ہمارا سماج، ہماری سوچ اور ہمارا طرزِ عمل معاشرہ

رئیس یاسین

پیسے کمانا ہی مطلوب نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اصل بات ایسا پیشہ اختیار کرنا جہاں آپ کا دل بھی لگ رہا ہو اور آپ اپنی قوم کی فلاح و کامرانی کے لئے کام کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رضا ہر آن ہر وقت آپ کا مطلوب ہو، خود کو داعی اللہ سمجھ کر ایسے پیشہ کا انتخاب کرنا چاہے جہاں آپ کی صلاحیت پروان چڑھے ۔ انسان کا جو شوق ہو گا، اس کے مطابق زندگی میں اپنے پیشے کا بھی انتخاب کرنا چاہے۔ پیسہ ہی مقصد نہ ہو بلکہ انسان دوستی کا حق ادا کر کے لوگوں کی خدمت بھی کی جائے۔ غریب عوام کو ہر لحاظ سے اپنے پیشے سے سہولیات فراہم کی جائے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لے کہ مجھ میں کیا صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کے بعد اپنے شوق کو بھی سامنے رکھے۔ ہماری قوم اس وقت بہت سی پریشانیوں کا شکار ہو چکی ہے۔ اس کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں، کبھی ہم نے غور کیا ہے۔ ہم سب اپنے کرئیر کو بنانے میں مگن ہو گئے ہیں۔ خودغرضی، بے ایمانی، رشوت، بداخلاقی ایسی ایسی بیماریاں نظر آتی ہیں۔ ہم دنیا میں ہی گم ہو کر رہ گئے اور آخرت ہماری نظروں سے غائب ہوتا چلا گیا۔ ہماری ساری صلاحیتیں صرف اور صرف دنیا کمانے میں صرف ہو رہی ہیں۔ ہمارے قوم کے نوجوان جن میں اکثر بے روزگار ہیں، وہ ایسے ماحول میں رہ کر زندگی گزار رہے ہیں کہ جس میں ڈپریشن، منشیات کا بے جا استعمال، سوشل میڈیا کا غلط استعمال اور مذہب سے دوری عام ہے۔ جس کی وجہ سے ان میں احساس کمتری پیدا ہوچکی ہےاوروہ کسی بھی کام میں دلچسپی نہیں دے رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک طرف کرپشن نے ہمارے معاشرےکو ڈوبا دیا ہے، تو دوسری طرف روزگار کےوسیلے نایاب ہوگئےہیں۔ ایسے میں جس نوجوان کا فطری استعداد ڈاکٹر، انجینئر، استاد، محقق بننا تھا، اس کے ارادوں کو کچل کر رکھ دیا جاتا ہے۔ ایسے میں جسے قوم کے جوانوں کی زندگی ہر وقت ذہنی تناؤ کا شکار ہو، وہاں کا مستقبل ہر وقت تاریکی میں رہتا ہے۔ اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے قوم کے جوان اپنی زندگی کے حصول مقاصد سے ہار چکے ہیں۔ اور وہ غلط راہ پر چل پڑے ہیں۔ ایک طرف مغربی طرزِ زندگی اپنایا ہوا ہے تو دوسری جانب اخلاقی زوال نے گھیر لیا ہے،خاص طور پرمنشیات کے استعمال نے ہمارے نوجوان نسل کو تباہ کیا ہوا ہے۔ اب تو ہمارے معاشرے میں والدین کو روزگار کی اتنی فکر نہیں رہی، جتنی اس بات کی فکر ہے کہ کہیں اُن کی اولاد کسی نشے میں مبتلا نہ ہو جائے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں سجھ لینا چاہئے کہ ہمیں ہر حال میں اسلامی تعلیمات اور نبی اکرمؐ کے ارشادات پر عمل کرنا چاہئے۔ ہاں! مشکلات درپیش ہیں،لیکن اس کا مطلب ہرگزیہ نہیں کہ ہم حالات سے گھبرا جائےاور اپنے آپ کو تاریکیوں میں ڈبو ڈالیں۔بلا شبہ یہاں انتظامی بد نظامی، رشوت خوری، بے ایمانی ،بد دیانتی،گھپلہ بازی اورحق تلفی ایسی اخلاقی بُرائیاں ہیں، جو ایک قابل ،ذہین اور مستحق غریب تعلیم یافتہ نوجوان کے سَر پر ظلم و ستم کی تلوار بنی ہوئی ہے۔گویا اخلاقی زوال نے ہمارا بیڑا غرق کردیا ہے ،دینداری اور باہمی ہمدردی و روا داری نابود ہوچکی ہے،دکھاوے اور مقابلہ داری نے ہمیں تباہ کردیا ہے اور غریب عوام کی زندگی مشکل سے مشکل بنا دی گئی ہے۔ ایک مالدار اپنی بیٹی کی شادی میں لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے،اور اُس کا غریب پڑوسی اپنی بیٹی کی شادی کی خاطربے بس و لاچار ہے۔ مسجدوں کی جلد از جلد تعمیر کے لئے لاکھوں روپے خرچ کئے جارہےہیں ،جس میں تاخیر کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن کسی غریب لڑکی کے ہاتھ پیلے کرنے کے کام پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اور نہ اس عجر عظیم کو انجام دینے پر پہل کی جاتی ہے۔ اس سماج کی کس کس بات ذکر کریں، یہاں کے اکثرڈاکٹروں کا کیا حال بتائیں جنہوں نے اس مقدس اور قابل فخر پیشے قصائی کے روپ میں ذبح خانہ سے بھی بناکر رکھ دیا ہے۔جس سے معاشرے کی غریب بُری طرح متاثر ہوجاتی ہے اور اُس کے لئےعلاج و معالجہ کا معاملہ مشکل ہی نہیں نا ممکن بن گیا ہے۔ ایک محنت کش جس کی آمدن کے ذرائع محدود ہوتے ہیںاور وہ مشکل سے اپنے اہل و عیال کو پال رہا ہے،اُس کے لئے ایک طرف ڈاکٹر کی فیس، ادویات کے اخراجات اور اغذا کا حصول ناقابل ِ برداشت ہوجاتا ہے ،اس لئے وہ اپنی یا اپنے عزیزوں کی فکر ِ صحت کو بالائے طاق رکھتا ہے اور مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں آکر فوت ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے ہمارے معاشرے کے زیادہ تر ڈاکٹر صاحبان مریضوں کے لئےایسے ہی ادویات تجویز کرتے ہیں،جن کا کمیشن کے نام پر انہوں نے کمپنیوں سے ٹھیکہ لیا ہوتا ہے۔گویا وہ انسانی جان بچانے کی فکر کے بجائے اپنا کمیشن حاصل کرنے کی فکر میں ہوتا ہے اور کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سارے ڈاکٹر ایسے ہی ہیں، کچھ ڈاکٹر حضرت ایسے بھی ملے گے جو واقعی انسانیت کے لئے کام کر رہے ہیںاور غریب مریضوں کے لئے مسیحا بنے ہوئے ہیں لیکن اۃن کی تعدادا آٹے میں نمک کے برابر رہ گئی ہے۔ اُستاد جو اگر گورنمنٹ سکول میںتعینات ہے تو اپنے درس و تدریس میں سُستی اور غفلت کا بھرپور مظاہرہ کرتا ہے اوراگر یہی اُستاد کسی کوچنگ سنٹر میں مدرس ہوتا ہے تو انتہائی ذمہ داری اور ذہانت سے اپنا کام سرَانجام دیتا رہتا ہے۔یہ دوغلا پن بھی ہمارے سماج کو سانپ کی طرح ڈستا چلا جارہا ہے۔ ظاہر ہے وجہ صرف پیسہ اور پیسہ،جائز ہو یا ناجائز اس کی کون پرواہ کرتا ہے ۔اسی طرح دوسرے کئی شعبوں میں کام کرنے والے ہمارے معاشرے کے افراد ہی اپنے قوم کے افراد کو لوٹنے میں مصروف عمل ہیں۔ یہی حال ہماری اجتماعی اور انفرادی زندگی کا ہوگیا ہے ۔ ہم پیسے والے کو سلام کرتے ہیں لیکن ایک دین دار انسان کی عزت نہیں کرتے۔ جس سے بخوبی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہم اس کے پیسوں کی وجہ سے اسے سلام کرتے ہیں ۔ گویا ہمارا سماج جن بُرائیوں اور خرابیوں کا شکار ہوگیا اُس کا سارا خمیازہ بذات ِ خود سماج کو بھگتنا پڑتا ہے ۔اخلاقی زوال پذیری نے ہمیں کافی حد تک نقصان سے دوچار کردیا ہے لیکن ہم پھر بھی سنبھلنے کا نام نہیں لیتے۔اب تو ہمارے یہاں اگر کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی شریعت کے حدود میں رہ کر زندگی گزارے،تو اسے تنگ نظر کہا جاتا ہے اور دقیانوسی خیال کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے شادی کی تقریبات میں اخلاقیات کا جنازہ نکالا جاتا ہے۔ لوگ مال و دولت اورچکا چوند زندگی کو ترجیح دینے لگے ہیں ،نہ خوفِ خدا اور نہ کسی کا کھٹکا،ایسے میں ہم کیا توقع کر سکتے ہیں؟
[email protected]