ہماری وادیٔ کشمیر ایسی تو نہیں تھی ؟

ایک معاشرہ کسی بھی علاقہ میںرہائش پذیر مختلف سوچ اور نظریات رکھنےوالے افراد کے مجموعے سے بنتا ہے اور اُس معاشرے میں پائی جانے والی ہر ایک اچھائی یا بُرائی کا ذمہ دار وہاں کا ہر فرد ہوتا ہے۔ اُس معاشرے کی ترقی کا دارومدار بھی وہاں کے ہرفرد پر مُنحصر ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب بھی کبھی کسی معاشرے میں کوئی سماجی بُرائی نمودار ہوکر منظر عام پر آتی ہے تو اُس برائی میں ملوث افراد چند لمحوں میں یا چند دنوں میں اُس برائی کا ارتکاب کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ہیں بلکہ اصل میں یہ عمل لمبے عرصے سے پس پردہ ہوتا رہتا ہے اور سماج کے ایسے عناصر جو اخلاقی دیوانہ پن، مادیت کی دوڑ، فحاشی، دین بیزاریاور دیگر بُرائیوں میں مشغول ہوں، اُن کے ضمیرآہستہ آہستہ مُردہ ہوجاتے ہیں،اُن میںحیوانی جبلت غالب آجاتی ہےاور دماغ کوئی بھی غیر انسانی کام کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، جن کے ارتکاب سے بعض اوقات ابلیس بھی شرم سارہوجاتا ہے۔ لہٰذا معاشرے میں کسی بھی برائی یا خرابی کو روکنے کیلئے صرف چند افراد کی اصلاح کافی نہیں ہوتی بلکہ تمام معاشرتی نظام پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہماری جنت نما وادی کو عارفوں، عابدوں اور اولیائے کرام کی سر زمین کہا جاتا ہے ۔ یہاں بہت سارے بزرگانِ دین اور اولیاء اللہ پیدا ہوئے ہیں۔ پہلے پہل یہاں عام لوگوں کی زندگی پر اولیائے کرام کا گہرا اثر تھا۔ اکثر لوگ دیندار اور سادہ لوح تھے۔ نہ ہی یہاں کے لوگوں پر مادیت پرستی کا بھوت سوار تھا اور نہ ہی فیشن پرستی کا جنون۔ نتیجتاً ملک کے باقی علاقوں کے مقابلے میں یہاں کے لوگوںمیں سماجی برائیوں اور خرابیوںیا جرائم کا گراف نفی کے برابر تھا۔ اگرہم آج سے تیس یا پنتیس سال پہلے کے اعداد وشمار پر نظر ڈالتے ہیں تو وادی میں سماجی جرائم کا گراف،آج کے مقابلے میں نہایت کم تھا۔ لیکن دور حاضر کے طوفانِ عالمگیریت اور وبائے مغربیت سے ہماری وادی نہ بچ سکی اور لوگ مذہبی و روایتی اخلاق واقدار کو بھول کر مادیت پرست اور آزاد خیال بن گئے۔ فیشن پرستی، بے حیائی، نیم عریانی، بد اخلاقی اور بدکاریوں کے بڑھاوے کے ساتھ ساتھ یہاں جرائم کی رفتار میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور اب ہم آئے دن وادی کے کسی نہ کسی علاقے میں سماجی جُرم کے ارتکاب کی خبر سُنتے ہیں اور اکثر لوگ ان خبروں کے عادی بھی ہوچکے ہیں۔ ابھی اننت ناگ کے دل دوز حادثے کو ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا کہ گذشتہ دنوں سرینگر میں ایک افسوس ناک واقعے میں حیوان صفت نوجوان نے ایک دوشیزہ کے چہرے پر تیزاب پھینک کر نہ صرف اسے بینائی سے متاثر کرکے رکھا بلکہ اُس کے حسین خوابوں کو چکنا چُور کیااور اسکے وجود کو ہمیشہ کیلئے ایک سخت عذاب میں مبتلارکھا۔ دوسرے جرائم کی طرح اس شرمناک جرم کا ارتکاب آج یہاں پہلی بار نہیں ہوا ہے بلکہ کچھ شیطان صفت عناصر نے پہلے بھی کئی بار ایسی جرائم کا ارتکاب کرکے نوجوان لڑکیوں پر تیزاب پھینک کر اُن کے نسوانی حُسن کو تباہ کیااور کئی کو بینائی سے بھی محروم کیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری وادی میں بھی ملک کے باقی ریاستوں کی طرح ایسے گھناؤنے جرائم کا گراف بڑھتا جارہا ہے۔ وجہ کو جاننے کیلئے ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ جہاں بے حیائی اور بے شرمی کو جدیدیت اور آزاد خیالی کا نام دیکر پروان چڑھایا جارہا ہو، جہاں اسلامی نظریات کو قدیم اور دقیانوسی خیالات سمجھ کر اُن سے دامن چھڑانے کی کوشش کی جارہی ہو ،وہاں پر صنفِ نازک کے چہرے پر تیزاب پھینکنا یا ایسے ہی دوسرے گھناؤنے جرائم  کے واقعات کا پیش آنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے غلیظ اور گندے سوچ کے مالک لوگ ایک دن یا ایک ہفتہ میں تیار نہیں ہوتے ہیں اورنہ ہی کوئی انسان ایک پل میں انسانیت کے معیار سے اتنا نیچے گِر سکتا ہے کہ ایسے جُرم کا ارتکاب کرے بلکہ یہ اُس انسان کی برسوں کی پرورش اور سماج  میں پروان چڑھی بددیانتی،بے حیائی، بد اخلاقی، فحاشی،  اور دین  بیزاری کا نتیجہ ہوتا ہے،جس نے معاشرے کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے،’’ ' حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں پہنچاتا ہے جبکہ بےحیائی و بدکلامی سنگدلی ہے اور سنگدلی جہنم میں پہنچاتی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ بےحیائی سے دل سخت ہوجاتا ہے، لہٰذا بےحیا انسان ایسے شرمناک اور گندے افعال کے ارتکاب میں کبھی عار محسوس نہیں کرتا۔ یہاں پر یہ بات بھی سمجھنی ضروری ہے کہ ایسے جرائم سماجی ناکامی کی عکاسی کرتےہیں اور ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ ہم ایک اچھے، بااخلاق، پروقار اور مذہبی معاشرے کو تشکیل دینے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
ہم میں سے ہر ایک ذِی حس اور ذی شعور فرد نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی اپیل کی ہے لیکن اس سماجی مرض کو مکمل طور پر ختم کرنے کیلئے اتنا کافی نہیں ہے۔ اس مرض کو ختم کرنے کیلئے صرف مجرموں کو سزا دینا گویا ایک پیڑ کو ختم کرنے کیلئے صرف اُسکی شاخوں کو کاٹنے کے مترادف ہے۔ ایک پیڑ کی شاخوں کو کاٹ کر ہم اسکو کمزور تو کر سکتے ہیں لیکن اسکے وجود کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے ہیں۔ جرائم کو مکمل طور پر ختم کرنے کیلئے ہمیں اُسکے جڑوں تک پہنچنا چاہئے،تاکہ اُسے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے معاشرے میں پھیلی بےحیائی اور بےراہ روی کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ یہیں چیزیں بہت ساری سماجی برائیوں کے بنیادی اسباب ہیں۔ سماج کے ہر ایک فرد اور ہر طبقہ کو اپنے فرائض سے آگاہ ہوکر اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھانا ضروری ہے اور معاشرے میں سماجی اور دینی اخلاق و اقدار کو پھر سے اُجاگر کرنے کی اشد اور اہم ضرورت ہے۔ بچوں کو سماجی برائیوں سے دور رکھنے کیلئے سب سے اہم کردار والدین کا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر بچے کی پرورش اچھی طرح سے نہیں کی جائے اور اُسکی روزمرہ زندگی پر کڑی نظر نہیں رکھی جائے تو مستقبل میں وہی بچہ بہت ساری سماجی برائیوں میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری وادی میں اکثر والدین اپنے بچوں کو ہر قسم کی سہولیات تو فراہم کرتے ہیں مگر مادیت کی دوڑمیں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ اپنے بچوں کی اصلاح کیلئے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے عادات و اطوار پر نظر رکھیں اور انکو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی و دینی تعلیم سے بھی آراستہ کریں۔ معاشرتی برائیوں کو روکنے اور نوجوانوں کو بااخلاق اور باکردار بنانے میں ہمارے دینی رہنماؤں اور واعظین کا بھی ایک اہم رول ہے۔ ہمارے واعظین حضرات کو چاہئے کہ سوشل میڈیا پر اور مساجد میں مسلکی اختلافات کی بنیاد پر ایک  دوسرے کی تنقید کرنے کے بجائے لوگوں کو اخلاقیات اور دینیات سے روشناس کروائیں۔ اگرچہ ہمارے مدارس کے نصابوں میں پہلے ہی اخلاقی تعلیم کا دائرہ تنگ کیا گیا ہے لیکن ہمارے اساتذہ کرام کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اپنے کلاس روم میں چند منٹ نکال کر طلباء کو اخلاقیات کا درس دیا کریں اور سماجی برائیوں سے دور رہنے کی تلقین کریں۔ یہ چند اقدامات اٹھاکر ہم اپنے معاشرے میں بہت ساری سماجی برائیوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
(مضمون نگار ڈگری کالج کولگام میںلیکچررہیں)
رابطہ۔ 7006569430