ہماری زندگی اور نباتات کی ضرورت

پڑھائی کے سلسلے کو لے کر میں ایک مہینے سے کافی مشغول تھا امتحان کے دن بہت قریب تھے حسب معمول میں صبح سات بجے سے روز کی پڑھائی شروع کرتا تھا ایک دن نصاب میں دئے گئے کچھ مضامین پر کافی غور کر رہا تھا اس لیے کہ وہ مضامین کچھ ایسے محسوس ہورہے تھے جن پر بغور مطالعہ کرنا ضروری تھا  میں اپنی کتابیں اپنے سامنے لیے ہوئے دوزانو بیٹھ کر ان مضامین کا بڑے شوق سے مطالعہ کر رہا تھا اتنے میں میری نظر کتاب کے دائیں جانب ایک چھوٹے سے کیڑے پر پڑی یہ کیڑا سیاہ رنگ کا تھا جو کافی تیز چل رہا تھا اور تکلیف دہ بھی محسوس ہو رہا تھا میں نے اس قسم کے کیڑے پہلے بھی دیکھے تھے پر کبھی سوچنے یا انہیں جاننے کی زحمت گوارا نہیں کی لیکن اِس بار کافی راغب ہوگیا  شائد اس لیے کہ میں پہلے ہی مشاہدے کے  لیے کتابیں اپنے سامنے لیے ہوئے بیھٹا تھا یہ کیڑا ساخت کے لحاظ  سے کافی بدصورت بھی نظر آرہا تھا اس کیڑے کو تکلیف دہ سمجھنے پر میں نے اسے جان سے مارنا چاہا اور ایک دم اس پر اپنا ہاتھ تیزی سے مار دیا پر اتفاق کی بات یہ تھی کہ یہ کیڑا مرا نہیں بلکہ میرے اس حملے سے  الٹا ہوگیا اس کی ٹانگیں اوپر کی جانب ہوگئی اور میں ایک دم خاموش ہوکر اسے دیکھنے لگا یہ کیڑا خود کر سیدھا کرنے اور اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونے کے لیے دائیں بائیں کرنے لگا کیڑے کی اس کشمکش کو پندرہ منٹ تک خاموشی سے دیکھتا رہا یقین مانو کیڑے کی اس کشاکش نے کافی متاثر کیا. اس لیے کہ میں سوچ میں پڑ گیا کہ بنا تکلیف پہنچائے میں نے کیڑے کو جان سے مارنے کی کوشش کیوں کی اور مارنے کے بعد بھی یہ اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
کیڑے کی اس بیچینی اور درد کو دیکھ کر مجھے امتحان سے پہلے کے وہ دن یاد آگئے جن دنوں میں کافی بیمار تھا اور میں بستر پر لیٹے اسی کیڑے کی طرح درد اور بیچینی کی وجہ سے چِلا رہا تھا.  ان دِنوں کو یاد کرنا اس لیے ضروری تھا کیوں کہ مجھے خود کی تکلیف اور کیڑے کی تکلیف میں کوئی بڑا فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا لیکن ایک سوال ذہن میں آگیا تھا کہ جس طرح میں نے کیڑے پر بنا قصور کے نفرت بھری نگاہوں سے اسے مارنے  کی کوشش کی کیا ویسا ہی معاملہ میرے ساتھ بھی پیش آگیا تھا. اس سوال کا جواب میرے ذہن میں با آسانی آگیا جواب یہ تھا کہ مجھ پر میرے اعمال کی وجہ سے سزا ہوگئی تھی اور کیڑے پر میری نفرت بھری نگاہ اور منفی سوچ  نے حملہ کیا۔
کیڑے کے نہ مرنے سے میرا ضمیر جاگ گیا اور میں دو گھنٹے تک لگاتار اپنی اس غیر انسانی عمل پر خود کو ملامت کرتا رہا اس حد تک گیا کہ آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے وہ اس لیے کہ بحثیت انسان غیر انسانی عمل کا انجام دینا,  کسی کو اپنے سے چھوٹا سمجھ کر اس پر بے دردی سے حملہ آور ہونا,  اپنے مفادات کے خاطر دوسروں کی خوشیوں کا خون کرنا کہاں کا انصاف اور کہاں کہ انسانیت ہے.  خود کی جان کی فکر کرنا دوسرے جاندار کو بلا جواز تکلیف دینا.  یہ وہ اعمال ہیں جو مجھے انسانیت کے دائرے سے خارج ہی کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو دنیا میں کسی خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور ہر جاندار کو آپس میں مل جل کر رہنے اور زندگی بسر کرنے کی صلاحیت بخشی ہے البتہ ہر جاندار کو الگ الگ صورتوں میں پیدا کیا ہے ہم یہاں کسی جاندار کو اس کی بد ساخت پر اسے نفرت کر کے  جان سے مار نہیں سکتے کیوں کہ کسی کی بدصورتی اس کے اندر چھپی صلاحیتوں کی دلیل نہیں ہوسکتی.  جسمانی طور کسی کو چھوٹا دیکھ کر ہم اس پر غیر اخلاقی طور پر دباو نہیں ڈال سکتے. بے شک انسان کو اللہ نے سب سے بہترین صورت میں پیدا فرمایا ہے اور اعلی رطبے سے نوازا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں صرف انسان کو ہی زندگی گزارنے یا زندہ رہنے کا حق ہے بلکہ دوسرے جاندار بھی برابر کا حق رکھتے ہیں. یہ غیر انسانی رویہ ہم صرف جانوروں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ نباتات کے ساتھ بھی روا رکھے ہوئے ہے اس لیے کہ ہم بے دردی سے ان کا بھی بے تحاشا کٹاو کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ  ہماری  پوری زندگی کا دارومدار ان ہی نباتات پر ہی منحصر ہے.  
ترہگام کپوارہ،رابطہ۔9906609701