ہماری بے سکونی کی وجہ اور اسکا حل غورطلب

ناصر شاہ

دورِحاضر میں انسان کافی ترقی کی جانب جارہاہے۔ اپنے رہن سہن،چلنے پھرنےاوراٹھنے بیٹھنے غرض زندگی کے تمام تر معاملات میں انسان نے اپنی آسائش کے سارے انتظام کئے ہیں۔سفری سہولت کے لئے خوبصورت اور برینڈ گاڑیاں،پہننے کے لئے قیمتی لباس اور رہائش کے لئےاونچے اونچے مکان اور محل نُما حویلیاںبناتے ہیں۔زندگی کی اس بھاگ دوڑ میں انسان جہاں ضروریات زندگی کے تمام انتظام اپنے لئے مہیا رکھتا ہے وہیں پر انسان چین وسکون جیسی عظیم نعمت کے لئے ترستا ہے۔سماج میں رہنے والا ہر فرد یہ اعتراف کرتا ہے کہ اسکی بنیادی ضروریات اچھی طرح پوری ہوتی ہے مگر سکون ِ قلب سے محروم ہے۔دراصل ہم تیز رفتاری کے اس دور میں جس طرح مادیت پرستی اور خواہش پرستی میں ڈوب گئے ہیں،اُس سے ہماری ضروریات کبھی بھی اعتدال میں نہیں رہتی، جبکہ اسلام میں اعتدال رکھنے کی کافی تاکید کی گئی ہے۔ہم مغربیت کی تقلید کرکے کبھی بھی سکون قلب جیسی عظیم نعمت کو پا ہی نہیں سکتے،اور یہ ہماری غلط فہمی ہے کہ مغربی تہذیب اور مغربی طرزِ زندگی کو اپناکر ہم پرسکون میں رہ سکتے ہیں۔آج انسان کمانے میں مست ہے ، جائز و ناجائز میں تمیز کرنے کی سوچ ہی بدل گئی ہے۔ دن رات کمائی کرکے یہ خیال نہیں رہتاکہ کیا یہ کمائی حلال ہے یا حرام۔ اس کی ہمیںکوئی پرواہ نہیں رہی ہے۔بے سکون اور بے چین رہنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ دورِ حاضر کی نئی نسل خرافات،اسراف اور بے حیائی کی دلدل میں پھنس گئی ہے اور پھرپُرسکون رہنے کے لئے انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہیں۔ ارے بھئی! آپکا ضمیر اندر سے خستہ ہوگیا ہے ،جسکی مرمت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تب جاکے آپ اپنے آپ کو پُرسکون بنا سکتے ہیں۔دور حاضر میں اگرچہ انسان نے ترقی کے جہاںسارے منازل طے کررہا ہےلیکن وہیں ذہنی مریضوں،زندگی سے بیزار لوگوں،ڈپریشن اور دیگر کئی دیگر مسائل ومصائب میں مبتلا لوگوں کی تعداد بھی بڑے پیمانے پر دیکھنے کو ملتی ہے۔انسان پُرسکون رہنے کے کے لئے اپنی زندگی مادیت اور خواہشات کی پٹری پرلے آیا ہے، جس کے نتیجے میں بالآخر اُسے پچھتاوا کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوپاتاہے۔ظاہر ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق بلکہ اُس سے بھی کم میںزندگی کا گزر بسر کرنا اوراُسی میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانا ایک ایسا مثبت عمل ہے جوانسان کے پرسکون رہنے میں کلیدی رول ادا کرتاہے۔کیونکہ شکر کرنا اللہ ربّ العزت کو بہت پسند ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری مت کرو‘‘ (البقرہ:١٥٢)
’’اگر تم میرا شکر کروگے تو البتہ ضرور میں تمہیں زیادہ دوں گا‘‘ (ابراہیم:٧)
حدیث شریف میں آیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ اُن دِلوں کو اس طرح زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہے کو پانی لگنے سے زنگ لگ جاتا ہے۔پوچھا گیا کہ اس کی صفائی کیسے ممکن ہے؟آپؐ نے فرمایا :’’موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔‘‘
بے سکونی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم قرآنی تعلیمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے دور ہوگئے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ہمارا ماضی کتنا تابناک ہے۔اپنے اسلاف کی محنتوں کی وجہ سے دینی تعلیمات سے روشناس ہوئے۔مگر افسوس کہ اب ہم نے اسلاف کو ہی بھلا دیا ہے۔قرآن مجید کا مطالعہ اور اسکی تلاوت سے جہاں انسان کو کافی ذہنی فہم وادراک حاصل ہوتا ہے وہیں پُرسکون رہنے کے لئے کلام مجید کی تلاوت کرنا کافی ضروری ہے۔مگر ہم پڑھنے نہیں اور اگر پڑھتے بھی ہیں مگر سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔بروز محشر نبی کریمؐ اللہ تعالیٰ سے کہیں گےکہ، ’’یاربّ ! میری قوم اس قرآن کو بالکل چھوڑ بیٹھی تھی‘‘(الفرقان:٣٠)
کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک اخبار میں پڑھا کہ ہندوستان کے ایک مشہور ومعروف فلمی اداکار نے یہ اعتراف کیا کہ جب وہ بے سکون اور بے چین ہوتا ہے تو اس وقت وہ قرآن مجید کی تلاوت سے اپنے آپکو پُرسکون بناتا ہے۔اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سکون وہ واحد شے ہے جو پیسوں سے حاصل نہیں ہوتا۔سکون اگر کسی چیز سے حاصل ہوسکتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے احکام،قرآنی تعلیمات اور نبی اکرمؐ کی سنتیں ہیں۔اللہ سے دُعا ہے کہ ہمیں قرآن مجید پڑھنے سمجھنے اور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو اپنی زندگی میں لانے کی توفیق عطا فرمائے، تب جاکر ہم پُرسکون اور خوشحال زندگی بسر کر سکیں گے۔
(رابطہ7889583930)
<[email protected]>