ہل ڈیولپمنٹ کونسل نہ صوبے کادرجہ ،یہ امتیازنہیں توکیاہے ؟عوام حکومت سے نالاں

منڈی// لداخ کوصوبہ کادرجہ دینے کے بعدخطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کے لوگوں میں متعلقہ خطوں کوصوبوں کادرجہ نہ دینے کی وجہ سے ریاستی حکومت کے تئیں غم وغصہ پایاجارہاہے اوریہ مانگ کی جارہی ہے کہ فوری طورپر خطہ پیرپنچال اورخطہ چناب کوصوبے کادرجہ دیاجائے ۔۔اس سلسلے میں پونچھ ضلع کے معززین نے کہاکہ جب گورنر انتظامیہ نے لداخ کو صوبے کا درجہ دینے کے احکامات صادر کیے گئے جس کاہم خیرمقدم کرتے ہیں لیکن خطہ پیرپنچال اورخطہ چناب کونظراندازکرناباعث تشویش بات ہے۔انہوں نے کہاکہ یاستی گورنر انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کو بھی صوبے کا درجہ دیں ۔اس سلسلے میںپی ڈی پی کے سینئر لیڈر شمیم احمد گنائی نے اس حوالے سے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لداخ کو صوبے کا درجہ دینے سے بہتر یہ تھا کہ خطہ پنچال اور خطہ چناب کو یہ درجہ دیا جاتا کیونکہ لداخ پہلے سے ہی ہل ڈیولپمنٹ درجے سے فیضیاب ہورہاہے ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے پیر پنچال اور چناب کی عوام میں ایک الگ رجحان پیدا ہوگا نیز اگر ایک شخص دریا کے کنارے پر رہ کر سیراب ہو رہا ہو اور ایک شخص پانی سے محروم ہو تو اس وقت سیراب ہونے والے شخص سے قبل پیاسے شخص کو پانی سے سیراب کرنا اشد ضروری ہے۔انہوں مزید کہا کہ خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کی عوام کو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خطہ پیر پنچال اور چناب کو اس درجے سے محروم کرنے کے پیچھے جہاں دیگر متعدد وجوہات ہیں وہیں ایک وجہ یہاں کی سیاسی قیادت بھی ہے ۔پیر پنچال عوامی ڈولپمنٹ کے چیر مین مولوی محمد فرید ملک نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گورنر انتظامیہ کو اس معاملے میں سنجیدہ غورکرنا چاہیئے اور لداخ کے ساتھ ساتھ خطہ پیر پنچال اور چناب کو بھی صوبے کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں خطوں کو ہر حکومت نے ہر طرح سے نظر انداز کیا ہے اور جب ہم ہل ڈولپمنٹ کی مانگ کرتے ہیں تو ہمیں اس سے بھی محروم رکھا جاتا ہے جو واضح طور پر دونوں خطوں کی عوام کے ساتھ نا انصافی ہے انہوں نے مزید کہا کہ آج تک کی سابقہ حکومتوں اور گورنر انتظامیہ نے خطہ پیر پنچال اور چناب کو نظر انداز کر کے اس بات کو صاف کر دیا ہے کہ وہ ان علاقہ جات میں ترقی کے خواہاں نہیں ہیں اور انہیںترقی کے نقشے پر دیکھنے کی متمنی نہیں ہیں۔
 
جاوید اقبال
 
مینڈھر//مینڈھر علاقہ سے تعلق رکھنے والے متعددسیاسی وسماجی کارکنان نے گورنر انتظامیہ اور مرکزی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی گورنرکی طرف سے خطہ پیرپنچال کی امنگوں کااحترام نہ کرنے سے حالات خراب ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ لیہہ لداخ کو صوبہ کا درجہ دے کر گورنر نے اچھافیصلہ لیالیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ خطہ پیر پنچال کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے ۔اس سلسلہ میں بار ایسوسیشن کے صدر شوکت چوہدری، ایڈوکیٹ انظار خان،ایڈوکیٹ شمیم احمد خان،ایڈوکیٹ اکبر حسین خان،ایڈوکیٹ دلیر خان،ایڈوکیٹ الیاس خان،ایڈوکیٹ ابرار احمدخان،ایڈوکیٹ علی سعید بیگ،ایڈوکیٹ تنویر اقبال قریشی،ایڈوکیٹ غضنفر احمد خان کے علاوہ کئی سیاسی و سماجی لوگوں نے ریاستی ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے برہمی کااظہارکیا۔انہوں نے کہا کہ گورنر انتظامیہ نے مرکزی حکومت کے اشارے پر لیہہ لداخ کو صوبہ کا درجہ دے کر خطہ پیر پنچال کو نظر انداز کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گورنر انتظامیہ کوفوری طور پر خطہ پیر پنچال کو صوبہ کا درجہ دیناچاہیئے کیونکہ خطہ پیر پنچال کے پچھڑا  ہوا علاقہ ہے اور جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں  وہ خطہ پیر پنچال کے اندر ہوئی ہیں اور لوگ کئی قسم کی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر خطہ پیر پنچال کو جلد از جلد صوبہ کا درجہ نہ دیا گیا تو خطہ پیر پنچال سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ مرکزی حکومت اور گورنر انتظامیہ کے خلاف احتجاج کریں گے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ جب سے ریاست میں نئے گورنرنے عہدہ سنبھالا ہے تب سے ریاستی گورنر نے متعدد سیاسی بیانات دئیے ہیں جبکہ ان پر ریاستی حالات کو قابوکرنے کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطہ پیر پنچال کو نظر انداز کرکے ریاستی گورنر نے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے اور مرکزی حکومت نے جان بوجھ کر خطہ پیر پنچال کے لوگوں کو نا انصافی کاشکاربنایا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ گورنر انتظامیہ نے مرکز کے کہنے پر فیصلہ لیا ہے جبکہ لیہہ لداخ کو پہلے بھی کئی طرح کے مراعات سے نوازا گیا ہے اور خطہ پیر پنچال کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے اس لیے حکومت کو خطہ پیر پنچال کو صوبہ کا درجہ دینے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہیئں۔انہوں نے کہاکہ اگرایسانہ ہواتوریاست میں حالات خراب ہوں گے جس کی ذمہ داری ریاستی حکومت پرعائدہوگی۔