ہفرڈہ رامحال میں طبی سہولیات کا فقدان

کپوارہ// ضلع کپوارہ کے دور دراز علاقوں کی آبادی کو معقول طبی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ہندوارہ سے 24کلو میٹر دور ہفرڈہ کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ یہا ں  محکمہ صحت کی جانب سے ایک سب سنٹر قائم کیا گیاتھا جس کو4سال قبل درجہ بڑھا کر نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر بنایا گیا لیکن 4سال گزر نے کے باجود بھی اس طبی مرکز میں طبی اور نیم طبی عملہ کو تعینات نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہا ں کے مریضوں کو اسپتال کا درجہ بڑھانے کے با وجود بھی ضلع کے دیگر اسپتالو ں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں نے بتا یا کہ علاقہ رامحال کے ویلگام اور تارت پورہ میں اگرچہ سرکاری پرائمری ہیلتھ سنٹر موجود ہیں تاہم ان اسپتالو ں میں بھی معقول طبی سہولیات میسر نہیں ہیں اور ہفرڈہ کے مریضوں کو 24کلو میٹر دور ضلع اسپتال ہندوارہ یا سب ضلع اسپتال کپوارہ کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں نے بتایا کہ جب سب سنٹر ہفرڈہ کا درجہ بڑھایا گیا تو لوگوں کی خوشیوں میں اضافہ ہوا تھا لیکن ابھی تک یہا ں کے لوگو ں کو اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچ پایا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے دوران اس علاقہ میں بھاری برف باری ہوتی ہے اور اگر اس دوران یہا ں کسی مریض کی حالت نازک بن جاتی ہے تو اس کو چارپائی پر لاد کر اسپتال لے جانا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہفرڈہ نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر میں ڈاکٹر کو تعینات کریں تاکہ یہا ں کے مریضوں کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہیں ہونا پڑے ۔اس سلسلے میں چیف میڈیکل افسر کپوارہ ڈاکٹر معراج احمد نے بتا یا کہ ہفرڈہ میں نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن ابھی تک ڈاکٹر تعینات کرنے کو منظوری نہیں مل گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے 20روز میں اُن اسپتالو ں میں ڈاکٹرو ں کو تعینات کیا جائے گاجہاںکمی ہے اور ہفرڈہ کیلئے بھی ڈاکٹر کو تعینات کیا جائے گا ۔