ہمارا تلف شدہ تاریخی میرا ث

ہم ایک تاریخ رکھتے ہیں ۔ ہم اپنی تاریخ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ہماری اپنی ایک منفرد تمدن و ثقافت رہی ہے۔ ہمارا ایسا عالی شان جغرافیائی محل وقوع ہے جس نے قوموں اور تہذیبوں کو کھینچ کھینچ کراپنی طرف راغب کیا ہے ،جو تہذیبوں کا سنگم ثابت ہواہے۔ ہماری روایات ظرف و وسعت سے لبریز ہیں۔ با ہمی یگانگی،مروت و غمگساری،اخوت و ملنساری ہمیں ورثے میں ملا ہے ۔ مصائب و مظالم کے علی الرغم ہم سر جھکانے کے بجائے سر اُٹھا کے جئے ہیں۔یہ ہماری تاریخ بھی رہی ہے اور ہمارا حا ل بھی اس کا زندہ و جاوید ثبوت پیش کر رہا ہے۔ یہ کوئی وہم و خیال کی سرگردانی نہیں ہے بلکہ ثقہ تاریخی روایات اور تہذیبی وتمدنی کوائف و حا لات اس کا ثبوت فراہم کررہے ہیں۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے بلکہ آثار و قرائن اس کے شاھد عادل رہے ہیں ۔یہ کوئی خوش فہمی نہیں ہے جسے دل بہلائی کے لئے رقم کیا گیا ہو بلکہ اقوام غیر اس کے معترف رہے ہیںآج کے ترقی یافتہ دور اور سائنس و ٹیکنا لو جی کے زمانہ میں جب ہم تا ریخ کی کتا بوں کی ورق گرادانی کر تے ہیں تو اس بات کا پتہ صاف اور واشگاف انداز میں مل جاتا ہے کہ کشمیر مختلف ادوار میںکئی تہذیبوں ، ثقافتوں ،تمدنوں اور روایتوں کی نہ صرف آماج گاہ رہ چکی ہے بلکہ اس خطہ ٔ ارض میں مختلف تہذیبیں، ثقافتیں ، تمادین اور روایات پروان بھی چڑھے ہیں ۔ یہ محض مفروضے نہیں ہیں بلکہ باریک بین ٹیکنالوجی کے طور طریقوں نے اسے ثابت کر دیا ہے۔ حساس سائنسی تکنیک سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ وادیٔ کشمیر اور اس کو احاطے میں لئے ہوئی شاداب پہاڑیاں اور جان فزاء کو ہستانوں میں انسانی تاریخ کے پتھر کے عہد سے انسانی آبادی مو جود رہی ہے۔ کئی ہزار صدیاں ما قبل انسانی تہذیب کے نشانات اور آثار وقتاًفوقتاً ماہرین آثار قدیمہ کو یہاںہاتھ لگے ہیں اور آج کی تاریخ میں بھی یہاں کے عجا ئب گھر میں موجود ملتے ہیں ۔ مختلف الانواع کے ا ن آثار اور نشانات کی دریافت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ قدرت کی طرف سے بخشے ہو ئے بے مثا ل حُسن و جمال اور سٹریٹجک محل و قوع کی حامل اس خطہ ارض نے ہمیشہ سے دنیا بھر کی تہذیبوں اور قوموں کو اپنی طرف کھینچ لا یا ہے۔ جنہوں نے یہاں اپنی فن و ثقافت ،تمدن و روایات ، علم و آگہی ، مذہبی رسوم و عبادات ، فنون لطیفہ ، معیشت و معاشرت کے انمٹ نقوش ثبت کر دئے ہیںاور ہماری تاریخی ورثہ کا جزء لاینفک بن چکے ہیں اورجو ہماری شاندار تاریخ ، درخشان فہم و فراست ، ذوق و شوق اور شعوری روایات کا آئینہ دار ہیں ۔ہمارے ماضی کی تاریخ کا یہ بیش بہا سرمایہ جو مختلف صورتوں میں ہم تک منتقل ہو چکا ہے اس بات کا مقتضی ہے کہ اسے نگہداشت میں رکھ کر انتہائی ذمہ داری سے محفو ظ رکھا جائے ۔ لیکن ہماری حرمان نصیبی یہ رہی ہے کہ ارباب اقتدار اس حو الہ سے عدم دلچسپی کا مظا ہرہ کرتے آرہے ہیں اور متعلقہ محکمہ اس تاریخی ورثہ کی حفاظت کرنے میں اپنا رول نبھانے میں کامیاب نہیں رہا ہے ۔ نتیجتاً کئی اہم تاریخی نوادرات ، مصنوعات، قیمتی سکّے،نا یاب دستاویزات، قلمی نسخے، فن پارے ، ادبی نسخے، مختلف مو ضو عات پر نا یاب کُتب، مذہبی تبرکات اور انمو ل نمو نوں سے ہمیں محروم ہو نا پڑا ہے۔ 
مختلف الانواع تاریخی ورثہ کی حفاظت کے لئے 1889ء میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے نا م سے ایک میو زیم کی بنیا د ڈالی گئی جو بعد میں جنوبی ایشاء کے بہترین عجائب گھروں میں شمار ہو ا۔اس میں آثار قدیمہ کی مصنوعات اوراشیاء نما ئش کے لئے رکھی گئی ہیں ۔ اسی (۸۰) ہزار انواع پر مشتمل یہ اشیاء آثار قدیمہ، قدیم سکوں،فن تزئین، اسلحہ و اسلحہ سازی، حرب و ضرب، نقش نگاری، مصوری ، خطاطی،دستاویزات، قلمی نسخو ں، فنون لطیفہ، فن کاری ، نایاب کپڑے، ملبوسات ، قیمتی تحائف ، معدنی دھات وغیرہ سے متعلق ہیں ۔ یہ میو زیم محض ایک محافظ خانہ نہیں جس میں بڑی تعداد میں آثار قدیمہ کی اشیاء کو لا لاکر جمع کرلیا گیا ہو بلکہ اس میں مو جود ہر شئے اپنے اندر ایک تاریخ سمیٹے ہوئی ہے جو ہماری تہذیب کی نما ئندہ ہے، ثقافت کا پرتو ہے ،تمدن کا عکس ہے ، زمانے کی آنکھوں دیکھی تاریخ ہے،روایات کا نمونہ ہے ۔ یہ ہمارا تاریخی اور اجتما عی ورثہ ہے جس سے ہماری پہچان جھلکتی ہے ،جو ہمیں اپنے ما ضی سے روشناس کر اتا ہے ۔ یہ چیزیں تاریخ کے سفر میں قوموں کے نشیب و فراز ، حسین و قبح ، ذوق و شوق ، میلانات و ترجیحات کا آئینہ دار ہو تا ہے ۔ جس پر حال کا انسان اپنی معاشرت استوار کرتا ہے اور مستقبل کے لئے منصوبہ بندی انجا م دیتا ہے۔ ایس پی ایس میو زیم میں پائے جانے والا یہ تاریخی ورثہ ہمارے لئے محض نمائش اور زیبائش کا سامان نہیں ہے بلکہ یہ انسانی تاریخ کی رو داد ہے جو گزشتہ زما نے کی پوٹلی میں بند ہوکر ہما رے پاس پہنچی ہے ۔ اس سرمایے کو گم گشتہ کر نا اور ا س سے لا تعلق رہنا کسی ذمہ دار قوم کے شایان ِ شان نہیں ہو سکتا ہے ۔ اگر ایسا مزاج کسی قوم کے اندر پایا جا تا ہو تو جان لینا چا ہئے ایسی قوم اپنے پیچھے کو ئی درخشان تاریخ نہیں چھوڑ سکتی ہے اور انسانی تاریخ میں آنے والے زمانے میں اس کا نام و ذکر بھی مو جو د نہیں رہ سکتا۔ اپنے تاریخی میراث کی حفاظت کر نا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے ہم سب کو اپنی حیثیت میں رول نبھا نا ہو گا۔ 
تاریخ کے مطا لعہ اور واقعات کی تفصیل سے بخو بی معلوم ہو جا تا ہے کہ آثار قدیمہ اور دیگر نایاب وقیمتی اشیاء اور بیش بہا سرمایہ کُتب پر مبنی ہمارا یہ تاریخی ورثہ کئی دفعہ حوادث زمانہ اور خود غرض اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے لو گوں کے ہاتھوں ڈاکہ زنی کی نذر ہو گیا ہے۔ محافظ خانوں میں مو جو د نایاب و بیش بہا اشیاء اور تاریخی اہمیت کی حا مل چیزوں کو لو ٹاگیا ہے ۔ ایس پی ایس میوزیم کو قائم کئے ہوئے صر ف اُنیس سال بعد ہی اس میں چوری کی واردات واقع ہو گئی ہے جس کے دوران کئی قیمتی اشیاء جیسے جما وار، ریشمی کمخواب، شاہ پسند،کنہ توسہ شال،پشمینہ لباس،قیمتی دھات وغیرہ کی چوری کی گئی۔ 1917ء میں دو پہرہ داروں کی مو جو دگی کے با وجود میو زیم میں چوری کی گئی جس کے دورا ن افغان ، سکھ اور ڈوگرہ حکومت کے دور کے اڑسٹھ اشیاء اُڑا لئے گئے۔1973ء میں میوزیم میں پھر ایک بار چوری کی و اردات واقع ہو گئی جس میں کئی پُتلے اور بُت اُڑالئے گئے۔ پولیس نے لاحاصل تحقیقات میں کئی سال صرف کر کے 1975ء میںکیس کو یہ کہہ کر بند کر دیا کہ پولیس کو چوروں کا کو ئی پتہ نہیں مل سکا۔ تیس سال کے عرصہ کے بعد 2003ء میں میوزیم میں چوری کی ایک اور واردات واقع ہو گئی جس میں سترہویں صدی عیسوی کے  قران  کے بیش بہا عربی قلمی نسخہ کی چوری کی گئی۔ قران کے اس قلمی نسخہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مغل بادشاہ اورنگ زیب علم گیر کے ہاتھ سے لکھا ہو ا نسخہ تھا۔قران کے اس نادر قلمی نسخہ کی چوری سے لو گوں کے اندر زبردست تشویش پھیلی۔ لیکن آج تک اس سے بازیاب نہیں کیا جا سکا ہے ۔ 2008ء میں میو زیم سے 84سونے اور چاندی کے سکوں کے غائب ہو نے کی خبر رونما ہو گئی۔1989ء  میں ہارون سرینگر میں پائے جانے والی قدیم بودھ مقام سے بیش بہا آثاریاتی قدر وقیمت رکھنے والی ٹیرا کوٹاٹائلوں کو اُڑا لیا گیا ہے۔ یہ ٹائلیں تیسری اور چوتھی صدی عیسوی کے زمانہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ایک طرف سے اس تاریخی ورثہ کو لوٹنے کے لئے چوری اور ڈاکہ زنی کی کئی وارداتیں واقع ہوتی گئیںاور حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی ہے تو دوسری طرف جموں و کشمیر سرکار نے اس تاریخی اور قومی میراث میں سے کئی قیمتی اشیاء کو ریاست سے با ہر مختلف عجائب گھروں اور اداروں کو بطور تحفہ بھیج دیا۔ جن میں 1958ء میں موتی لال نہرو چلڈرن سینٹر لکھنو کو 30 نادر قدیم سکے، قدرتی تاریخ اور فن زیبائش سے متعلق اشیاء شامل ہیں۔ 1973ء میں حکو مت جمو ں و کشمیر نے ہماچل پردیش حکو مت کو شملہ میں عجائب گھر قائم کر نے کے لئے 35آثار قدیمہ کی اشیاء، 31قدیم سکے ، قلمی نسخے، اسلحہ سازی اور مصوری سے متعلق قدیم اور وسطی عہد کشمیر سے تعلق رکھتے تھے۔ تحفوں کی صورت میں میراث کشمیر کو دوسری ریاستوں کو روانہ کر نے اور ریاست جموں و کشمیر کو اسے محرومی سے دوچار کرنے کے علی الرغم حکومت اس سرمایہ کی حفاظت کرنے میں بھی غفلت شعاری کا مرتکب رہی ہے۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ کئی نادر اور نایاب اشیاء کو کاربن ڈیٹنگ اور ضروری مرمت کی غرض سے وادی سے با ہر بھیج کر پھر انہیں واپس لانے کی کوئی پرواہ نہیں کی گئی۔ کئی سیاح اور اسکالر کشمیر آکر یہاں ثقافتی اور تمدنی اہمیت کی انتہائی حامل اشیاء جمع کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ ساتویں صدی عیسوی میں بودھ چینی سیاح اور اسکالر ہیون سانگ(Heun Tsang) نے اپنے دو سالہ قیام کے دوران کئی قلمی نسخے ، مذہبی کُتب، بودھ مذہب کے تبرکات اور دیگر اشیاء اکٹھا کرکے بیس گھوڑوں پر لاد کر اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ انیسویں صدی میں برطانوی۔ہنگری اسکالر سرائیرل سٹین(Sir Aurel Stain)  جس نے کلہن کی راج ترنگنی کا ترجمہ کیا ہے اور سنسکرت لٹریچر کا دلدادہ ما نا جاتا ہے نے ٹنوں کے وزن میں یہاں سے ہمار ا تاریخی سرمایہ اپنے ساتھ لے گیا۔ اس طرح سے بہت سے بیرونی سیاحو ں اور اسکالروں نے ہمارے تاریخی ورثہ پر ہاتھ صاف کئے ہیں ۔ 
کشمیر کے نایاب اور تاریخی ورثہ گلگت مخطوطات کو کھسکنے کی ایک اچھوتی مثال قائم کر کے 1948ء میں حفاظت کے بہانے سرینگر سے دہلی منتقل کیاگیا ۔ چونکہ تقسیم ہند کے بعد کشمیر تنازعہ پر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ چل رہی تھی۔ بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے دست راست کشمیر کے اُس وقت کے ایمرجنسی ایڈمنسٹریٹر شیخ عبداللہ کو پٹی پڑھائی کہ مخطوطات ِگلگت (gilgit manuscripts)کو خطہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں تلف ہو نے کا خطرہ لا حق ہو چکا ہے، خطے میں حا لات نارمل ہو نے تک ان کو حفاظتی غرض سے دہلی منتقل کر نا نا گزیر بن گیا ہے۔ پنڈت نہرو نے ان نا در مخطوطات کو دہلی لینے کے لئے ایک سپیشل جہاز اس وعدے کے ساتھ کہ حالات سازگار ہو نے پر انہیں و اپس بھیجے جائے گا، سرینگر بھیج دیا ۔ گلگت مخطوطات کے علاوہ سینکڑوں دیگر قلمی نسخے اور مخطوطات کو مرمت کر نے کی غرض دہلی لے جایا گیا جنہیں آج تک  وہاں سے واپس نہیں لایا جاسکا ہے۔ ریسرچ لائبریری حضرت بل سری نگر کے ریکارڈ سے اس بات کا انکشاف ہو تا ہے کہ 1948ء میں کم و بیش 212سنسکرت مخطوطات اور قلمی نسخے نیشنل آرکائوز دہلی بھیجے گئے تھے جنہیں آج تک مسلسل اس ادارے نے اپنے قبضہ میں لے رکھا ہواہے ۔ پنڈت نہرو چو نکہ تاریخ اور تمدن و ثقافت کے شناساور تھے ۔ ان مخطوطات کی تاریخی اہمیت اور بیش بہا سرمایہ سے بخوبی واقف تھے ۔ ان مخطوطات کو واپس لوٹانے کے ایفائے عہدکے ساتھ جو اہرلال نہرو نے بعینٖہ وہی سلوک کیا جو موصوف نے کشمیری قوم کے ساتھ لا ل چوک سری نگر میں شیخ عبداللہ کی مو جو دگی میں اہالیان ریاست ں کو حق خو د ارادیت دینے کے اپنے وعدے کے ساتھ کیا ۔شیخ عبداللہ اپنے دوست کے ایفائے عہد کے انتظار میں خود بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے مگر ’’دوست ‘‘کا عہدو پیما ن ابھی تک تشنہ ٔ تکمیل ہے۔ غرض ہمارا تاریخی ورثہ بھی ہم سے چھینا جاتا رہا اور ہمارے پیدائشی حق استصواب رائے کو بھی بزور بازو ہم سے تاحال سلب کیاجاتارہا اور ہم بے دست وپا اپنی بربادی کا افسانہ دیکھتے رہے۔ 
کشمیر کے تاریخی میراث میں فکری ورثہ کی صورت میں نادر اور قیمتی کتب بھی ہیں لیکن شو مئی قسمت کہ لو گوں نے ان میں سے ایک بڑی تعداد کو کتب خا نوں اور لائبریریوں سے عاریتاً حا صل کر کے سال ہا سال بعد بھی واپس نہیں لوٹایا گیا۔ ریاست کی پبلک لائبریریوں سے 36969کتابیں لو گوں نے مبینہ طور حا صل کر کے ہڑپ کر لی ہیں۔33200کتا بیں ریکارڈ میں سے مبینہ طورگم ہیں جن میں قیمتی اور نا یاب کتابیں شامل ہیں۔ سرینگر کے ایس پی ایس لا ئبریری سے 5365کتابیں گم اور 2616کتابیں لو گوں نے حاصل کر کے اس اہم کتب خانے کو واپس نہیں کی ہیں۔ رہی سہی کسر ۲۰۱۴ کے سیلاب نے نکالی کہ سار بک کلیکشن تلف ہوا۔ اسی طرح کشمیر یونیورسٹی لائبریری اور دوسری لا ئبریریوں کا حا ل بھی یہی ہے۔2003-2004 ء میں کشمیر یو نیورسٹی کی علامہ اقبال لائبریری کی سٹاک ٹیکنگ یعنی کتابوں کی شیلفوں پر مو جودگی اور عدم موجودگی کی جانچ پڑتال کی گئی، ایک سال کی مدت میں یہ کام مکمل کیا گیا ۔ اس سے حیرت ناک با ت کا انکشاف ہوا کہ مذکورہ لائبریری سے 40,000 کتابیں مبینہ طور غائب ہیں ۔ اسی طرح مختلف لائبریریوں سے کتابیں حا صل کی گئی ہیں اور پھر انہیں واپس نہیں کیا گیا ہے۔ کئی ایک لائبریریوں کی کتابیں ہڑپ کرنے والوں کی اکثریت سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے افراد اور اشرافیہ سے وابتہ آفسروں کی ہے ۔ اس کے بعد2014 ء کے تباہ کن سیلاب سے لا کھوں کی تعداد میں کتب ضائع ہو گئیں۔ لائبریریوں کی لائبریریاں تباہ و بر باد ہو کر رہ گئیں اور ہمارے خزانۂ کتب کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔ یوں ہمارے تاریخی ورثہ ، قومی و اجتماعی میراث کو مسلسل نقصانات سے دوچار ہو نا پڑا ہے ۔ حکو مت اور متعلقہ محکمہ کو چا ہئے کہ وہ اس حوالہ سے ہو ش کے نا خن لیں ۔ ا س سے پہلے کہ ہم اپنے تاریخی ورثہ کو لٹ جا نے کا مزید تماشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر صرف کف افسوس ملتے رہیں ، عقل وفہم کا تقاضا ہے کہ منصو بہ بندی سے کا م لے کرتاریخی ورثے کے رہے سہے تمام خزانوں کو محفوظ کیاجائے ۔ میوزیم ، محافظ خانے، کتب خانوں ، نوادرات ، تاریخی مقامات و عمارات اوراسلاف کے ورثے و غیرہ کے انتظام و انصرام میں سنجیدگی ، شفافیت،منصوبہ بندی اور تکنیکی مہارتوں کا استعمال کیا جائے تاکہ اس تاریخی ورثہ کے ساتھ ساتھ ہم اپنی منفرد پہچان کو زمانے  کے دست برد سے محفوظ رکھ سکیں۔    