اگر معاملات اچھے نہیں ہیں تودرست اورپاکیزہ کرلے ،اگرگناہوں کا رسیاہے ،تو توبہ ،ندامت ،انابت اوراستغفار کے ذریعے اپنے رب کوراضی کرنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ ہمارے اندر محاسبہ نفس کاجذبہ پیداکرے اوراحتساب نفس کی توفیق بخشے۔(آمین)