ہمسایہ ریاستوں کی طرز پر مشاہراہ میں اضافے کامطالبہ

 جموں//آل جموں وکشمیر نیشنل ٹریڈ یونین فرنٹ کے بینر تلے آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز یونین نے ایم اے ایم سٹیڈیم کے متصل اپنے مطالبات کے حق میں دوسرے روزبھی مظاہرہ کیا۔ حکومت پر ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے مقررین نے بتایا کہ پڑوسی ریاستوں پنجاب، ہریانہ اور دہلی وغیرہ میں آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کو بالترتیب 10ہزار اور 6ہزا رروپے ماہوار دئیے جا رہے ہیں لیکن جموں کشمیر میں ان کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سرکار آنگن واڑی کارکنان کا استعمال درجن بھر محکمہ جات میں مختلف نوعیت کی ڈیوٹی کے لئے کرتی ہے لیکن جب انہیں مشاہرہ دینے کی بات آتی ہے تو ان کے ساتھ امتیاز کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دس برس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کہیں کی کہیں پہنچ چکی ہیں لیکن ان کے مشاہراہ میں اضافہ نہیں کیا جا رہا ہے جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ خطاب کرنے والوں میں محمد غفور ڈار ،راجندر کمار، رتنا دیوی، وجے کماری، مہ جبین، سمن سوری، ااشی، شمیم اختر شازیہ کوثر، انورادھا، ارشاد بیگم، ساوتری کماری، حنیفہ وغیرہ موجود تھے۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ ان کا احتجاج آج یعنی جمعہ کے روز بھی جاری رہے گا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مشاہراہ میں اضافہ کے علاوہ ورکروں اور ہیلپروں کو مستقل کیا جائے، آٹھ ماہ سے واجب الادا بقایہ جات فراہم کئے جائیں، سینارٹی لسٹ مرتب کرنے، نئی پنشن اسکیم کے نفاذ، گروپ انشورنس لاگو کرنے ، موبائل چارجز ، وردی کی فراہمی اور انہیں ہراساںکرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔